دماغی یکسوئی کیسے حاصل ہو؟

دماغ ایک انتہائی حیرت انگیز شئے ہے۔ اور میچو کاکو نے بجا طور پر کہا تھا کہ آپ کے کاندھوں پر رکھا   یہ دماغ  ہماری معلوم کائنات میں پائی جانے والی سب سے پیچیدہ چیز ہے۔  نیورو سائنس، اور شعبۂ نفسیات کے سائنس دان مستقل کسی نہ کسی تحقیقی سر گرمی سے جڑے ہوئے دماغ کے کسی نہ کسی مظہر کو مستقل زیرِ بحث رکھتے ہیں۔ کچھ عرصے پہلے تک  ہمارا  یہ خیال تھا کہ ہم دماغ کے بارے میں کافی کچھ جان چکے ہیں۔ اس میں ہونے والے وظائف (Functions) نہ  سہی، لیکن اس کی ساخت (Anatomy) کو ہم نے اچھی طرح سمجھ لیا ہے۔ لیکن یہ واہمہ بھی گزشتہ ماہ یعنی جولائی ۲۰۱۶ میں غلط ثابت ہو گیا جب سائنسی جریدے ”نیچر“ میں یہ تحقیق شائع ہوئی کہ دماغ کے نقشے پر نئی تحقیق کے مطابق ۱۸۰ علاقے  دریافت ہوئے ہیں جن میں سو کے قریب ایسے ہیں جن سے ابھی تک ہم بے خبر تھے۔ اس  دریافت نے انسانوں کو ایک بار پھر حیرت کے سمندروں میں دھکیل دیا۔

چنانچہ سکٹزوفرینیا (Schizophrenia) سے لے کر بائپولر ڈس آرڈر تک۔اور   ڈپریشن سے اینزائٹی (Anxiety) تک دماغ کے سیکڑوں  ایسے مظاہر ہیں جو جسمانی طور پر صحیح و سالم اور تند و توانا  انسان کو ایک لمحے  میں مریض بنا دیتے ہیں۔  اس مضمون کو لکھنے کے پیچھے معاشرے کی اس اکثریت کا مشاہدہ کارفرما ہے جو محنتی بھی ہے، قابل بھی اور پر جوش بھی۔ لیکن معاشرے میں کوئی بھی قابلِ ذکر کام سر انجام دینے سے قاصر ہے۔ عام طور پر میں اپنے دوست یاروں سے کہا کرتا ہوں کہ جدید دور نے ہمیں جو کچھ دیا ہے  وہ یقیناً قابلِ ذکر  ہے۔ لیکن اس کے بدلے میں انسانوں سے بہت کچھ چھین بھی لیا ہے۔ اور اِس ”بہت کچھ“ میں ہمارا نفسیاتی ثبات و استقلال  ایک بڑی قیمت تھی جو ہمیں ادا کرنی پڑی ہے۔ دماغی یکسوئی ایک ایسی صفت ہے جو ایک ذہین انسان کی ساری صفات میں ایک برتر مقام رکھتی ہے۔ اگر دماغی یکسوئی حاصل نہ ہو تو کوئی ذہین ترین انسا ن بھی اپنی ذات سےاپنے آپ اور کسی کو  بھی نفع پہنچانے سے قاصر رہتا ہے۔  چنانچہ روحانی علوم کی ترقی کے ادوار میں صوفیوں، جوگیوں اور یوگیوں نے جہد و ریاضت اور مراقبوں کے ذریعے یکسوئی کے  حصول کو ناگزیر قرار دیا تھا۔ بلکہ اشراقیین کا مکمل فلسفہ ہی تصفیۂ قلب اور یکسوئی کو علوم کا نہ صرف ایک واحد ذریعہ سمجھتا تھا بلکہ اس فلسفے کے حکما و قائلین اس پر کاربند بھی تھے۔

لیکن جو ں جوں مادی ترقی بامِ عروج کو پہنچی توں توں دماغی یکسوئی کو متاثر کرنے کا سامان بڑھتا چلا گیا۔ دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی نے افراد،  اقوام اور انواع کے درمیان ضروریاتِ زندگی کے لیے جنگ در جنگ کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع کردیا۔ انسانوں کو نہ صرف یہ کہ  ہر ہر لمحے  جہدِ بقا میں مصروف رہنا ضروری ہو گیا، بلکہ بقا کے ساتھ ”زیبِ بقا“ کو بر قرار رکھنے کا بھی ایک نیا سلسلہ وجود میں آیا۔ یعنی اب بات صرف یہیں نہیں رکی کہ دن میں دو وقت پیٹ کیسے بھرا جائے۔  بلکہ سوالات اب اور بھی زیادہ بڑھ چکے ہیں۔ مثلاً کھانے میں کیا کھایا جائے؟ اس کے لوازمات کیا ہوں؟ دال ہو یا مرغی؟ بچوں کو کونسے سکول میں پڑھایا جائے؟ گاڑی کونسی ہو؟ گھر کیسا ہو اور کس علاقے میں ہو؟ کپڑے کس طرح کے ہوں؟ موبائل کونسا ہو؟ اور اس سب کے بعد پھر برانڈ اور لکژری کا ایک لامحدود اور کبھی نہ ختم ہونے والا مقابلہ دائمی حرص و ہوس کو جنم دیتا ہے۔ یہ وہ سلسلہ ہے جس کی ڈور کا کوئی دوسرا سِرا موجود نہیں۔ اس سمندر کا کوئی بھی کنارہ قابلِ تسخیر نہیں  ہے۔ اس جدلی کیفیت میں دماغی یکسوئی کا متاثر ہونا قطعاً  اچھنبے کی  بات نہیں ہے۔ نتیجتاً ہم میں سے ہر ایک شعوری یا لاشعوری طور پر نفسیاتی عارضوں اور واہموں میں جکڑتا چلا جارہا ہے۔ کوئی مستقل کامیابی کی وجہ سے احساسِ برتری میں، اور کوئی ناکامی سے احساسِ کمتری میں مبتلا ہوتا ہے۔ کوئی مایوسی کی وجہ سے ڈپریشن کا مریض بنتا ہے اور کوئی سہولیات کی زیادتی اور خوب سے خوب تر کی تلاش میں اپنے نفسیاتی ٹھہراؤ کو خیر باد کہہ دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نومولود بچے اور ناف کی حفاظت

اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ ان نفسیاتی امراض سے کس طرح بچا ؤ کیا جائے؟  اب تک کے مطالعات اور تحقیقات کے مطابق ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ نفسیاتی بیماریوں سے بچاؤ میں آپ کا طرزِ زندگی بہت اہمیت رکھتا ہے۔  اس حوالے سے دماغی  یکسوئی قابلِ ذکر ہے۔ بہت سے لوگ شکایت کرتے ہیں کہ کسی کام میں دل نہیں لگتا۔ کام کرنے بیٹھو تو کئی گھنٹے بعد بھی کام وہیں کا  وہیں رہتا ہے اور دماغ اِدھر اُدھر کی باتوں میں مصروف رہتا ہے۔ کوئی بھی کام شروع کرنے کے بعد اختتام تک نہیں پہنچ پاتا۔ اور وجہ یہی ہے کہ وہ کسی بھی کام کو یکسو ہو کر اپنی توجہ نہیں دے پاتے اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دماغ راہِ فرار اختیار کرنا شروع کردیتا ہے۔  ذیل میں چند ایسے قابلِ ذکر طریقے ہیں جن پر عمل کرتے ہوئے آپ اپنی روز مرہ زندگی کو نہ صرف بہتر طریقے سے استعمال میں لا سکتے ہیں بلکہ بہت سے نفسیاتی امراض سے قبل از وقت بچاؤ بھی کر سکتے ہیں۔

جسمانی ورزش کو معمول بنائیں

عام طور پر ہمارے یہاں ورزش صرف وہ لوگ کرتے ہیں جو اپنے جسم کی ساخت کو اچھا کرنا چاہتے ہوں۔ لیکن حقیقت  یہ ہے کہ ورزش کا کوئی ایک فائدہ نہیں  بلکہ سیکڑوں جسمانی اور نفسیاتی فوائد ہیں۔ دماغ کے حوالے سے الژائمرز اور پارکنسن جیسی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ماہرین ورزش کو بہت اہم قرار دیتے ہیں۔ایسی متعدد تحقیقات ہیں جن میں جسمانی ورزش کو  اے ڈی ایچ ڈی (ADHD)، بائپولر ڈس آرڈر (Bipolar Disorder)، ڈپریشن، پینک (Panic)  اور دوسرے نفسیاتی امراض  میں بھی مفید پایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   خوبصورت کردار اور عمل

ورزش کے لیے کوئی بہت محنت و مشقت کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ عام طور پر دن میں بیس منٹ کی جسمانی ورزش ہفتے میں کم از کم چار دن  کرنے سے بہت سے نفسیاتی امراض کو قابو میں رکھا جاسکتا ہے۔ کرنا صرف یہ ہے کہ دن کے کسی بھی آدھے گھنٹے کا انتخاب کرلیں اور اس میں بھاگ دوڑ جیسی کسی ورزش کو معمول بنا لیں۔ اگر آپ گھر سے باہر نہیں جا سکتے تو رسی کودنا ایک ایسی ورزش ہے جو آپ اپنی کمرے سے باہر نکلے بغیر بھی کر سکتے ہیں۔ اگر پہلے دن سے بیس منٹ ورزش نہیں کر سکتے تو دس منٹ سے شروع کریں۔ اور روزانہ دو منٹ بڑھاتے جائیں۔ ایک ہفتے میں سو یا ایک سو بیس منٹ کی ورزش آپ کی صحت پر نمایاں اثرات لے آئے گی جو کہ آپ چند دنوں میں ہی محسوس کرنے لگیں گے۔  بس یہ احتیاط رہے کہ کھانے کے فوراً بعد ورزش نہ کی جائے بلکہ کھانے سے پہلے یا پھر کھانے کے دو گھنٹے بعد کریں۔

ٹائم ٹیبل بنائیں

جی ہاں۔ ایک ٹائم ٹیبل بنائیں جس میں اپنے دن بھر کے کاموں کی ترجیحات ترتیب دیں۔ اور اس ٹائم ٹیبل کو کسی ایسی جگہ چسپاں کردیں جہاں آپ کا زیادہ وقت گزرتا ہو۔ جیسے اپنے کمرے کی کسی الماری پر یا اپنے کام کرنے والی ٹیبل یا میز وغیرہ پر۔ مختلف امور کو   ترجیحی بنیادوں پر ترتیب دے کر ٹائم ٹیبل میں لکھیں ۔ سب سے اہم جو معاملہ ہے وہ ٹائم ٹیبل بنانے کے بعد سختی سے اس پر عمل کرنے کا ہے۔ ممکن ہے کہ شروع میں یہ کام تھوڑا مشکل ہو۔ لیکن آپ کو جبراً ایسا کرنا ہوگا۔  اس ترکیب کو اختیار کرنے سے آپ کا دماغ نظم و ضبط کا عادی ہو نا شروع ہو جائے گا۔ اور وقت کے ساتھ آپ کی یکسوئی میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔

اپنے کاموں پر انعام مقرر کریں

جی آپ نے درست پڑھا۔ اپنے کاموں پر انعام مقرر کریں۔ یہ ترکیب بھی بہت کار آمد ہے۔ کام ختم کرنے پر اپنے آپ کو  کوئی فلم، ڈرامہ، یا کوئی کھانا وغیرہ انعام میں دیجیے۔ یا پھر کوئی شرط عائد کرلیجیے کہ جب تک میں فلاں کام مکمل نہیں کر لیتا، تب تک میں فلاں ڈرامہ نہیں دیکھوں گا یا فلاں کھانا نہیں کھاؤں گا۔  ایسا کرنے سے دماغ آہستہ آہستہ خود اس بات کا عادی ہو جائے گا کہ آپ اپنی کسی بھی من پسند سر گرمی کو اختیار کرنے سے پہلے کوئی ایسا ٹاسک مکمل کرتے ہیں جو کہ مشروط ہوتا ہے۔ اور رفتہ رفتہ آپ کے ضروری  کام نمٹنے لگیں گے۔

پر سکون دماغ کے لیے سیر و سیاحت ضروری ہے

جی بالکل۔ سیر و سیاحت اتنی ہی ضروری ہے جتنا کہ زندہ رہنے کے لیے خوراک اور غذا۔  گھر یا دفتر میں بند زندگی آپ کے دماغ پر انتہائی منفی اثرات چھوڑتی ہے۔ جس کی وجہ سے آپ میں بیزاری، مایوسی اور انتہائی حالات میں ترکِ دنیا کا رجحان پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اس کا بہتر راستہ یہ ہے کہ سفر کریں۔ کسی بھی ایسی جگہ جائیں جو آپ کی استطاعت میں ہو۔ اندرونِ ملک یا بیرونِ ملک۔ کوئی بھی جگہ جہاں آپ سکون محسوس کریں۔ در اصل سیر و سفر سے آپ کے دماغ کو سکون پہنچتا ہے جس کے نتیجے میں دماغ کی ہائپر ایکٹیوٹی (Hyperactivity) میں کمی آتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں دماغ کو سکون دینے والی ایسی تمام سرگرمیاں مراقبے (Meditation) کا قائم مقام ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   احیائے امت - ماضی ، حال اور مستقبل

سماجی روابط کی  ویب سائٹس کا استعمال محدود کر دیں

سماجی روابط  کی ویب سائٹس دماغی یکسوئی کو ختم کرنے کے لیے مضر ترین ہتھیار ہیں۔ جہاں اس کے فوائد سے انکار نہیں کیا جاسکتا وہیں اس کے منفی اثرات پر اگر نظر نہ رکھی جائے تو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بد قسمتی سے فیس بک، ٹویٹر، انسٹا گرام اور دوسری سماجی روابط کی ویب سائٹس ہمارے یہاں فائدوں سے کہیں زیادہ نقصان کا سبب بن رہی ہیں۔ ایسے بھی لوگ دیکھنے میں آئے ہیں جو کہ ایسی ویب سائٹوں کے مستقل اور لگاتار استعمال کی وجہ سے اپنی حقیقی زندگی میں ہر کام سے بیزار ہوتے چلے گئے۔ گھر اور دفتر کے کام ایک کے بعد ایک بڑھتے جا رہے ہیں لیکن ختم ہونے کی نوبت نہیں آرہی۔ اس لیے ان ویب سائٹس کا  استعمال کو ترک نہ سہی، لیکن محدود کردیں۔ ٹائم ٹیبل میں ان ویب سائٹوں کا خانہ بنائیں اور وہاں ان کے استعمال کا وقت درج کریں اور کوشش کریں کہ اس کے علاوہ دوسرے اوقات  میں ان ویب سائٹس کا استعمال نہ ہو۔

حرفِ آخر

یہ وہ تبدیلیاں ہیں جو اگر آپ اپنی زندگی میں لے آئیں تو نہ صرف آپ کے دماغ پر مثبت و دیر پا  اثرات مرتب ہونگے، بلکہ آپ کی زندگی میں ایک نظم و ضبط بھی آئے گا اور آپ کے کام مقررہ وقت پر مکمل بھی ہونگے۔ آپ کا دماغ ایک  فریبی شئے ہے۔ اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ آپ کے قابو میں رہے تو اسے کسی نہ کسی طریقے سے بیوقوف بناتے رہیں۔ لیکن کچھ نہ کچھ کرنا ضروری ہے۔ ورنہ دواؤں کا سہارا لینا پڑے گا۔ اور ضروری نہیں کہ ہر بیماری کو ناسور بنانے کے بعد ہی اس کا  علاج کیا جائے۔

(1014 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

4 تبصرے

  1. بہت بہترین، خاص طور سے سوشل میڈیا کا بے جا استعمال واقعی نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔

  2. Usman Butt says:

    Side effects of technology of new era.

  3. altaf says:

    sir jo log hard kam kartain hain , wo din 30 ment hi q na ho ,kya on k leyain bhy warzesh lazmi hain

    • مزمل شیخ بسمل says:

      جی۔ ورزش کے لیے الگ سے وقت نکالنا دماغی صحت کے لیے انتہائی مفید ہے۔ اس سے دماغی نظم و ضبط کو ترقی ملتی ہے۔

تبصرہ کریں