خلافت کا قیام اور متفرق مسلم مکاتبِ فکر

خلافت کہیے، دار الاسلام قرار دیجیے، نفاز شریعت لکھیے، اسلامی فلاحی ریاست کہہ لیجیے، مسلمانوں کا نظم اجتماعی پکاریے یا قرانی نظام کا نام دیجیے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلم امت کا ہرگروہ فرد اور معاشرے دونوں میں اسلام کے ظہور کی خواہش رکھتا ہے۔ وجہ یہی ہے کہ دین کے احکام جہاں فرد کی تذکیر کرتے ہیں وہاں معاشرے کے تزکیہ کیلئے بھی الہامی حدود کا اطلاق کرتے ہیں۔ یہ تو ممکن ہے کہ ایک گروہ یہ کہے کہ فرد کے رستے سے ہی معاشرے اور نظام میں اسلام کا حقیقی ظہور ہوسکتا ہے اور دوسرا گروہ یہ پکارے کہ فرد کا اپنا تزکیہ بھی اسی وقت ممکن ہوگا جب معاشرے یا نظام پر اسلامی اصولوں کا اطلاق کیا جائے۔ یا پھر کوئی تیسرا گروہ بولے کہ یہ دونوں ہی کام کو بیک وقت سرانجام دینا ہی درست سمجھ ہے۔ مگر یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ دین کے احکامات کو فرد، معاشرے، حکومت اور نظام ہر جگہ نافذ دیکھنے کا خواہاں نہ ہو۔ گویا منزل و خواب ہر مسلمان گروہ کا ایک ہے، پھر چاہے اس تک پہنچنے کے طریق اور اس حوالے سے دینی احکامات کی سمجھ میں اختلاف ہو۔ راقم اس سمجھ اور طریق کے گروہی اختلاف کو اجمالی طور پر بیان کرنے کی جسارت کر رہا ہے۔ مقصد صرف ان گروہوں کی سمجھ کا بیان ہے ، کسی کی موافقت و مخالفت یہاں مقصود نہیں۔

جہادی تحریکیں

گو جہادی تحریکوں میں آپس میں بھی بہت فرق موجود ہے اور یہ ممکن نہیں کہ دنیا بھر میں موجود ان تنظیموں کا تقابل یہاں کیا جاسکے۔ مگر ایک اصولی بات جو ان سب میں مشترک نظر آتی ہے، وہ یہ ہے کہ یہ مسلمان ممالک میں جاری ظالم اور کئی اعتبارات سے کفریہ نظام کو بازور طاقت خاتمہ کردینا چاہتے ہیں۔ یہ ان مغرب کے غلام کرپٹ حکمرانوں سے اقتدار چھین کر صالح افراد کے ہاتھ میں اسے سونپ دینا چاہتے ہیں۔ ان کے اس نظریے کی یوں تو کئی دلیلیں ہیں مگر سب سے قوی دلیل وہ صحیح حدیث محسوس ہوتی ہے جس میں بیان ہوا ہے کہ مسلم حکمران کی اطاعت اس وقت تک ہے جب تک وہ صریح کفر کا ارتکاب نہ کرنے لگے۔ اگر ایسا ہو تو پھر اس سے بغاوت کرکے اسکے خلاف طاقت استعمال کی جاسکتی ہے۔ یہ تحریکیں کہتی ہیں کہ اب چونکہ مسلم حکمران سودی نظام، استعماری قوتوں کی پشت پناہی سمیت بیشمار کھلے کفر کے ارتکاب میں ملوث ہیں لہٰذا ان کے خلاف تلوار اٹھانا جائز ہے۔ ان تحریکوں کے بارے میں عمومی مشاہدہ یہی رہا ہے کہ انکی اکثریت قبائلی مزاج کی ہے جہاں جدید تعلیم یافتہ اذہان بہت کم ہیں۔ میڈیا پروپیگنڈہ اپنی جگہ ایک حقیقت ہے مگر اس سے انکار ممکن نہیں کہ ان میں کچھ گروہ نہایت سفاک اور دین سے بہت دور محسوس ہوتے ہیں۔ مگر ان کچھ گروہوں کو مثال بناکر تمام جہادی گروہوں پر منطبق کرنا صریح غلطی ہے۔ ان سفاک گروہوں کی مذمت بقیہ جہادی گروہ بھی کرتے نظر آتے ہیں۔ راقم کی رائے میں جہادی تحریکوں کا مقدمہ سب سے زیادہ مظبوط اور علمی انداز میں شیخ انور الاولاکی نے پیش کیا ہے۔

جماعت اسلامی / اخوان المسلمین وغیرہ

یہ مسلمانوں کی وہ تحریکیں ہیں جو قومی سیاسی دھارے اور موجود جمہوری طریق سے منسلک ہو کر اسلامی نظام کو حصول اقتدار کے بعد نافذ کرنے کی خواہاں ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ چونکہ زمین اللہ کی ہے لہٰذا نظام بھی الله ہی کا نافذ ہونا چاہیے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر مسلم عوام کے سامنے دیانتدار افراد کو نفاز شریعت کیلئے پیش کیا جائے تو وہ ضرور انہیں اپنے ووٹ یا موافقت سے کامیاب کریں گے۔ یہ دین کو تدریج سے نافذ کرنے کے قائل ہیں۔ اخوان المسلمین کو حال ہی میں اقتدار حاصل ہوا مگر افسوس کے جلد ہی فوجی آمریت سے اس کا خاتمہ کردیا گیا۔ کچھ تجزیہ نگار ترکی کے صدر طیب اردغوان کو بھی اسی سوچ سے وابستہ قرار دیتے ہیں۔ پاکستان میں حال ہی میں ڈاکٹر طاہر القادری کی سیاسی کوشش بھی اسی سوچ کی ترجمان ہے۔ راقم کی رائے میں ان مذہبی سیاسی جماعتوں کا مقدمہ سب سے موثر انداز میں برصغیر کے جلیل القدر اہل علم اور جماعت اسلامی کے بانی سید ابو الاعلی مودودی نے پیش کیا۔

یہ بھی پڑھیں:   سالِ نو کے عزائم اور ہم

تنظیم اسلامی

یہ تنظیم دور حاضر کے ایک بہت بڑے صاحب علم، محقق اور ذہن ساز ڈاکٹر اسرار احمد رح نے قائم کی۔ آپ کے نزدیک خلافت کو پہلے کسی ایک ملک میں نافذ کر کے ایک مثالی ریاست کے روپ میں دنیا کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔ جس کے ثمرات اور ترقی دیکھ کر باقی مسلم ممالک کو بھی اسکی ترغیب ہو۔ گو کے تنظیم کے نزدیک اس کے کارکن قومی سیاست  میں مذہبی جماعتوں کو ووٹ دے سکتے ہیں مگر ان کے نزدیک نظام کی تبدیلی نظام کا حصہ بن کر کبھی نہیں آسکتی۔ ڈاکٹر صاحب کے فلسفے کے مطابق خلافت منہاج النبوہ کا حصول صرف اور صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ٹھیک وہی اقدام اور ترتیب اپنائی جائے جو رسول اکرم ص نے مدینہ کی اسلامی ریاست قائم کرنے کے لئے اپنائی تھی۔ لہٰذا اس تنظیم کا ایک امیر مقرر ہوتا ہے جیسے کے آج کل حافظ عاکف سعید ہیں ، جن کے ہاتھ پر بیعت کرکے تنظیم میں شمولیت اختیار کی جاتی ہے،۔ اس کے بعد درج ذیل ترتیب اختیار کی جاتی ہے یا کی جائے گی

١۔ جماعت میں شامل ہر فرد کا قران و سنت سے تزکیہ کیا جائے اور اس کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا جائے۔

٢۔ جماعت سے وابستہ ہر فرد اسلام کو پہلے اپنی ذات اور پھر اپنے گهر پر نافذ کرے

٣۔ دوسرے مسلمانوں کو بلخصوص پڑھے لکھے اذہان کو بھی اسی نہج پر جوڑا جائے

٤۔ جب ایک بڑی تعداد انسانوں کی ایسی میسر ہو جائے جو اپنی ذات و خاندان پر دین کا نفاز کرچکے ہوں تو اب عملی میدان میں اترا جائے

٥۔ عملی میدان میں اترنے سے مراد ہتھیار اٹھانا نہیں بلکہ سڑکوں پر آنا ہے۔ اس میں لاٹھیاں پڑیں، جانیں جائیں یا جیلیں ہوں سب سہنا ہے مگر مقصد حاصل ہونے تک پیچھے نہیں ہٹنا۔

حزب التحریر

خلافت کے حوالے سے یہ دنیا بھر میں شائد سب سے پرانی، مضبوط اور مقبول تنظیم ہے۔ مغرب ہو، مشرق ہو یا عرب ممالک ہر جگہ ان کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ خلافت کے باریک سے بارک موضوعات پر بھی انکی کتب موجود ہیں۔ خلافت کیسے آئے گی؟ خلیفہ کیسے منتخب ہوگا؟ تفرقہ میں کسی سمجھ کو نافذ کرنا کیسے ممکن ہوگا؟ معاشی نظام کی باریکیاں کیسے حل ہونگی؟ کون سا فقہ نافذ ہوگا؟ غیر مسلم ممالک سے تعلقات کیسے ہونگے؟ اور ایسے ہی بیشمار سوالات کے شافی جوابات ان کی جانب سے پیش کئے جاتے ہیں۔ یہ علمی مکالمہ کرنا صرف پسند ہی نہیں کرتے بلکہ مقابل کو مکالمے کی دعوت دیتے ہیں۔ جتنا علمی کام اس موضوع پر ان کے ہاں ملتا ہے اسکی مثال موجود نہیں۔ آئین سمیت ہر شعبہ حکومت کا تفصیل سے بیان ان کے پاس موجود ہے۔ اس تنظیم کا قیام ایک بہت برے عالم شیخ تقی الدین نبہانی نے کیا۔ جن کی تحریریں پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کا منہج تنظیم اسلامی کے منہج سے ملتا جلتا محسوس ہوتا ہے مگر کچھ ضمنی باتوں میں اختلاف بھی ہے۔ جیسے ان کے ہاں بیعت صرف خلیفہ کے ہاتھ پر ہی ہوسکتی ہے کسی تنظیم کے سربراہ کے ہاتھ پر نہیں، مغربی جمہوریت کو یہ کفریہ نظام کہہ کر اس کا حصہ نہیں بنتے اور اپنے کارکنان کو بھی ووٹ دینے سے منع کرتے ہیں وغیرہ راقم کی دانست میں ان کا سب سے بڑا اختلاف جو تنظیم اسلامی سے ہے وہ یہ کہ یہ 'نصرہ' کے اصول پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ ثابت کرتے ہیں کہ مدینہ کی ریاست صرف تبلیغ و دعوت سے وجود میں نہیں آئی بلکہ رسول ص نے طائف، بنو عامر اور کئی دوسرے قبائل سے نصرہ طلب کی یعنی صاحبان اقتدار کو ریاست کا نظم حوالے کرنے کی ترغیب دی۔ جو باقی قبائل نے تو رد کی مگر مدینہ کے صاحب رسوخ افراد نے تسلیم کرلی۔ لہٰذا یہی وجہ ہے کہ آپ ص مدینہ میں رات کے اندھیرے میں داخل ہوئے اور یہی وجہ ہے کہ عبدللہ بن ابئی کو حاصل ہونے والا اقتدار راتوں رات مسلمانوں کو منتقل ہوگیا۔ حزب التحریر کے بقول اب بھی یہی طریقہ کارگر ہوگا لہٰذا وہ ہر صاحب رسوخ چاہے وہ سیاستدان ہو یا فوجی جرنل اسلامی نظام کا قائل کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک نظام کی تبدیلی تاریخی طور پر کبھی بھی تدرج سے نہیں آتی بلکہ انقلاب سے آتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   آن لائن آمدنی کیسے حاصل کی جائے؟

شیخ عمران حسین کا فلسفہ

راقم کی رائے میں شیخ کو  'علم آخر الزماں' کا سب سے بڑا ماہر کہنا غلط نہ ہوگا۔  شیخ عمران حسین خلافت کے پرزور مبلغ ہیں اور احادیث صحیحہ سے حالات حاضرہ کے ساتھ ساتھ مستقبل میں پیش آنے والے ممکنہ حالات کی بھی پیشن گوئی کرتے ہیں۔ آپ ڈاکٹر اسرار احمد رح کی فکر سے بھی متاثر ہیں اور ایک لمبے عرصہ تک ڈاکٹر صاحب کی قائم کردہ تنظیم اسلامی کی نارتھ امریکہ برانچ کے امیر رہے ہیں۔ اب آپ کچھ فکری اختلاف رکھتے ہیں۔ آپ خلافت کے قیام کی ہر ممکنہ اخلاقی و عقلی کوشش کے قائل تو ضرور ہیں مگر ساتھ ہی آپ کا تجزیہ یہ کہتا ہے کہ شاید خلافت کا حصول ظہور مہدی سے قبل نہ ہوسکے۔ اس قیام نہ ہونے کی وجہ صیہونی طاقتوں کا وہ جال ہے جو آج چاروں اطراف پھیلا ہوا ہے۔ مگر جیسا کہا کہ وہ ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمیں اپنی سی کوشش کرتی جانی ہے تاکہ کل جب واقعی ظہور مہدی ہو تو ہمارا شمار موافق حالات پیدا کرنے والوں میں کیا جائے۔ فی الوقت وہ اپنے شاگردوں کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ جہاں ممکن ہو سکے وہاں چھوٹے ماڈل ولیج (دارالاسلام) بنائیں جائیں۔ جدھر آپ حتی الامکان اسلام کا نفاذ کرکے زندگی گزاریں۔ یہاں ملحوظ رہے کہ وہ اس کوشش میں حکومتی نظم کو تباہ کرنے کے قائل نہیں صرف جتنا ممکن ہو کی شرط لگاتے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی گاؤں میں سارے افراد مل کر اس گاؤں کی حد تک شریعت نافذ کرکے جیتے ہیں۔ اس وقت بارہ کے قریب ایسے علاقے بنائے جاچکے ہیں۔ ہر علاقہ کا ایک امیر ہوتا ہے۔ جب تک اصل خلافت کا قیام نہیں ہوتا تب تک شیخ کے نزدیک یہ زندگی گزارنے کا ایک بہتر طریق ہے۔

تبلیغی جماعت

اس طرز کی تمام جماعتیں خلافت کی شدید خواہش رکھتی ہیں مگر ساتھ میں ان کا نظریہ یہ ہے کہ فرد کی زندگی میں دین آئے گا تو وہ مختلف شعبہ زندگی میں جا کر دین کا ترجمان بنے گا اور یوں تدرج سے تبدیلی آتی جائے گی۔ یہ عملی طور پر نہیں تو نظریاتی طور پر دین قائم کرنے کی کسی بھی سنجیدہ کوشش کے حامی ہیں۔ گو تمام تحریکیں ان کی خلافت کیلئے عملی کوشش نہ کرنے کی وجہ سے خفا ہیں۔ انہیں بھی ہم امام مہدی کے منتظر گروہ میں شمار کرسکتے ہیں

علماء کے متفرق گروہ

بناء تفریق ہر مسلک کے علماء مختلف جہتوں سے خلافت کے حصول کی تمنا رکھتے ہیں۔ یہ اپنی تقریر و تحریر سے خلافت کیلئے متحرک گروہوں کی حمایت کرتے ہیں اور سننے والو کی ذہن سازی کرتے ہیں۔ اس پر سنی، شیعہ، سلفی، اہل حدیث، دیوبندی، بریلوی، صوفی سب متفق ہیں۔ ہر گروہ اپنے اکابر علماء اور دین کی چودہ سو سال کی تاریخ کو بھی نظام خلافت کی تعبیر کے حق میں پاتا ہے اور پیش کرتا ہے

یہ بھی پڑھیں:   اسلام کا روایتی بیانیہ یا پھر جدید جوابی بیانیہ ؟

فکر غامدی

جاوید احمد غامدی کو بجا طور پر برصغیر میں نظام خلافت کا سب سے بڑا مخالف تصور کیا جاتا ہے۔  آپ اسلام کو ایک نظام تسلیم نہیں کرتے اور خلافت کے قیام کی کوششوں کو سیاسی تعبیر کہہ کر رد کردیتے ہیں۔ اس پر سہاگہ یہ ہے کہ آپ امام مہدی اور نزول مسیح کے بھی قائل نہیں۔ لہٰذا وہ موہوم سی تمنا جو خاموش گروہ خلافت کے ضمن میں رکھتے ہیں، ان کے یہاں وہ بھی مفقود ہے۔ مگر اس شدید تر مخالفت کے باوجود آپ اس کے قائل ہیں کہ ایک آئیڈیل مسلم معاشرہ وہی ہے جہاں معاشرتی بنیادیں اسلام پر قائم ہوں اور جہاں قانون سازی بھی قران و سنت سے کی گئی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دیت کا قانون ہو یا اسلامی سزائیں۔ آپ ان کا انکار نہیں کرتے بلکہ جزیات میں تنقید و توثیق کرتے ہیں۔ لہٰذا آپ بھلے لفظ نظام کو تسلیم نہ کرتے ہوں مگر مسلمانوں کے موجود نظم اجتماعی کو دین سے قریب کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم اس بات کے مکلف نہیں ہیں کہ خلافت کے قیام کی جدوجہد کریں، اس کے برعکس ہم پر دعوت دین کی ذمہ داری ہے۔ معاشرہ چونکہ کوئی مجرد شے نہیں بلکہ فرد ہی سے تشکیل پاتا ہے۔ اسلئے فرد کا تزکیہ ہی اصل ہے۔ آپ جمہوریت ہی کو دین کا اصل طریق سمجھتے ہیں اور ایسی سیاسی کوششوں کے مخالف نہیں ہیں جو جمہوری طریق پر دینی اصلاحات کی خواہاں ہوں۔ گو یہاں بھی ایک طرف آپ ریاست کے اختیار کا تصور عام فکر سے مختلف پیش کرتے ہیں تو دوسری طرف علماء کی کسی بھی سیاسی کوشش کو ان کی اصل ذمہ داری سے فرار قرار دیتے ہیں۔ مولانا وحید الدین اور آپ کی فکر اس ضمن میں قریب قریب ہے۔

فکر پرویز

غلام احمد پرویز سمیت جتنے بھی نمائندہ قرانسٹ گروہ ہوئے ہیں وہ خلافت کے قیام کے پرزور حامی ہیں اور اسے 'قرانی نظام' کا نام دیتے ہیں۔ احادیث کے کلی یا جزوی انکار کے باوجود خالص قرانی فکر اپنانے کا دعویٰ کرنے والے پرویز صاحب اپنی تعلیمات کا محور ہی ایک ایسے نظام کے حصول پر رکھے ہوئے ہیں جہاں قران میں درج ہر ہر حکم کو معاشرے کی سطح پر رائج کیا جائے۔ ان کے یہاں یہ خواہش اتنی شدید ہے کہ دین کی دیگر معروف عبادات یا اصطلاحوں کو بھی اکثر نظام سے جوڑے دیتے ہیں۔ چنانچہ صلات ہو یا حج ، لفظ امر ہو یا مشیت یہ ان سب کو قرانی نظام ہی سے منسلک کر دیتے ہیں۔

اب میں اس مضمون کا خاتمہ کرتا ہوں۔ یہ راقم کا ناقص تجزیہ ہے جو اس نے موجود مختلف دینی جماعتوں کے بارے میں بناء تنقید و توثیق کے پیش کردیا ہے۔ قارئین سے امید ہے کہ وہ غلطیوں سے درگزر کریں گے اور اس تحریر سے کچھ خیر کو ڈھونڈھ پائیں گے۔ ان شاء اللہ

(472 مرتبہ دیکھا گیا)

عظیم الرحمن عثمانی

عظیم الرحمان عثمانی اپنے مزاج کے حوالے سے اپنی مثال آپ ہیں۔ بڑے بڑے موضوعات کو دو جمع دو چار کرکے سمجھانے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کی تحریروں سے فیضیاب ہوتے رہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

6 تبصرے

  1. aksam says:

    jazakallah

  2. نادان پرندہ says:

    جزاک اللہ عطیم بھائی واقعی آپ عظیم ہیں۔۔ اللہ آپ کو مزید علم نافع عطا کرے۔۔۔۔۔۔۔۔آمیں

    • عظیم الرحمن عثمانی says:

      شکریہ بھائی ۔۔ قبر کا حال مردہ ہی جانتا ہے۔ خوش گمانی پر مشکور ہوں

  3. Amir Mughal says:

    بہترین معلوماتی مضمون۔ حزب التحریر کا لٹریچرپڑھنے کا تجسس ہوا ہے۔

    • عظیم الرحمن عثمانی says:

      بہت شکریہ۔ میں اطمینان دلاتا ہوں کہ آپ شیخ تقی الدین نبہانی کی کتب پڑھ کر مایوس نہ ہونگے۔ 🙂

تبصرہ کریں