خدا یا محض قوتِ محرکہ ؟

سوال: ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ خدا کی کوئی ذات نہیں ہے بلکہ ایک قوتِ محرکہ Motive Force اور علت و معلول کا سلسلہ یا علت العلل Cause of Causes ہے، یا یہ کہ قوانین فطرت کا دوسرا نام خدا ہے، کیا یہ نقطہ نظر صحیح ہے؟

جواب: اس سوال کا جواب دینے سے قبل ہم چاہیں گے کہ آپ اپنے اردگرد پھیلی ہوئی اس کائنات پر چار مختلف پہلوؤں سے غور کیجے، وہ چار پہلو یہ ہیں،

  1. حکمت
  2. قدرت
  3. ربوبیت
  4. رحمت

پہلی چیز ہے حکمت

ایک صاحب عقل اور سلیم الفطرت شخص جب اس کائنات پر غور کرتا ہے تو جو چیز عقل انسانی کو سب سے زیادہ حیرت زدہ کرنے والی اور شعورِ آدم کو ورطۂ حیرت میں ڈالنے والی ہے وہ اس کائنات کی چیزوں میں پنہاں حکمت ہے جو خاک کے حقیر ترین زرّے کے باطن سے لےکر کہکشاؤں کے پیچیدہ نظام تک کو محیط ہے، یعنی یہ کہ یہ آسمان و زمین ہمیں بےمصرف و بےمقصد نہیں لگتے۔

یہ بھی پڑھیں:   حقیقت کیا ہے ؟

انسان کا شعور اور وجدان اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس کائنات کا کوئی نا کوئی مقصد ضرور ہے، سائنسی تحقیقات روزافزوں اس نتیجے پر پنہنچتی ہیں کہ چیزوں میں موجود یہ بےمثل اور عمیق نظامِ حیات ایکدوسرے سے تسلسل کےساتھ باہم مربوط اور اپنے عظیم تر مقصد کو پورا کرنے میں ہمہ تن جُتا ہوا ہے۔

دوسری چیز قدرت ہے۔

یعنی یہ کائنات، یہ کُرّہ زمین، اور طول و عرض میں پھیلی مخلوقات کسی برتر ہستی کی حکمرانی کے تحت ہیں، اور وہ برتر ذات مسلسل اپنی قدرت کے مظاہر ہمیں دکھاتی بھی ہے۔
سائنسی علوم میں ہونے والی تیزرفتار ترقی اور انسان کی علمی پیش قدمی ہرہرقد م پر ایک عظیم ڈیزائنر اور لازوال خالق کی موجودی کی نشاندہی کرتی ہیں،

تیسری چیز ربوبیت ہے۔

یعنی اُس ذات نے کائنات کے تمام چھوٹے بڑے عناصر کو انسان کی پرورش کے لیے سرگرم کررکھا ہے، خواہ وہ چاند و سورج ہوں، ہوا و پانی ہو، یا زمین کی سطح اور اسکی تہہ میں چھپی معدنیات، ہر چیز کسی بےغرض خادم کی طرح مسلسل انسان کی خدمت اور پرورش میں لگی ہوئی ہے، اورصرف یہی نہیں، بلکہ ہماری عقل کی بھی پرورش کا بہترین نظام یہاں موجود ہے، ہماری جسمانی قوتوں کی نشونما ہر آن اور ہر گھڑی ہورہی ہے، ہماری زہنی اور روحانی تسکین کا سامان جابجا بکھراپڑا ہے، ہمارے لطیف جذبات و احساسات کی بھی مسلسل خدمت ہورہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کن فیکون اور تخلیقِ عالم

چوتھی چیز رحمت ہے۔

انسانی زندگی اس رحمت کا سب سے بڑا مظہر ہے، آپ اپنے اطرف نظر دوڑا کردیکھیے ہر زندہ وجود اپنے آپ کو زندہ رکھنے کے لیے ہرجتن کرتا ہے، دماغی بیماریوں کے استثناء کو چھوڑ کر دکھوں اور پریشانیوں کا مارا کوئی شخص بھی اپنی زندگی ختم نہیں کرنا چاہتا، حتیٰ کے مچھر اور چیونٹی جیسی چھوٹی اور حقیر مخلوق بھی اپنی زندگی کو قائم رکھنے کے لیے تگ و دو میں مصروف عمل ہیں۔

کائنات میں جاری و ساری حکمت، قدرت، ربوبیت اور رحمت کی توجیح کسی اندھے اور بہرے قانونِ فطرت کا نتیجہ نہیں ہوسکتی، ان مظاہر کی درست ترین توجیح کےلیے یہ مانے بغیر چارہ نہیں کہ یہ کائنات ایک رحیم و کریم، اور حکیم و داناء ہستی کے زیرِ نگیں ہے، جو تنہاء اس کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے، اپنی مخلوقات کی ہرآن خبرگیری کررہا ہے اور ان سے ایک پل کے لیے بھی غافل نہیں ہے،اگر قوانین فطرت کو خدا مان لیا جائے تو ایسا خدا ہمارے کسی کام کا نہیں جو مشینی قسم کا ہو، جو نا ہمارے دکھوں کا مداوا بن سکے، نا ہماری التجائیں اور فریاد سن سکے۔

یہ بھی پڑھیں:   چائے کے کپ سے موبائل فون چارج

(138 مرتبہ دیکھا گیا)

سید اسرار احمد

سید اسرار احمد ایک متحمل اور بردبار شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کی تحریروں میں علمی اور فکری بالیدگی نمایاں ہوتی ہے۔ ان سے جڑے رہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

3 تبصرے

  1. Yaqub Assy says:

    بلاتمہید ۔۔ دو بنیادی بات عرض کر دوں۔
    ۔1۔ خدا ہزاروں لاکھوں ہو سکتے ہیں، اللہ ایک اکیلا ہے۔ اس تحریر میں جہاں جہاں خدا سے مراد اللہ تعالی کی ذات والا صفات ہے وہاں لفظ "اللہ" لکھئے تاکہ کوئی الجھاوا باقی نہ رہے۔
    ۔2۔ مسلمان ہونے کا مطلب ہے اللہ کے قرآن پر ایمان لانا۔ ذٰلک الکتاب لا ریب فیہ۔ اس کتاب میں خود اللہ کریم نے اپنے بارے میں، کائنات اور تخلیقِ کائنات کے بارے میں اور اشیاء کی فطرت کے بارے میں جو کچھ ارشاد فرما دیا ہے۔ اس کے بعد اولین سرخ پیراگراف ہی کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔
    والسلام علیٰ من اتبع الھدیٰ

  2. Yaqub Assy says:

    صاحبِ مضمون سے میری درخواست ہے ان رشحات کو از سرِ نو اور زیاد تفصیل سے لکھیں۔ یہ جو کچھ آپ نے لکھا ہے، اس کے مخاطبین اہلِ ایمان ہیں۔ فساد وہ لوگ برپا کر رہے ہیں جو ایمان کی دولت سے محروم ہیں (اور کچھ وہ لوگ بھی ہیں جو اہلِ ایمان ہوتے ہوئے بھی بھولپن میں کفار کی زہریلی سوچ کو نہ صرف قبول کر بیٹھے ہیں بلکہ اس کا پرچار خود یہود نے ویسا نہیں کیا ہو گا جیسا یہ بھولے بادشاہ لوگ کر رہے ہیں)، ان کے ساتھ ان کے حوالوں سے بات کرنی پڑے گی۔
    ایک مشورہ ہے اگر کسی لائق ہو۔ اپنے ان رشحات کا انگریزی ورژن بھی لکھئے اور اس کو صرف ایک فورم تک محدود نہ رکھئے۔
    ۔ اللہ کریم توفیق سے نوازے۔

    • مزمل شیخ بسمل says:

      بہت خوب جنابِ آسی۔
      آپ کے ارشادات کا جواب تو اسرار بھائی کے ذمہ ہے۔ تاہم یہ عرض کروں کہ مضامین کا انگریزی ورژن بھی جلد ہی منظرِ عام پر ہوگا۔ اس سے قبل ویب سائٹ کا انگریزی ورژن تیاری کے مراحل میں ہے۔

      دعاؤں کی درخواست ہے۔

تبصرہ کریں