دعا سیریز 5: (جزاكَ اللهُ خیرا)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیر خواہی کرنے والے کا شکریہ ادا کرنے کے لیے یہ دعا دینے کی تعلیم دی ہے:

”جَزَاكَ اللهُ خَیْرًا۔“

مگر آج کل لوگ بجائے اس کلمے کے "تھینکس" وغیرہ کہتے ہیں ، وہ بھی درست بلکہ اچھی بات ہے ، مگر وہ مسنون عمل کے ثواب سے محروم رہتے ہیں اور جو یہ دعا دیتے ہیں ان میں سے بھی کچھ لوگ اسے تبدیل کردیتے ہیں ، جس کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:

٭ جَزَاكَ اللهُ۔
(یہ بھی اگرچہ درست ہے ، مگر محض بدلے کی دعا ہے ، جبکہ "خیرا" سے دعا زیادہ بہتر ہوجاتی ہے۔)

٭ جَزَاكَ اللهُ خَیْر۔
(خیرا کا الف گراکر ، یہ عربی قواعد کی رو سے غلط ہے۔)

یہ بھی پڑھیں:   تم نے شرک نہیں چکھا

٭ جَزَّاكَ اللهُ خَیْرًا۔
(ز کی تشدید کے ساتھ ، یہ معنوی لحاظ سے درست نہیں)

٭ جَزَاكَ اللهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ۔
(یہ باعتبار لفظ مسنون کے درجے میں نہیں ہے ، اگرچہ بعض عربی کتب میں اس کا ثبوت ملتا ہے۔)

٭ جَزَاكَ اللهُ خَیْرًا وَ اَحْسَنَ الْجَزَاء۔
(یہ مسنون پر غیر ضروری اضافہ ہے۔)

٭ جَزَّاكَ اللهُ الْخَیْر۔
(یہ مسنون دعا میں تبدیلی ہے)

(وضاحت: "جَزَاكَ" میں "كَ" کے بجائے مخاطب کے لحاظ سے "كِ" ، "كُمَا" ، "کُمْ" ، "کُنَّ" وغیرہ لگالینا چاہیے اور جو عربی دان نہیں ہیں اور اسے سمجھنے میں دقت ہوتی ہے تو وہ ہر ایک کے لیے ان دو میں سے کوئی ایک کہہ دیا کریں:

”جَزَاكَ اللهُ خَیْرًا۔“

یا پھر

”جَزَاكُمُ اللهُ خَیْرًا۔“

یہ بھی پڑھیں:   آخرت کی تیاری کیسے کریں؟

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

حوالہ جات:
======
٭ عن أسامة بن زيد قال قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- « من صنع إليه معروف فقال لفاعله جزاك الله خيرا فقد أبلغ فى الثناء ». قال أبو عيسى هذا حديث حسن جيد غريب لا نعرفه من حديث أسامة بن زيد إلا من هذا الوجه۔ (جامع الترمذی ، أبواب البر والصلة ، الرقم:2035 ، دار إحیاء التراث العربی ۔ بیروت)

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

یہ بھی پڑھیں:   انسانوں کی دو قسمیں اور الحاد

ان شاء اللہ اس سیریز کے تحت مختلف اوقات اور کاموں کی دعاؤں کے حوالے سے اغلاط کی نشان دہی کی جائے گی۔ علمائے کرام سے کڑی نگرانی کی درخواست ہے۔ 🙂

(288 مرتبہ دیکھا گیا)

محمد اسامہ سرسری

محمد اسامہ سرسری مستند عالِمِ دین اور فقہِ اسلامی کے متخصص ہیں۔ اسامہ صاحب دینی تعلیمات کے ساتھ ادبی اور فنی سرگرمیوں کا بھی فعال حصہ ہیں۔ انتہائی محنتی اور معاون طبیعت رکھتے ہیں اور متعدد کتب کے مصنف بھی ہیں ، کتاب "آؤ شاعری سیکھیں" ان کی اب تک کی شہ کار تصنیف ہے جسے اندرون و بیرون ملک ہر جگہ خوب پذیرائی ملی ہے۔ سوشل نیٹ ورک پر سینکڑوں لوگوں کو ادب اور شاعری کی فنیات آسان انداز میں سبقاً سبقاً سکھاتے ہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں