آپ کے دماغ کی بہتری کیسے ممکن ہے ؟

عام طور پر ہماری اولین کوشش ہوتی ہے کہ دماغ کی بہتری کے لیے کوئی نہ کوئی شارٹ کٹ ہمیں کسی طرح میسر آجائے۔ کیونکہ دماغ ایک ایسا عضو ہے جس پر آپ کے جسمانی اور روحانی تمام کے تمام عوامل کا مکمل انحصار ہے۔ یعنی یہ سوا کلو گرام کا چھوٹا سا ٹکڑا جو آپ کے جسم کے وزن کا محض دو فی صد ہے، اگر ٹھیک سے کام کرنا چھوڑ دے تو آپ کا سراپا ہی خراب ہو جائے گا۔ یوں تو ہم میں سے ہر کسی کا دماغ دیکھنے میں کم و بیش ایک ہی جیسا اور ایک ہی جتنا ہوتا ہے۔ لیکن سب جانتے ہیں کہ اس کے کمالات اور برتاؤ کا طریقۂ کار ہر کسی کے لیے مختلف ہے۔

ایک انسان جو کام چٹکیوں میں کر جاتا ہے، آپ اسے پورے سال کی محنت کے بعد بھی نہیں کر پاتے۔ مثلاً نئی چیزیں سیکھنے کا عمل ہر کسی کے لیے مختلف ہے۔ ایک چیز آپ کو سیکھنے میں ایک گھنٹہ لگ رہا ہے، اور دوسرا اسے دس منٹ کے قلیل وقت میں بھی سیکھ لیتا ہے۔ ہمارا دماغ جس طرح وجود میں آیا ہے، اس میں ہم چیزوں کو سمجھ آسانی سے لیتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی آپ اس دائرے سے باہر نکلیں گے ویسے ہی سب کچھ پہلے جیسا ہو جائے گا۔ ہم میں بہت کم لوگ ہیں جو اپنے دماغ کو مؤثر انداز میں استعمال کر پاتے ہیں۔ یعنی جو کچھ وہ سیکھتے ہیں اس سے بہت زیادہ فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔ ایسے لوگ ہر ایک کے لیے قابلِ رشک بھی ہوتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ کسی طرح ان کی دماغی صلاحیتیں ہمارے پاس منتقل ہو جائیں۔

یہ بھی پڑھیں:   آئیڈیل شخصیت یا بُت سازی

اس تحریر کو بھی پڑھیں   دل اور دماغ کا فرق

آئیے اپنے دماغ کو بہتر کرنے کے لیے چند مؤثر تدابیر پر نظر ڈالتے ہیں۔

دماغ کی بہتری کے لیے غذاؤں کا استعمال

دماغ کی بہتری کے لیے جو غذائیں بہتر ہیں ان میں سبزیاں اور پھل زیادہ ہیں، خصوصاً اینٹی آکسیڈینٹ (Antioxidants) والے۔  ان میں آلوچہ یا آلو بخارا بہت اہم ہے۔ اس کے علاوہ کشمش، لال انگور، کالی بیری، بلو بیری، سٹرابیری، رس بھری، نارنگی اور چیری اہم ترین ہیں۔ سبزیوں میں پالک سرِ فہرست ہے۔ اس کے علاوہ پیاز، بُھٹا، شلغم، گوبھی اور بینگن میں اور میوے میں خصوصاً اخروٹ (جوکہ دماغ ہی کی طرح ہوتا ہے) کے اندر مختلف اینٹی آکسیڈینٹ پائے جاتے ہیں جو دماغی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ الزیمر اور دوسرے امراض سے حفاظت رہتی ہے۔ یہ دماغ میں نئے عصبی خلیے (Neurons) اور ان کے درمیان نئے عصبی روابط (Neural Connections) بنانے میں معاون رہتے ہیں۔

اس کے علاوہ مچھلی کا استعمال بھی دماغ کے لیے فائدہ مند دیکھا گیا ہے۔

دماغ کی ورزش

آپ کا دماغ بھی آپ کے جسم کی طرح ایک عضو ہی ہے۔ جس طرح جسم کی ورزش جسم کے لیے فائدہ مند ہے اسی طرح دماغ کی ورزش دماغ کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے۔ دماغ کو مختلف چیلینجز دیتے رہیے۔ اس سے آپ کے دماغ کو تازگی ملتی رہے گی۔ دنیا بھر کے نفسیات دان اس بات پر متفق ہیں کہ آپ دماغ کو جب بھی استعمال کرتے ہیں، یہ ایک قدم آگے بڑھ جاتا ہے۔ چنانچہ ریاضی اور دوسرے آئی کیو کے سوالات اور مختلف معموں کو حل کرنا دماغ کے لیے فائدہ مند چیزیں ہیں۔ روز کچھ نہ کچھ نیا سیکھنے کی کوشش کریں۔ اور جو کچھ آپ نے آج سیکھا اسے ریکارڈ میں لے کر آئیں تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ سال کے کتنے دن آپ نے بغیر کچھ نیا سیکھے گزار دیے۔ اس کے علاوہ اپنے دماغ کے لیے مستقل کوئی نہ کوئی مقصد متعین کرکے رکھیں۔ مثلاً یہ کہ مستقبل میں آپ نے فلاں زبان سیکھنی ہے، یا فلاں علم کو حاصل کرنا ہے۔ ایسا کرنے سے آپ کا دماغ بڑے مقاصد کے حصول کے لیے ہمیشہ تیار رہتا ہے اور آپ کو نئے سرے سے تیاری کی ضرورت نہیں پڑتی۔

یہ بھی پڑھیں:   جنسیات اور ہمارے مغالطے (حصہ دوم)

دماغ کی بہتری کے لیے جسمانی ورزش

جسمانی ورزش صرف جسم کو نہیں بلکہ دماغ کو بھی توانا رکھتی ہے۔ خصوصاً ایروبک ورزشیں (Aerobic Exercises)۔ ایک تحقیق کے مطابق دن میں صرف بیس منٹ کی معمولی جسمانی ورزش سے بھی حافظہ اور دماغ کے دیگر عوامل مثبت طور پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

جسمانی ورزش دماغ کے لیے مختلف کردار ادا کرتی ہے۔ مثلاً یہ دل کی پمپنگ کی رفتار کو تیز کرتی ہے جس سے خون میں آکسیجن مل کر دماغ کو آکسیجن کی زیادہ مقدار فراہم ہوتی ہے۔ ایسے میں دماغی خلیے بہتر کام کرتے ہیں اور ان کی پایداری میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ جسمانی ورزش سے جسم میں کئی اقسام کے ہارمون کا اندرونی اخراج  ہوتا ہے جس سے دماغ کو ایک بہتر فضا میں پھلنے پھولنے کا موقع میسر آتا ہے۔

مراقبہ (Meditation)

مراقبہ غالباً ایک ایسی چیز ہے جسے ہمارے معاشرے میں سب سے زیادہ نظر انداز کیا گیا ہے۔ حالانکہ مراقبے کے جسمانی، روحانی اور دماغی فوائد پر کئی تحقیقات شاہد ہیں۔ اس میں مختلف صدموں اور ڈپریشن سے لے کر جسم کے نظامِ مدافعت (Immunity) تک کے فوائد تک شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دن میں تین سے پانچ منٹ تک روز کی بنیاد پر مراقبہ کرنا دماغ کے لیے نہ صرف اچھا ہے، بلکہ ضروری ہے۔ حالیہ تحقیقات کے مطابق مراقبہ عصبی روابط کی تجدید (Neuroplasticity) میں بھی مفید پایا گیا ہے۔ یعنی یہ آپ کے دماغ کو ہر حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار کرتا ہے۔ اس کے علاوہ حادثات کی صورت میں حواس باختگی، یکسوئی کی کمی، طبیعت کا چڑ چڑا پن وغیرہ ختم ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   دل اور دماغ کا فرق

پس نوشت:

دماغ کی بہترین کار کردگی کے لیے مذکورہ بالا تمام حکمتِ عملی کے علاوہ یہ بھی اہم ہے کہ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو وقت دیجیے۔ کوشش کریں کہ جب بھی موقع ملے تو سفر کریں۔ قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہوں۔ مسلسل ایک ہی کام پر نہ جمے رہیں کیونکہ ایک ہی کام کرنے سے دماغ کی یکسوئی متاثر ہوتی ہے۔ اپنے روز مرہ کے معمولات میں کچھ نہ تبدیلیاں لاتے رہیں، اس سے دماغ کی تازگی برقرار رہتی ہے۔

(577 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

4 تبصرے

  1. مراقبہ پر مزید روشنی ڈالئے گا ۔۔۔ 🙂 جزاک اللہ باقی مضمون کافی معلوماتی تھا ۔۔۔۔

  2. عبد العظیم صدف says:

    بہت شکریہ مزمل بھائی
    جزاک اللہ خیر
    میرا بھی یہی کہنا ہے کہ مراقبے پر روشنی ڈالیں

تبصرہ کریں