خواتین کے حقوق اور سیاست

گزشتہ دنوں ملک کے لبرل اور دینی طبقہ میں اس وقت میڈیا وار کا آغاز ہو گیا کہ جب پنجاب حکومت میں خواتین کے حقوق کے لیے ایک قانون پاس کر دیا گیا۔
یہاں کرنے کا سوال تو یہ تھا کہ کیا پہلے ہمارے قانون میں (women rights) اور (domestic violence) کے حوالے سے (clause ) موجود ہے یا نہیں۔
اگر نہیں تو پچھلے ساٹھ سال سے آپ خواب غفلت میں کیوں مبتلاء تھے؟
اور اگر موجود ہے تو اس پر عمل در آمد کیوں نہ ہو سکا کہ جو اس جدید قانون کی ضرورت پیش آئی؟
حیران کن امر یہ ہے کہ جس بات پر ہمارا لبرل طبقہ خوشی سے بغلیں بجا رہا ہے اور دین دار طبقہ ہلچل مچا رہا ہے وہ ایک سیاسی شعبدے بازی سے زیادہ اور کچھ نہیں۔

اس ملک کی اشرافیہ اپنی اصل میں نہ تو مذہبی ہے اور نہ ہی (secular) ہاں یہ ضرورت پڑنے پر ہر دو طبقات کو استعمال کرنے کے فن سے خوب واقف ہے.
جس ملک میں بنیادی انسانی حقوق (روٹی ، کپڑا ، مکان ) کے حوالے سے لوگ محروم ہوں وہاں مزید کیا گفتگو کی جائے؟ ہاں ایسے سیاسی شعبدے توجہ کے حصول کے لیے ضرور مفید ہوتے ہیں۔
ہر دو طبقات اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ دراصل ہونا کچھ بھی نہیں ہے لیکن باہمی مجادلے کی کیفیت ضرور پیدا ہو چکی ہے۔

بنیادی حقیقت تو یہ ہے کہ اس خطے کی مسلم اکثریت اگر ٹھیٹ مذہبی نہیں تو لبرل بھی نہیں ماضی میں اکبر کا دین الہی دراصل (liberalism) کا ایک تجربہ تھا کہ جسے عوام نے مسترد کر دیا۔
دوسری جانب اس خطے میں ”داعش“ والا شدت پسند اسلام بھی مقبول نہیں ہو سکتا یہاں اگر اسلام کے نفاذ کا کوئی راستہ ہے تو وہ براستہ دعوت تشکیل معاشرت کا راستہ ہے ناکہ ڈنڈے کے استعمال کا راستہ۔

یہ بھی پڑھیں:   علمی اختلاف، اعلی اخلاق اور متجددین

ایک جانب تو چند عاقبت نا اندیش مولوی کفر کے فتاویٰ ہاتھ میں لیے کھڑے ہیں اور فحاشی کے (certificate) تقسیم فرما رہے ہیں تو دوسری جانب لبرل حضرات سر عام مولویت کی دھجیاں بکھیرنے میں مصروف ہیں۔ کوئی بھی معقول آدمی کہ جو خالص تحقیقی مزاج رکھتا ہو اس جنگ کا حصہ بننے سے خود کو محفوظ رکھے گا کہ ہر صورت میں عزت ہاتھ سے جانے کا اندیشہ ہے۔

لیکن معاملہ یہاں تک آن پہنچا ہے کہ مولویت سے آگے بڑھ کا قرآن و سنت پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے جو اس ملک کی مسلم اکثریت کے حقوق اور اس ملک کے اسلامی آئین کی خلاف ورزی بھی ہے۔

کبھی وراثت ، کبھی طلاق اور کبھی گواہی سے متعلق امور کو لے کر پھبتیاں کسی جا رہی ہیں۔

یہاں معاملہ کم علمی سے بڑھ کر لا علمی (ignorance) کا ہے۔

اسلام وراثت میں شخصی ملکیت کا قائل نہیں بلکہ حکم الہی سے اس کا تعین کر دیتا ہے تاکہ جھگڑے کا کوئی احتمال باقی نہ رہے بظاھر اسلامی قانون میں عورت کا حق وراثت مرد سے کم دکھائی دیتا ہے اور اس بات پر شدید واویلا کیا جاتا ہے لیکن اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو ایسا معاملہ نہیں ہے ایک جانب تو عورت اپنے باپ کی وراثت میں حصے دار ہوتی ہے تو دوسری جانب اپنی شوہر کی وراثت میں بھی شریک ہوتی ہے اور یہاں اس کا حصہ مرد سے بڑھ جاتا ہے۔

اسلام نے نفقے کی ذمے داری عورت پر نہیں بلکہ مرد پر رکھی ہے بلکہ معاملہ یہاں تک ہے کہ عورت اپنے ہی بچے کی دودھ پلائی کی اجرت طلب کر سکتی ہے اور اگر وہ بچے کو دودھ پلانا نہ چاہے تو مرد کو اس کا انتظام بھی کرنا پڑے گا۔ معاشرے میں جاکر کر دنیا کمانا عورت کے ذمے نہیں اور گھر کے کاموں پر بھی مرد اسے شریعت کے اصول کے مطابق مجبور نہیں کر سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:   خدا کا خالق کون ہے؟

عورت پہلے اپنے باپ کی کفالت میں ہوتی ہے پھر اسکا نفقہ شہر کے ذمے ہوتا ہے اور پھر یہ خدمات اولاد کے حصے میں آتی ہے اور اگر ان میں سے کوئی نہ ہو تو یہ ریاست کی ذمے داری ہے۔

جہاں تک معاملہ گواہی کا ہے (Islamic jurisprudence) میں عورت کیلئے (The extra cover for individual protection) ہے، وہ معاشرہ کہ جہاں خواتین کی عام نقل و حرکت نہ تھی وہاں کسی ایک خاتون کی گواہی اس لیے ناکافی تصور نہیں کی جاتی تھی کہ ان کے (status) میں فرق ہے بلکہ صرف اس لیے کہ فیصلہ کرتے وقت غلطی کا احتمال نہ رہے۔

دوسری جانب یہ ایک انتہائی شدید مغالطہ ہے کہ تمام معاملات میں عورت کی گواہی آدھی بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ بعض معاملات میں گواہی صرف عورت کی ہی تسلیم کی جاتی ہے۔

اسلامی تعلیمات کے مطابق ایک خاندان ایک (unit) ہے اور اس کے کچھ انتظامی امور ہوتے ہیں اس یونٹ میں اسلام مرد کو امیر اور خاتون کو مشیر مقرر کرتا ہے یہاں تک کہ انبیاء کہ جو وحی الہی کے تابع ہوتے ہیں خواتین کی مشاورت پر فیصلے فرماتے ہیں۔

یہ وہ تمام مسائل ہیں کہ جن پر اٹھائے جانے والے اشکالات کے جوابات علماء تفصیل سے دیتے چلے آئے ہیں اور ان کا بار بار اعادہ کرنا وقت تضیع اوقات ہے لیکن کیا کیجیے کہ گھوم پھر کر وہی اشکالات بار بار سامنے لائے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   نظریۂ ارتفاقات از شاہ ولی اللہ (پہلی قسط)

کیا اب وہ وقت نہیں آ گیا کہ پاکستان کے ہر دو طبقات اس اشرافیہ سے بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کا مطالبہ کرے کہ جو اس آئین کے مطابق ان کا حق ہے۔ نا کہ اس طرح لایعنی شوشے چھوڑتی رہے اور ہم باہم الجھتے رہیں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ ان معاملات میں ریاست کی دخل اندازی دیکھ کر ”اونٹ اور بدو“ کی روایت یاد آ جاتی ہے کہ کس طرح اونٹ کو بدو نے خیمے میں آنے کی اجازت دی اور آخر کار خیمے سے ہی بے دخل ہوا۔

عجیب بات یہ ہے کہ پنجاب میں شوہر و بیوی کے باہمی تعلقات میں کشیدگی کا فیصلہ کرے گی دنیائے تشدد کی بے تاج بادشاہ پنجاب پولیس۔۔۔۔!

جناب من اگر اس نظام میں قوت نافذہ ادنی ترین درجے میں بھی موجود ہوتی تو نئے بلوں کے بجائے معاشروں میں موجود قوانین پر عمل درامد کروایا جاتا۔

مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد

تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مریدی کا تو ہرتا ہے بہت جلد

تاویل کا پھندا کوئی صیاد لگا دے
یہ شاخ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد

حسیب احمد حسیبؔ

(86 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں