خلفشار

ہم جانتے آئے ہیں. اور ارتقاء اسے سچ ثابت کرتا آیا ہے. اس کی مخالفت تو عقیدت (اکابر، مقابر، مسلک ومشرب کی) اور عقیدہ بھی نہیں کرتا. یہ سچ ہے اور یہی سچ ہے.

کلام جو افلاک سے آیا جو بھیجا گیا پیغمبر تھا ان نے جو بات کہی. وہ اس ایک مراد پر منحصر تو قطعا نہ تھی. جو اس وقت لی گئی. یا پھر حتی الآن جو امور حدوث اور وقوع کے ذیل سے ہو گزرے ہیں مابعدالحدوث اور مابعد الوقوع جو مراد لی گئی نہ ہی فقط وہ مراد تھی. بلکہ سر چشمہ معانی ہیں وہ کلمات جو خالق کلمات نے برہان وفرقان میں نازل فرمائے. ہر عہد کے پیش آمدہ عوامل میں انسب عواطف کے ساتھ نت نئے معانی آشکار ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہینگے.

یہ بھی پڑھیں:   دعا سیریز 2: (کھانا کھانے کے بعد کی دعا)

اس سیاق کے سباق میں یہ سوال ابھر کہ آتا ہے کہ کیا میں ایک عام انسان ہوتے ہوئے اپنے کلامے گئے کلام کو کسی محدود حد بندی کے ساتھ محدد کرسکتا ہوں؟

کیا میں یہ چاہ سکتا ہوں کہ میرا کہا ہوا اسی مراد کے ساتھ جکڑدیا جائے جو میں نے تلفظ کے لمحے میں گانٹھا تھا,؟ یا سامع بھی خالق خیال کیطرح مختار ہے. کہ لفظ اپنے تمام معانی کے ساتھ اس کے سامنے اس کے فھم و اختیار کا احتیاج رکھتا ہے. کہ جو مراد چننا چاہو چن لو.

یہ بھی پڑھیں:   اسمائے حسنی (منظوم)

شاد مردانوی

(156 مرتبہ دیکھا گیا)

شاد مردانوی

جنابِ شاد کے لیے اگر یہ کہا جائے کہ وہ چلتی پھرتی لغت ہیں تو شاید غلط نہ ہوگا۔ ان کی اردو در اصل اردو نہیں بلکہ معرب و مفرس کسی ماورائے اردو شئے کی تارید کہی جاسکتی ہے۔ علم دوست ہونے کے ساتھ ساتھ منکسر المزاج بھی ہیں اور مطالعے کو اوڑھنا بچھونا رکھتے ہیں۔ ان کی ہنر کاری ان کی تحریروں سے عیاں ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں