دل اور دماغ کا فرق

دل اور دماغ میں کیا فرق ہے ؟

دل کیا ہے؟
دل "شعور" کے تشکیل کردہ ایک ٹکڑے کا نام ہے. کسی گوشت کے لوتھڑے کو اگر دل ثابت کیا جائے تو کافی پریشانیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔
دل مالش کرنا
دل متلی کرنا
دل اکتانا
دل پر مہر لگ جانا
دل کا نہ ماننا
دل نہ چاہنا
دل سیاہ ہو جانا۔
یہ سب محاورے مجازی معنی میں ہے جو در اصل شعور کی ایک کیفیت ہے۔

دل اور دماغ میں جز اور کُل کا فرق ہے
یعنی دل شعور کی بہت سی کیفیات میں سے ایک ہے۔ دیگر کیفیات میں ضمیر، حافظہ، عقل، منطق، قدر و قضا وغیرہ آتے ہیں۔ انہیں حقیقی معنوں میں سمجھنا ایک غلط بات ہے۔

اب شعور کیا ہے؟
شعور ایک ایسا کلیہ ہے جس سے احساسات، جذبات، حافظہ اور اختیار یا ضمیر کی ایک جامع توجیہہ ہوتی ہے۔
شعور کا مقام انسانی جسم میں کہاں ہے؟؟ اب تک کی معلوم بات یہ ہے کہ اس کا مقام دماغ میں ہے۔
یہاں صرف اس بات کو سمجھ لینا چاہیے کہ جسے ہم دل کہتے ہیں وہ محض ایک "کیفیت" ہے۔ اور یہ کیفیت "اطمینان" اور "عدم اطمینان" کے بارے میں ذہن کو آگاہ کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عقلی دلائل بعض وقت بے حد مضبوط ہوتے ہیں لیکن جب وہ شعور میں تحلیل ہوتے ہیں اور "دل" اسے چکھ لیتا ہے تو پھر اطمینان کا امتحان شروع ہوتا ہے۔ اس اطمینان کے امتحان میں اگر وہ دلیل کامیاب ہوجاتی ہے تو یہ دل نامی کیفیت اسے قبول کر لیتی ہے. اور انسان اس دلیل کو قبول کرکے اطمینان پا لیتا ہے۔
بصورت دیگر اگر وہ دلیل اس اطمینان کے امتحان میں ناکام ہوجائے تو پھر وہ دلیل کتنی ہی مضبوط ہو، یا تو انسان اسے کلی رد کردیتا ہے اور ہٹ دھرمی پر اتر آتا ہے۔ یا پھر وہ اسے وقتی طور پر قبول کرکے اس دلیل کو توڑنے کی تگ و دو میں لگ جاتا ہے۔ اور جہاں کہیں بھی اسے تھوڑا بہت "اطمینان بخش" جواب مل جائے تو وہ اپنا سابقہ نظریہ واپس قبول کرتا ہے۔
دل کی آواز بھی یہی "اطمینان" ہے۔ انسان عقلی جنگ و جدل سے جب تھک جائے تو اضطراب کے آگے گھٹنے ٹیک کر فیصلہ کرتا ہے کہ اب جس چیز سے مجھے "اطمینان" حاصل ہوگا میں وہی کروں گا۔ اس کے بعد عقلی دلائل کی رکاوٹیں ختم ہوجاتی ہیں۔ اور یہی منزل اسکو اپنی آخری منزل محسوس ہوتی۔ کیونکہ یہ سب اس نے اپنے "دل" کی آواز پر کیا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   آئیڈیل شخصیت یا بُت سازی

(339 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں