خدا اور مذہب کی ضرورت ہمیں کیوں ہے ؟

اگرخدا کا وجود ایک حقیقت بھی ہے، تب بھی، اسے 'مان لینے' پر کیوں اصرار ہے؟

 بہت سی چیزیں دنیا میں وجود رکھتی ہیں، میرے ماننے یا نا ماننے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ مثال کے طور پر افریقہ کے کسی دور دراز جنگل میں کوئی درخت ہے، اگر یہ ایک حقیقت ہے تو میرے ماننا کیوں ضروری ہے؟ باالفاظ دگر خدا اور مذہب کی ضرورت ہمیں کیوں ہے؟

جواب: خُدا کو مان لینے پر کیوں اصرارہے اس سوال کا جواب دینے سے پہلے یہ حقیقت اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ  خُدا اور مذہب  کا تصور فطرت انسانی کا جزو لاینفک اور لازمی حصہ ہے،  خُدا  کو پالینے کی طلب اور اُس پر اپنا سب کچھ نچھاور کردینے کا جذبہ اسقدر حقیقی اور انمٹ ہے کہ انسان  عمر کے کسی حصے میں بھی اس سے آزاد نہیں ہوسکتا، انسان کی فطرت میں ایک خالق و مالک کا شعورپیدائشی طور پر پیوست ہے، وہ اُس کے شعور کا لازمی جُزو ہے، ''خُدا میرا خالق ہے اور میں اُس کا بندہ ہوں''  یہ ایک خاموش عہد ہےجو ہرشخص روزِ اوّل سے ہی  اس دنیا میں لےکر آتا ہے، ایک آقا ومحسن کا تصور غیر محسوس طور پر اُسکی رگوں میں دوڑتا رہتا ہے،  جس کے بغیر وہ ایک عظیم خلاء اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   رباعی کے ”دو“ اوزان

خُدا کو پالینا درحقیقت اس جذبےکے صحیح مرجع کو پالینا ہے، اور جو لوگ خُداکو نہیں پاتےیا بزعم خود اُس کے وجود کاانکارکرتے ہیں وہ دوسری مصنوعی چیزوں کی طرف مائل ہوجاتے ہیں، چنانچہ خُدا پر ایمان لانا خود فطرت ِ انسانی کی پُکار ہےاور خُدا کا دین اُس پکار کا الہامی جواب ہے۔

فطرت انسانی میں ناصرف یہ کہ ایک خُدا کا تصور پیدائشی طورپر موجود ہوتا ہے بلکہ نیکی و بدی، خیر وشر بھی وہ وبنیادی حقیقتیں ہیں جن کا شعور انسانی نفس میں خُدائی الہام کی صورت موجود  ہے،  انسان چاہے کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہو،یا خواہ ملحد ہی کیوں نا ہو، وہ اس شعور سے عاری نہیں ہے کہ اس کے سامنے زندگی گزارنے کے دو واضح راستے موجود ہیں، ایک خیر کا رستہ ہے اور دوسرا شر کا راستہ، ایک سچائی کا راستہ ہے اور دوسرا جھوٹ کا راستہ۔

انسان اس حقیقت سے بھی بخوبی واقف ہے کہ اُس کے اندر ایک ایسی آواز ہے جو بتاتی ہے کہ سچائی کا راستہ ہی صحیح راستہ ہے، اور جھوٹ، دغابازی، دھوکہ دہی،خودغرضی، اور نفسانی خواہشات کو بےدریغ پورا کرنے کا راستہ صحیح راستہ نہیں ہے،انسان کے وجدان کی اسی آواز کو 'ضمیر' کہاجاتاہے،ضمیر انسانی دُنیا میں خداکی ایسی عدالت ہے جس کو اگر تھپک کر سُلا نا دیاگیا ہو تو اس کاہرفیصلہ جانبِ حق ہی ہوتاہے۔

یہ بھی پڑھیں:   صحت مند ٹانگیں، صحت مند دماغ

دوسری طرف انسان کے اندر طاقتور نفسانی خواہشات بھی موجود ہیں جن کو پورا کرنے میں وقتی طور پر بڑی لذت محسوس ہوتی ہے، اور بعض اوقات یہ خواہشات کسی بےلگام جانور کی طرح انسان کے کنٹرول سے باہر ہونے لگتی ہیں، انہی نفسانی خواہشات کے زور پر انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ کسی دوسرے کی پرواہ کیے بغیر  وقتی لذت حاصل کرنے کے لیے سب کچھ کرگزرے،دیکھا جائے تو انسان کی پوری زندگی اسی کشمکش  سے عبارت ہے۔

اب اگر انسان یہ یقین کرلے کہ خُدا موجود ہے اور اس نے خیر و شر کا شعور دےکر انسان کو دنیا میں بھیجا ہے تو وہ ساری زندگی اپنے ضمیر کے کہنے پر چلےگا، اس کے بالکل برعکس اگر وہ یہ مان لے کہ اس کے اوپر کوئی برتر ہستی حکمران نہیں ہے تو پھر انسان کچھ نہیں فقط مادے کا ڈھیر ہے، پھر ہررشتہ، ہر اجتماعیت، ہر محبت، ہرقانون اور ضمیر کی آواز سب بےمعنی چیزیں ہیں،پھر وقتی لذت ہی اصل حقیقت ہے جس کوپورا کرنے کےلیے ہر راستہ اختیار کرنا جائز ہے، ہرقانون توڑ دینا اس کا حق ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   سائنس کی حتمیت

چنانچہ خدا پر ایمان کے بغیر انسان نفس کا بےلگام جانور ہے،جو اگر تسلیم کرلیاجائے تو انارکی اور انتشار دنیا کا مقدر ہے،

گویا خدا کو تسلیم کرنے یا ناکرنے پر انسان کے عملی رویّے کا انحصار ہے، صاحب ایمان ہونا ایک زمہ دار انسان ہونے کے مترادف ہے، خُدا پر ایمان ہی وہ واحد چیزہے جو انسانی زندگی کو بامعنی اور بامقصد بناتی ہے، اس کے بعد انسان اپنی زندگی کا وہ برترمقصد پالیتا ہے جس کی جانب وہ اطمینان سے بڑھ سکے،  خُدا کے انکار کی صورت میں انسان انتشار اور مایوسی کے سوا کہیں نہیں پہنچتا۔

(559 مرتبہ دیکھا گیا)

سید اسرار احمد

سید اسرار احمد ایک متحمل اور بردبار شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کی تحریروں میں علمی اور فکری بالیدگی نمایاں ہوتی ہے۔ ان سے جڑے رہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں