دید کی تردید

اور کچھ لڑکیاں ایسی ہوتی ہیں۔

کہ جن سے آپ کا ربط محض انگلی کے پوروں کا ربط ہوتا ہے۔
ایک ایسا ربط جو گاہے ہوا کی پالکی پر دلہن بنی آواز آپ کے دالان میں اتارتی، اس ادھ پکے غیر مربوط بندھن کو پسندیدگی کے اٹوٹ دھاگوں سے گانٹھتی ہے۔

یہ انگلیوں کے پوروں کا رشتہ، یہ آواز کا تعلق اگر آپ بے دھڑک ہیں.،، آپ میں وہ کچھ کہہ دینے کا حوصلہ ہے جو آپ کے دماغ میں ایک مرد ہونے کی حیثیت میں پنپتا ہے۔ تو وہ انگلیوں کے پوروں کا رشتہ، وہ آواز کا تعلق آپ سے کہلوانے میں راحت جانتا ہے۔

پھر ایک دن آپ پر ساتوں آسمان گرتے ہیں
پھر ایک دن پاتال آپ کو ہڑپ لیتے ہیں۔
پھر ایک دن آپ کی کرچیاں آپ کے قدموں میں ڈھیر ہوتی ہیں

یہ بھی پڑھیں:   قومی ترقی میں قومی زبان کا کردار

پھر ایک دن آپ اس لڑکی کا حیا کے غازے سے سجا، معصومیت کے ماس سے بنا چہرہ دیکھ لیتے ہیں. آپ کو احساس ہوتا ہے. اس سطح زمین پر جہاں آپ اپنی متعفن ہوسناکی کے ساتھ موجود ہیں. یہیں اسی زمین پر انسان اور جنوں کے علاوہ فرشتے بھی سکونت رکھتے ہیں. اور وہ لڑکی نہیں ایک فرشتہ ہے۔

وہ چہرہ ایسا ہوتا ہے۔۔۔

جو آپ کو اپنی معصوم شکل سے ایسی شرمندگی کے سمندروں میں پھینک دیتی ہے جن کے پانیوں کی کوئی اتھاہ نہیں ہوا کرتی۔
اور آپ ان پانیوں میں نتھر کر، وہاں ان گہرائیوں میں، ایک مہیب سکوت میں اپنے لفظوں اور ان رویوں سے خود کو پاک شفاف کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   تمباکو نوشی کے فوائد

جو روییے گرسناکی اور طلب کی خبر رکھتے تھے۔
اور پھر جب آپ ان سمندروں سے ابھرتے ہیں تو بلّور کی طرح ستھرے اور لشکتے ہوتے ہیں۔
ایسی شفافیت کہ اس کے پار دیکھنا کچھ جتن کا محتاج نہ ہو. اور آپ اپنے ان لفظوں اور رویوں پر خود سے بھی جھجھکتے ہیں . آپ ردعمل میں، شرمندگی میں، خود کو لعنت سے بچانے کی امید میں اس لڑکی کو ایک تقدس دیتے ہیں۔
آپ خود ندامتی کی سیاہ خلاؤں میں بے وزن ہوکر معلق ہوجاتے ہیں. پھر اس چہرے کی دید آپ کی ذات کی ایسی تردید کرتی ہے. کہ آپ کا کوئی شرف، کوئی وقار باقی نہیں رہتا. آپ قرار پکڑنے کیلئے اسی چہرے سے ایک احترام کا تجاذبی ناطہ جوڑتے ہیں۔
اور سکون آسمان سے ہولے ہولے گرتے ہوئے برف کے گالوں کی طرح آپ پر نازل ہونے لگتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   شعر کے اجزا کیا ہیں؟

(239 مرتبہ دیکھا گیا)

شاد مردانوی

جنابِ شاد کے لیے اگر یہ کہا جائے کہ وہ چلتی پھرتی لغت ہیں تو شاید غلط نہ ہوگا۔ ان کی اردو در اصل اردو نہیں بلکہ معرب و مفرس کسی ماورائے اردو شئے کی تارید کہی جاسکتی ہے۔ علم دوست ہونے کے ساتھ ساتھ منکسر المزاج بھی ہیں اور مطالعے کو اوڑھنا بچھونا رکھتے ہیں۔ ان کی ہنر کاری ان کی تحریروں سے عیاں ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

5 تبصرے

  1. Alif Siraj says:

    Umda Tasweer khenchi ap ne, jeety rahaen:)

  2. شاد مردانوی says:

    آپ کی محبت ہے محترم

  3. mohammad zakria says:

    شاد بھائ میں لینک کبھی کھولتا نہیں لیکن آپ کے پیچھے آگیا یہاں ، اور یار مزہ آگیا، بہت مزہ، یار یہ کہانی، بہت ، سچی سی لگی، کہانیاں تو ایسی بہت ہونگی، بس آپ نے شرط رکھی ہے، کہ آپ بے دھڑک ہو، جو ہر کوئ نہیں ہوسکتا، کمال ہے

    • شاد مردانوی says:

      عزیزم پسند کرنے پر سپاس گزار ہوں.
      جی بالکل یہ سچا واقعہ ہے. میری وال پر کمنٹ ملاحظہ فرمائیں

  4. Tanveer says:

    معاف کیجئے گا... تعریف کے لئے الفاظ نہیں رکھتا...
    رب آپ کو ہمیشہ شاد رکھے

تبصرہ کریں