خدا کا خالق کون ہے؟

 

اگر یہ بات تسلیم کرلی جائے کہ ہر چیز کا کوئی نا کوئی خالق ہے، تو فورا" یہ سوال زہن میں آتا ہے کہ پھر خدا کا خالق کون ہے؟

خدا کا خالق

الٰہیات کے معاملے میں جدید ذہن سخت کنفیوژن کا شکار ہے – بالخصوص علت و معلول (Cause & Effect)  کی لامتناہی (Endless) بحث کے پیش نظر زمانہ قدیم سے ہی  فلاسفہ کے ہاں بحث و مباحثے رائج رہے ہیں، ملحد فلاسفہ اکثر یہ کہتے رہے ہیں کہ اگر مذہبی عقیدے کے مطابق ، خدا نے کائنات کو بنایا تو خود خدا کو کس نے بنایا۔

ایک جدید ذہن کے لیے بھی یہ سوال اکثر ذہنی پریشانی کا سبب بنتا ہے کہ ہر چیز کا خالق ہے تو خدا کو کس نے تخلیق کیا۔ مگر فی الحقیقت اس سوال پر معمولی سے ہی غور و فکر سے واضح ہوجاتا ہے کہ اس طرح کے سوالات  اصلا" منطقی مغالطوں پر مبنی ہیں ۔

1۔ یہ سوال نہ صرف منطق کی نفی ہے کرتا ہے بلکہ مزید یہ کہ مذکوره اعتراض ایک کهلی تضاد فکری پر مبنی ہے ۔ یہ لوگ خود تو کائنات کو بغیر خالق کے مان رہے ہیں ، مگر خالق کو ماننے کے لیے وه ایک خالق کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ حالانکہ کائنات کا وجود اگر بغیر خالق کے ممکن ہے تو خالق کا وجود بهی بغیر خالق کے ممکن ہونا چاہیے۔اگر آپ خدا  کے خالق نہ ہونے کی وجہ سے اس کا انکار کرتے ہیں تو پھر لامحالہ آپ کو کائنات کے وجود کا بھی کرنا چاہیے کہ آپ کے نزدیک اس کا کوئی خالق نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   شعر کے اجزا کیا ہیں؟

جب کائنات کو بغیر کسی خالق کے مانا جاسکتا ہے تو پھر  خالق  کا وجود بھی بغیر خالق کے ماننا غلط نہیں ہونا چاہیے۔ عقلی اعتبار سے بھی ایک صاحب حکمت اور مدبر ہستی کو خالق ماننا زیاہ معقول ہے بنسبت اس کے کہ ہم بے شعور مادے کو  بغیر کسی خالق کے مان لیں۔

2۔ہماری رائے میں یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ 'ہر چیز' کا کوئی نا کوئی خالق ہے، درست بات یہ ہے کہ ہر مخلوق کا کوئی نہ  کوئی خالق ہے، خدا چونکہ 'مخلوق' نہیں ہے اس لیے اس کا کوئی خالق بھی نہیں ہے۔
3۔جدید منطق و فلسفہ کا بیان کردہ ایک اہم مغالطہ کٹیگری مسٹیک (category mistake) کہلاتا ہے۔یعنی ہر وجود کو ڈیفائن کرنے والی صفات کی وجہ سے اس کے متعلق بعض سوالات از خود ہی غیر متعلق یا غیر منطقی ہوجاتے ہیں جو کسی دوسری صفات کے حامل وجود کے متعلق ہوتی ہیں۔مثلاً یہ پوچھنا کہ ‘‘یہ انڈے کس درخت میں اُگے؟ بالکل ہی غیر متعلق ہے۔یا بوتل بنانے والی مشین کے بارے میں پوچھنا کہ یہ مشین کون سی بوتل میں بنی ہے؟ بالکل ہی غیر منطقی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   جنسیات اور ہمارے مغالطے (حصہ دوم)

اسی طرح خدا ڈیفائن کرنے والی ایک بنیادی صفت الصمد یعنی قائم بالذات اور خالق یعنی تخلیق کرنے والا ہے۔ جب اپنی تعریف میں ہی وہ اس کائنات کا خالق  ہے تو پھر  اس پر مخلوق ہونے کا سوال کیونکر کیا جاسکتا ہے؟

خدا کے خالق نہ ہونے کی بنا پر خدا کا انکار کرنا ایک فکری تضاد پر مبنی رویہ ہے۔ اگر آپ خدا  کے خالق نہ ہونے کی وجہ سے اس کا  انکار کرتے ہیں تو پھر لامحالہ آپ کو کائنات کے وجود کا بھی کرنا چاہیے کہ آپ کے نزدیک اس کا کوئی خالق نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   پیش خیمہ موت کا خوابِ گراں ہو جائے گا

4۔ایک بڑی غلطی یہ بھی ہے کہ ہم اس معاملے میں کائنات کے اصول علت و معلول کا اطلاق خدا پر کررہے ہوتے ہیں۔ کائنات کو بنانے والے خدا پر مادی کائنات کے ہی اصولوں کا اطلاق ممکن نہیں۔ کیونکہ خدا پر نہ تو کوئی زمانے کی پابندی ہے نہ کوئی مکان۔ اس کا وجود کائنات کی سرحدوں سے ماورا ہے۔ لہٰذا اسے قائم بالذات ماننا ضروری اور علت و معلول کا اطلاق اس کے خالق پر کرنا غیر منطقی ہے۔

(945 مرتبہ دیکھا گیا)

سید اسرار احمد

سید اسرار احمد ایک متحمل اور بردبار شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کی تحریروں میں علمی اور فکری بالیدگی نمایاں ہوتی ہے۔ ان سے جڑے رہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

6 تبصرے

  1. bohot khoob!!! Jazak Allah Khair Asrar Bhai.

  2. Ye article merey liyey malomatti hey.....or main isey or bhi parhney kee koshish kar raha hon ttakey mujhey ye theek sey samajh aasakey.....main samjhtta hon k is main kaffi sarey aisey sawalonn k jawaab hain jo merey zahan main hain....main apka buhutt shukar guzarr bhi hon is k liyey.... or is baatt k liyey bhi k mujhey aisa platform mila hey jahan sey main apni malomaatt main kaee qaddar izaffa kar saktta hon.

  3. Sheikh M.Tanveer says:

    ماشاء اللہ بہت خوب... آسان اور سھل انداز میں ایک عام آدمی کو مکمل بات سمجھا دینے والی تحریر

  4. khanjee says:

    The problem still exists, if God is there, how he became God and when, and became such powerful and whey God can not be seen in naked eyes. and if is made of Noor as Koran pak says, Noor is also energy or matter!

تبصرہ کریں