رات یوں ہی بسر نہیں کرتے

آہ شام و سحر نہیں کرتے
غم کو هم مشتہر نہیں کرتے

دوست کہتے ہو خود کو تم میرا
دوست ایسا مگر نہیں کرتے

منزلوں کا پتا تو دیتے ہو
ساتھ میرے سفر نہیں کرتے

کیسی الجھن میں مبتلا هو تم
بات کیوں مختصر نہیں کرتے

ہم کو ہوتی اگر ہماری خبر
آپ کو کیا خبر نہیں کرتے

غم سنانے کا فائدہ ہی کیا
اشک ان پر اثر نہیں کرتے

یہ بھی پڑھیں:   قدرتی و اخلاقی شر اور خدا

تھام رکھا ہے یاد کا دامن
ہم بھی تنہا سفر نہیں کرتے

آؤ وارثؔ کریں ٹھکانہ کہیں
رات یوں ہی بسر نہیں کرتے

سید فراز وارثؔ

(67 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں