دماغ کی فریب کاریاں اور کربِ مسلسل

کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں کہ یہ دماغ بھی کیسی عجیب النوع اور عجیب و غریب شئے ہے۔ اتنی حیرت آور کہ یہ بیک وقت انسان کو سیکڑوں جھانسے اور دھوکے دے رہی ہوتی ہے۔ یہ دماغ کا فریب ہی تو ہے جو کبھی انسان کو اپنے ہی سامنے عظمت و حشمت کا کوہ گراں بنا کر پیش کر دیتا ہے۔ اور کبھی اسی انسان کے حوالے سے سوقیانہ پن اور رکاکت کے دلائل اکٹھا کرنے میں مصروف نظر آتا ہے۔ منتشر ہو تو ایسا کہ عقلی اور منطقی تمام چوٹیوں کو سر کرنے کے باوجود کوئی اسے مطمئن نہ کرسکے۔ اور مطمئن ہو تو ایسا کہ تشکیک کے سارے مظاہر کی منظر کشی کے باوجود منتشر نہ ہوسکے۔ جب میں اپنے ارد گرد نظر دوڑاتا ہوں تو سامنے والا ہر انسان میری اپنی ہی ذات کے کسی نہ کسی پہلو کی تشریح کر رہا ہوتا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ ہر انسان بیک وقت کئی زندگیاں جی رہا ہے۔ کہیں اگر وہ کسی تخت پر بڑا جلالت شعار بن کر نظر آرہا ہے تو کہیں کسی دوار پر اس جیسا بے سر و ساماں بھی کوئی نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں:   وقت سے مت کھیلو

کسی کی ایک طرح سے بسر ہوئی نہ انیسؔ
عروجِ مہر بھی دیکھا تو دوپہر دیکھا

یہ  سب تو دماغ کا فریب تھا ہی۔ پھر ان تغیرات کی اس دنیا میں کسی چیز کو دوام ہونا یا نہ ہونا تو پہلے ہی ایک معمہ تھا، لیکن میں نے اس سب کو جس آنکھ سے دیکھا وہ آنکھ ہی میری زبوں بختی کا سبب بھی ہوئی۔ سچائی، حقیقت، جھوٹ، دھوکہ، سراب، خوشی، غمی وغیرہ کے سارے پیمانوں کی عمارتیں جن بنیادوں پر ہم نے کھڑی کی تھیں وہ سب کا سب میرے لیے سر تا سر ایک فریب ثابت ہوا۔
دماغ کی مان کر زندگی بسر کرتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں مسئلہ اختلافات کا نہیں بلکہ اس الجھن کا ہے جو کبھی سلجھتی نہیں ہے۔ اس بے چینی کا ہے جس کا کوئی مداوا نہیں ہوسکتا۔ اور ہو بھی کیسے؟ اس بے چینی کے حل کے لیے ہر شخص یا تو اپنی راہ اختیار کرتا ہے یا راہ کا پتہ کسی سے ادھار لے کر اسی راہ پر دوڑ جاتا ہے۔ ہر کوئی اپنے اپنے سچ کی تلاش میں دوڑ رہا ہے۔ جس نے جو راہ اختیار کی اس سے کبھی پلٹا نہیں۔ یہاں آکر جمود اور تشکیک کا فرق بھی ختم ہو جاتا ہے۔ سب کچھ جمود ہی جمود ہے۔ جس نے تشکیک کی راہ لی اس نے بھی ایک عقیدہ (dogma) اختیار کیا اور جس نے یقین کی راہ لی اس نے بھی۔ یہ مزید ایک دماغ کا فریب ہے۔ بلکہ فریب در فریب کہیے۔
پھرمنزل تک پہنچنے والوں نے آج تک کسی باوثوق ذریعہ سے کسی کو یہ بتانے کی زحمت ہی گوارہ نہیں کی کہ کونسی راہ صحیح تھی اور کونسی غلط۔ یا پھر ہم ہی نادان ٹھہرے جو ان کی آواز کو سن یا سمجھ نہیں پائے۔

یہ بھی پڑھیں:   منطقی محال (Paradox)

سمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنی قصور تھا

میں سوچتا ہوں کہ انسان خود کو جس قدر معذور ظاہر کرے شاید اتنا ہی اس کے لیے بہتر ہے۔ کم از کم اس لحاظ سے تو بہتر ہی ہے کہ الجھنیں پیدا نہیں ہوتیں۔ جب بھی آپ اپنے فیصلوں کی ذمہ داری اپنے سر لے لیتے ہیں تو الجھنیں بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں۔ گویا خود مختاری اور اختیار کی دولت بھی کسی مقام پر آکر وبال بن جاتی ہے۔ نئے سرے سے اپنی راہیں متعین کرکے منزلیں ڈھونڈنے والے کبھی سکون نہیں پاسکے۔ اور سکون پائیں گے کیسے؟ وہ اپنی ساری عمر صرف راہ متعین کرنے میں ہی گنوا بیٹھتے ہیں۔ گویا ان الجھنوں کو کم کرنے کی خاطر بھی کسی ڈور سے بندھا رہنا ناگزیر ٹھہرا۔ ورنہ حقیقتوں کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہوئے جذبات، احساسات، وابستگیاں اور کلپنائیں سب مٹ کر ختم ہو جاتی ہیں۔ جب بھی ہم دنیا کو انسانیت اور اخلاقی اقدار سے ذرا سا اوپر اٹھ کر دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک بے ہنگمی کی کیفیت ہے جہاں کبھی ٹھہراؤ، سکون یا پھر یکسوئی کی کوئی جگہ ہی نہیں ہے۔ صرف کرب ہے۔ ایک لازوال کرب۔

یہ بھی پڑھیں:   علمِ عروض سبق ۱۱

اثرِ منزلِ مقصود نہیں دنیا میں
راہ میں قافلۂ ریگ رواں ہے کہ جو تھا

(140 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں