دودھ پلانے میں ماں کے مسائل

اکثر کلینک میں دودھ پلانے والی مائیں یہ مسئلہ لے کر آتی ہیں کہ ان کا دودھ کم ہے اور بچہ دودھ پینے کے بعد بھی روتا رہتا ہے اس لیے آپ اوپر کا دودھ لکھ کر دیں۔

آئیے جانتے ہیں کہ وہ کیا عوامل ہیں جن میں بچہ دودھ پینے کے بعد بھی روتا ہے یا اس کا پیٹ کیوں نہیں بھرتا۔

ناکافی دودھ کے اسباب

ماؤں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ سمجھتی ہیں کہ ان کا دودھ بچے کی ضروریات سے کم ہے حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہوتا۔ ماں کا دودھ اس کے بچے کے لیے بلکہ جڑواں بچوں کے لیے بھی کافی ہوتا ہے۔

عام طور پر ایسی ماؤں کو دودھ پلانے کے صحیح طریقے کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہوتا۔

دودھ پلاتے وقت ان تین باتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے:

١۔ کیا بچے کی حالت ( پوزیشن) ٹھیک ہے۔

٢۔ کیا بچہ چھاتی سے ٹھیک طرح سے لگا ہوا ہے۔

٣۔ کیا بچہ ٹھک طریقے سے چھاتی چوس رہا ہے۔

بچے کی صحیح حالت

٭ بچے کی ٹھوڑی سیدھی یا کسی قدر پیچھے کی طرف جھکی ہو

٭ بچے کا جسم ماں کی طرف گھوما ہوا ہو

٭ بچے کا جسم ماں کے قریب ہو

٭ بچے کے سارے جسم کو سہارا دیا گیا ہو

اگر بچے کی ٹھوڑی آگے کو جھکی ہوگی تو کھانے اور سانس کی نالی ٹھیک سے کھلی نہ ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:   مری عمر بھر کی کمائی تھی

بچے کا جسم ماں کے قریب نہ ہو یا ماں کی طرف گھوما نہ ہو یا پوری طرح سہارا نہ دیا گیا ہو تو بھی بچہ آسانی سے دودھ نہ پی سکے گا۔

ماں کا چھاتی کو پکڑنے کا صحیح طریقہ

٭ ماں اپنی انگلیاں چھاتی کے نیچے پسلیوں کی طرف رکھے۔

٭ شہادت کے انگلی سے نپل کو نیچے کی طرف سے سہارا دے۔

٭ انگوٹھا چھاتی کے اوپر کے حصے کی طرف رکھے

٭ انگلیآں اور انگوٹھا چھاتی کے کالے حصے سے دور ہوں

خیال رہے کہ شہادت کی انگلی نپل کے اوپر رکھ کر قینچی کی شکل نہ بنای جائے، اس سے دودھ کی روانی میں فرق آتا ہے ۔ دیکھا گیا ہے کہ اکثر مائیں اسی طرح دودھ پلاتی ہیں جو کہ غلط ہے۔

دود پلانا

بچے کا منہ چھاتے سے لگانے کا طریقہ

اس میں چار باتوں کا خیال رکھیں

٭ بچے کی ٹھوڑی چھاتی سے لگ رہی ہو یا بالکل قریب ہو۔

٭ منہ پوری طرح سے کھلا ہوا ہو یعنی نیچے کا ہونٹ نیچے کی طرف مڑا ہو۔

٭ نپل کے قریب کالا دائرہ پورا بچے کے منہ میں ہو۔

اس میں یہ خیال رکھیں کہ صرف نپل ہی بچے کے منہ میں نہ ہو بلکے کالا حصہ بھی بچے کے منہ میں ہو کیونکہ بچہ دودھ نپل سے نہیں بلکہ چھاتی سے پیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   درد ختم کرنے والی دوائیں اور ان کے اثرات

BreastFeeding Position 1 BreastFeeding Position 2

کیا بچہ موثر طریقے سے دودھ چوس رہا ہے؟

مندرجہ ذیل باتوں سے ہم یہ جان سکتے ہیں۔

٭ بچہ آہستہ اور دیر تک دودھ چوسے گا بیچ میں وقفہ بھی کرے گا۔

٭ ہوسکتا ہے آپ کو بچے کا دودھ نگلنا نظر نہ آئے پر دودھ نگلنے کی آواز سنائی دی جاسکتی یے۔

٭ جب بچہ پیٹ بھر کر دودھ پی لے گا تو خود چھاتی سے الگ ہو جائے گا۔

٭ بچہ مطمئن نظر آئے گا اور ڈکار بھی لے گا اور چھاتی سے اس کی دلچسپی ختم ہو جائے گی۔

اور اگر بچے کی حالت ( پوزیشن ) ٹھیک نہیں تو وہ جلدی جلدی دودھ پیے گا ہو سکتا ہے اپ کو اس کے گال بھی اندر ہوتے نظر آئیں۔

نہ تو دودھ نگلنا نظر آئے گا نہ اس کی آواز ہی آئے گی۔ کافی دیر تک دودھ پینے کے بعد بھی بچہ بے چین نظر آئے گا یا پھر دیر تک دودھ پینے کی کوشش کرے گا۔

یاد رکھیے

٭ دودھ پلاتے وقت ماں کی اپنی حالت ( پوزیشن ) آرام دہ ہونی چاہیے بہتر کے کہ وہ سہارے سے بیٹھے۔

٭ بچے کی حالت ( پوزیشن ) ٹھیک نہ ہونے کی صورت میں چھاتی کے نپل میں زخم ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   نظریۂ ارتفاقات از شاہ ولی اللہ (دوسری قسط)

٭ نپل کے زخم ہونے کی صورت میں نپل پر کوئی دوا یا کریم نہ لگائیں اپنی ڈاکٹر کو دکھا کر پینے کی دوا لیں۔

٭ نپل پر سپرٹ یا ڈیٹول نہ لگائیں اسے سے دودھ بنانے والی رطوبت پر اثر پڑتا ہے۔

٭ اگر بچے کی منہ میں زخم یا چھالے ہیں تو اس سے بھی نپل میں زخم ہو سکتے ہیں اس کا جلدی علاج کروائیں۔

٭ نپل میں زخم ہونے کی صورت میں بھی بچے کو دودھ دینا بند نہ کریں اور علاج جاری رکھیں۔

٭ بچے کو چھ ماہ تک صرف اور صرف ماں کا دودھ دیں کوئی اوپر کی چیز نہ دیں۔

٭ بچے کو چھ ماہ کے بعد باقی غذا کے ساتھ دو سال تک ماں کا دودھ جاری رکھیں۔

٭ بہت تنگ کپڑے پہننے سے بھی نپل میں زخم ہو سکتا ہے۔

ماں کا دودھ بچے کا حق ہے اسے اپنے حق سے محروم نہ کریں۔

(345 مرتبہ دیکھا گیا)

ڈاکٹر سید عطاء المصطفی

ڈاکٹر سید عطاء المصطفی

ڈاکٹر سید عطاء المصطفی ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں۔ سندھ ضلع سانگھڑ میں رہائش پذیر ہیں اور بیسک ہیلتھ ہونٹ کے انچارج کے طور پر تعینات ہیں۔ وہ ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ادب دوست انسان ہیں اور فارغ اوقات میں شعر و شاعری پر بھی کرتے ہیں۔ اردو سرائے پر ان کی طب کے حوالے سے تحریریں شائع کی جاتی ہیں جو کہ طب اور صحت کے زمرے میں کلک کرکے پڑھی جاسکتی ہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں