دعا سیریز 4: (مختصر درود و سلام)

اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا ہے ، اس پر عمل کرتے ہوئے مسلمان جب بھی پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک تذکرہ کرتے ہیں تو یہ مختصر درود کہتے ہیں:

”صَلَّی اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ“

عربی زبان میں لکھی جانے والی تمام تفاسیر ، کتبِ احادیث اور دیگر تمام کتب میں یہی درود و سلام لکھا ہے۔

اب اردو کی کچھ کتابوں میں اس درود و سلام میں ”وَاٰلِهٖ“ کا اضافہ ہوگیا ہے اور یوں لکھا جانے لگا ہے:

”صَلَّی اللهُ عَلَیْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمَ“

معنوی لحاظ سے یہ اضافہ درست ہے ، کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو نماز میں آلِ محمد پر درود بھیجنے کا حکم فرمایا ہے۔

مگر عربی قواعد کی رو سے ”صَلَّی اللهُ عَلَیْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمَ“ درست نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مفت اردو بلاگ بنائیں

لہٰذا یا تو ”صَلَّی اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ“ لکھنا اور کہنا چاہیے یا اگر ”وَاٰلِهٖ“ کا اضافہ کرنا ہے تو یوں کہنا چاہیے:

”صَلَّی اللهُ عَلَیْهِ وَعَلٰی اٰلِهٖ وَسَلَّمَ“

تاکہ عربی قواعد کی رو سے بھی غلط نہ ہو۔

حوالہ جات:

٭ {صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا } [الأحزاب: 56]

٭ قال عبد الرحمن بن أبي ليلى: لقيني كعب بن عجرة فقال ألا أهدي لك هدية سمعتها من النبي صلى الله عليه و سلم ؟ فقلت بلى فأهدها لي فقال سألنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلنا يا رسول الله كيف الصلاة عليكم أهل البيت فإن الله قد علمنا كيف نسلم عليكم؟ قال: ”قولوا اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد ، اللهم بارك على محمد و على آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد۔“ (صحیح البخاری ، کتاب الأنبیاء ، باب حدثنا موسی بن اسماعیل ، الرقم:3190 ، دار ابن الکثیر ، الیمامة ۔ بیروت)

٭ ولا يَحسُنُ العَطفُ على الضَّمير المتَّصلِ المَرْفُوعِ بَارِزاً كان أو مُستَتِراً إلاَّ بعدَ توكِيدِهِ بِضميرٍ مُنفَصلٍ نحو {لَقَد كُنتُم اَنْتُمْ وآبَاؤُكُم في ضَلالٍ مُبِينٍ} ، {اسكُن أنتَ وَزَوجُكَ الجَنَّةَ} أو بوُجُودِ فَصِلٍ ما، نحو {جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَها وَمَنْ صَلَحَ} فَمَنْ معطوفَةٌ على الواو في يدخلونها أو وجُود فَصْلٍ بـ "لا" نحو {مَا أَشْرَكْنا وَلاَ آبَاؤنَا}. (معجم القواعد العربية ، باب العین ، 19/ 21)

٭ ولا يجوز العطف على المتصل بدون التأكيد بالمنفصل۔ (كتاب الكليات ـ لأبى البقاء الكفومى ، ص:963 ، دار النشر)

٭ والأصل ألا يعطف على الضمير المتصل إلا بعد الفصل، بين الفاعل والمعطوف۔ (شرح الآجرومية - حسن حفظي ، ص: 283)

(ان شاء اللہ اس سیریز کے تحت مختلف اوقات اور کاموں کی دعاؤں کے حوالے سے اغلاط کی نشان دہی کی جائے گی۔ علمائے کرام سے کڑی نگرانی کی درخواست ہے۔ 🙂 )

یہ بھی پڑھیں:   تین اشعار پر تعمیری تنقید - شاد مردانوی

دعا سیریز:

(1) کھانا کھانے سے پہلے کی دعا

(2) کھانا کھانے کے بعد کی دعا

(3) پریشانی سے نجات کی دعا

(4) مختصر درود و سلام

(67 مرتبہ دیکھا گیا)

محمد اسامہ سرسری

محمد اسامہ سرسری مستند عالِمِ دین اور فقہِ اسلامی کے متخصص ہیں۔ اسامہ صاحب دینی تعلیمات کے ساتھ ادبی اور فنی سرگرمیوں کا بھی فعال حصہ ہیں۔ انتہائی محنتی اور معاون طبیعت رکھتے ہیں اور متعدد کتب کے مصنف بھی ہیں ، کتاب "آؤ شاعری سیکھیں" ان کی اب تک کی شہ کار تصنیف ہے جسے اندرون و بیرون ملک ہر جگہ خوب پذیرائی ملی ہے۔ سوشل نیٹ ورک پر سینکڑوں لوگوں کو ادب اور شاعری کی فنیات آسان انداز میں سبقاً سبقاً سکھاتے ہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں