ریاضی میں لا محدودیت

اس مضمون سے پیوستہ گزشتہ مضمون کو یہاں پڑھا جا سکتا ہے۔

صد شکر ان تمام دوستوں کا کہ جنھوں نے پچھلی تحریر کو پڑھا اور اپنی آراء سے نوازا۔ کوشش یہی ہوگی کہ دقیق اردو کے بجائے ہمیشہ گلی محلے نکڑ والی سادہ اردو میں اپنی بات عرض کروں (گل اے وے کہ او اردو سانوں آندی وی نی۔۔۔!)۔  اس تحریر کا بنیادی مقصد گزشتہ تحریر پر پوچھے گئے ایک دلچسپ سوال کا جواب، ایک وضاحت اور ایک وعدہ وفا کرنا ھے۔ قارئین  سے پچھلی تحریر کو پیش نظررکھنے کا مشورہ ہے تاکہ اس تحریر کا context سامنے رہے۔

الف) ایک دلچسپ سوال اور جواب:

گزشتہ آرٹیکل کی تیسری مثال کہ جس میں ایسی بسز (Buses) کے infinite سلسسلے کا تذکرہ کیا گیا تھا  کہ جس میں سے ہر ایک بس میں  infinite  افراد سوار ہیں۔ اب ان تمام مسافروں کو گرینڈ ہلبرٹ ہوٹل میں ٹھرانا ہے۔ پھر یہ کہ ہوٹل انتظامیہ اعلان کرتی ہے کہ ہر مسافر اپنی بس کے سامنے قطار میں انتظار کرے اور تب زگ زیگ (zig zag ) ترکیب کے تحت مسافروں کو کمروں کی طرف روانہ کیا جاتا ہے۔ سوال یہ  ہے  کہ  زگ زیگ strategy ہی کیوں استعمال کی  گئی؟ کیا  ایسا ممکن نہیں کہ پہلے ایک ہی بس کے تمام مسافروں کو روم دیے جائیں اور پھر بس نمبر 2 اور پھر 3 وغیرہ؟ ملاحظہ ہو مندرجہ ذیل تصویر :

بہت دلچسپ سوال ہے۔۔۔ مگر اس اپروچ میں ایک پرابلم۔۔۔ بس نمبر 1 کے مسافروں کی لامحدودیت ہے۔  اب چونکہ ہم نے یہ طے کر لیا ہے کہ سب سے پہلے بس نمبر 1  کے مسافرین کو اکاموڈیٹ کرنا ہے اور چونکہ بس نمبر 1 کے مسافروں کی تعداد لامحدود ھے لہذا نہ مسافروں کی پہلی قطار ختم ہو گی نہ ہی اگلی قطار کی باری آئے گی۔ پس معلوم ہوا کہ صرف زگ زیگ یا اسی کے مماثل کوئی اور ترتیب ہی قابل عمل ہوگی۔

ب) Universe vs Cosmos ایک وضاحت:

دوسرا نکتہ کائنات کے متناہی یا لا متناہی ہونے کے بارے میں ہے۔  عمومی طور پر جب بھی ہم کائنات (universe) کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو ہماری مراد کل حاضروموجودات (all that exist) ہوتی ہے جبکہ جدید فزکس میں کل موجودات کو cosmos سے پکارا جاتا ہے۔ فزکس کی دنیا میں چند بہت اہم تشنہ سوالات میں سے ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا ہماری کائنات ہی واحد کائنات ھے یا cosmos لامتناہی متوازی کائناتوں (Multiverse or parallel universes) کا مجموعہ ہے؟  طبعیات دانوں کا ایک طبقہ (ہاکنگ اور ہمنوا) Multiverse کے حق میں رائے رکھتے ہیں اور دوسرا طبقہ (سر راجر پینروز اور ہمنوا) Multiverse کی سخت مخالفت کرتے ہوئے Multiverse نظریے کو طبیعاتی فکشن یا تخلیاتی منہ زوری سے تعبیر کرتے ھیں، جو  ایسی کائنات کے آغاز کی ابتدائی حالات کی fine-tuning کی  فطری تشریح کر سکے، جہاں زندگی کا وجود ممکن ہو۔ دوسرے لفظوں میں بحث یہ ھے کہ اگر ہم  cosmos کو کائناتوں کے ایک سیٹ کے طور پر مانیں تو سوال یہ ھے کہ کیا  cosmos سیٹ singleton (یعنی ایک ممبر, ہماری کائنات پر مشتمل سیٹ) ہے یا پھر قدرتی اعداد کے سیٹ ...1,2, کی طرح ایک infinite سیٹ ہے۔  یہاں ہم 1 سے مراد پہلی کائنات، 2 سے مراد دوسری کائنات اور  so on ، لے سکتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:   اسلام کا روایتی بیانیہ یا پھر جدید جوابی بیانیہ ؟

لا محدودیت

اس پوری تمہید باندھنے کا مقصد اپنے پچھلے آرٹیکل کے اس نکتے کو واضح کرنا تھا کہ جہاں یہ کہا گیا تھا کہ کائنات میں موجود ایٹمز کی تعداد 1 گوگول (googol) ہے، جس سے  بعض احباب نے یہ نتیجہ نکالا کہ میں cosmos کو متناہی تصور کر لیا ہے جب کہ میری مراد Cosmos نہیں بلکہ اس کا کہ ایک متناہی ممبر صرف ہماری کائنات ہے۔ اس موضوع پر میرا نقطہ نظر کیا ہے پھر کبھی تفصیلاً عرض کروں گا پر ایک بات طے ہے کہ اگر cosmos سیٹ infinite ھے تو پھر تیار ہوجائیے ناقابل یقین نتائج اور paradoxes کے لیے۔ جس کا کچھ مظاھرہ پچھلے آرٹیکل اور کچھ مندرجہ ذیل تیسرے نقطے میں ملاحظہ کیجیے گا۔ مختصراً یہ کہ اگر cosmos سیٹ لامتناہی ہے تو وہ سب کچھ جو آپ تصور کر سکتے ہیں، exist کرتا ہے۔ مثلا ایسی کائنات کہ جس کا حصہ ایک ایسی دنیا ہو کہ جٖس میں آپ امریکہ کے صدر ھوں یا پھر کوی بڑی ہالی وڈ یا بالی وڈ کی سیلیبریٹی ہوں یا پھر اسٹفن ہاکنگ سے بڑے طبعیات دان ہوں۔۔ قطعی طور پر وجود رکھتی ہیں۔

ج) بعض جز کُل کے برابر ہوتے ہیں۔ لا محدودیت کی ایک اورپراسراریت:

ابتداے انسانیت کا وہ دور کہ جب ہندسوٖں  سے لے کر کسی بھی ریاضیاتی تصور تک کا کوئی وجود نہ تھا، اس دور کا چرواہا اپنی بھیڑ بکریوں کا حساب کس طرح رکھتا ہوگا؟ فطری جواب یہ ہے کہ شاید وہ کنکریوں کے ذریعے حساب رکھتا ہوگا۔ صبح چراہ گاہ جاتے ہوے جتنی بھیڑ بکریاں ہوتی ہوں گی اتنی ہی کنکریاں جمع کرلیتا ہوگا اور شام ڈھلے واپس آتے ہوے کنکریوں کے حساب کے ذریعے ہی معلوم کرتا ہوگا کہ بھیڑ بکریوں کی تعداد صبح جتنی ہے کہ نھیں۔ شاید یہ چرواہا ہی وہ پہلا شخص ھوگا کہ جس نے  one-one correspondence (دو طرفہ عددی تعلق) کے تصور کو استعمال کیا ہوگا۔ ریاضی کے چند بنیادی اہم تصورات میں سے ایک تصور  one-one correspondence  کا ھے کہ جس کے ذریعے  ہم یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ ایک مجموعے (متناہی و لا متناہی) میں موجود اشیاء کی تعداد کو گننا ممکن ہے کہ نھیں ہے۔  آیے چند  مزید مثالوں سے اس تصور کو  سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   دعا سیریز 5: (جزاكَ اللهُ خیرا)

1۔  پہلی مثال میں مندرجھ ذیل دو سیٹ/مجموعے لیجے۔

کیا آپ ان دو مجموعوں کے درمیان کوئی دو طرفہ تعلق دیکھ سکتے ہیں؟ یقیناً یہ زیادہ مشکل نہ ہوگا کیوں کہ ہم کہ سکتے ہیں a پہلا، b دوسرا اور اسی طرح z چھبیسواں حرف ھے۔ یعنی مجموعے A کے ھر رکن کا مجموعے B کے کسی ایک عدد کے ساتھ تعلق جوڑا جا سکتا ھے۔ اور بالکل اسی طرح B میں موجود ہر عدد کاA  میں موجود کسی ایک حرف سے تعلق قائم کیا جا سکتا ہے۔ یعنی اگر کہا جائے کہ بیسواں حرف کونسا ھے یا پھر p کونسواں حرف ھے تو جواب دینا زیادہ مشکل نہیں۔ پس ان دونوں مجموعوں کے درمیان one-one correspondence موجود ہے اور اس دو طرفہ تعلق کا قطعی نتیجہ یہ نکلتا ھے کہ دونوں مجموعوں میں ارکان کی تعداد برابر ھے۔

دوسری مثال دینے سے پہلے یہ ذہن نشین کر لیجیے کہ اوپر دی گئی مثال کی طرح اگرہم کسی بھی مجموعے کو، جو کہ محدود یا لا محدود اشیاء و اجزاء پر مشتمل ھو، countable کہیں گے، اگر اس مجموعے میں موجود تمام اشیاء کے ساتھ، بعض یا پھرتمام قدرتی اعداد کا دو طرفہ تعلق قائم کیا جانا ممکن ہو۔

2۔ فرض کیجیے کہ ھم اسی سال 11 نومبر کو “یوم لامحدودیتِ” (Infinite day) کے طور پر منانا شروع کر دیتے ہیں۔ اب ہم کہ سکتے ہیں کہ پہلا Infinite day 2015، دوسرا 2016 اور دسواں Infinite day 2025 میں منایا جائے گا۔  بالکل اسی طرح یہ بآسانی بتایا جا سکتا پے کہ 2045 میں تیسواں Infinite day ہوگا اور 2115 میں 100 واں  Infinite dayمنایا جائے گا ۔ اس مثال میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ھے کہ "ایامِ لامحدودیت" اور قدرتی اعداد کے درمیان فطری دو طرفہ تعلق موجود ھے لہذا "ایامِ لامحدودیت" کا سیٹ ایک countable سیٹ ھے۔

ان دو امثال کے اچھی طرح سمجھنے کے بعد اب "بعض و کل" کے اصل معمے کی طرف آتے ہیں۔ مندرجہ ذیل اعداد کے مجموعوں یا سیٹس کو زیر غور لائیے۔

باآسانی دیکھا جا سکتا ہے کہ سیٹ N قدرتی اعداد کا سیٹ ہے، جبکہ O تمام طاق (odd) اعداد کا سیٹ، E تمام جفت (even) اعداد کاسیٹ اور Z تمام منفی و مثبت اعداد کا سیٹ ہے۔ مزید یہ  کہ E اور O سیٹ N کے جز (subset) ہیں۔ اور اسی طرح سیٹ N, E اور O تمام سیٹ کا Z جز ہیں۔

بات کو مزید سمجھنے کے لیے فرض کیجیے کہ آپ کے پاس کتابوں کا ایک ضخیم مجموعہ/لائبریری ہے، اب اس مجموعے میں سے آپ فلسفے اور ریاضی کی کتابوں کا الگ مجموعہ بنا لیتے ہیں۔ یہ مجموعہ یقیناً کُل کتابوٖں کے مجموعے سے کم ھوگا۔ مگر کیا ایسا ممکن ہے کہ آپ اپنی لائبریری میں سے ایک مجموعہ کتب (محدود یا لا محدود) خارج کر لیں مگر پھر بھی اُپ کی لایبرریری میں کوی کمی واقع نہ ہو؟ تو جواب ھے ھاں ایسا ممکن ھے مگر تب کہ جب آپ کی لائبریری میں کتب کی تعداد لامتناہی ھو۔

یہ بھی پڑھیں:   تمباکو نوشی کے فوائد

واپس آتے ہیں مندرجہ بالا سیٹس کی  مثال کی طرف۔ اب اگر یہ پوچھا جائے  سیٹ O اور E کے درمیان one-one correspondence  موجود ہے تو جواب فطری طور پر ہاں ہوگا کیوں کہ بآسانی دیکھا جا سکتا ہے کہ جتنی تعداد جفت اعداد کی ھے اتنی ہی تعداد طاق اعداد کی ہے۔ مگر اب یہ پوچھا جائے کہ کیا N اور O کے درمیاں one-one correspondence  موجود ہے؟ تو جواب یقیناً مثبت ہو گا کیوں کہ ہم کہ سکتے ہیں کہ 1 پہلا طاق عدد ہے، 3 دوسرا  اور 5 تیسرا طاق عدد ہے and so on ۔ پر ٹھریے اس کا مطلب کیا ہوا ؟ سیٹ O میں اتنے ہی طاق اعداد موجود ہیں جتنے N میں قدرتی اعداد۔، پر بظاہر N میں اعداد کی تعداد O میں اعداد کی تعداد سے زیادہ ہونی چاہیے کیوں کہ N میں نہ صرف طاق بلکہ جفت اعداد بھی موجود ہٖیں۔ مگر ایسا نھیں، N اور O کے درمیان  one-one correspondence اس حقیقت کی عکاس ھے کہ سیٹ    O سیٹ N کا جز ہونے کے باوجود size میں N کے برابر ہی ھے۔  بعینہ اسی دلیل سے یہ اخذ کیا جا سکتا ھے کہ سیٹ E سیٹ N کے سائز کے برابر ہے۔  اب توجہ Z کی طرف مبذول کیجیے۔

مندرجہ بالا تصویر سے یہ واضح ہے کہ سیٹ N کا سیٹ Z کا جز ہونے کے باوجود، دونوں میں one-one correspondence  موجود ہے اور مزید یہ دونوں میں ارکان کی تعداد بھی برابر ہے۔ پس معلو م ہوا کہ مندرجہ بالا چاروں بظاہر مختلف لگنے والے سیٹس کے ارکان کی تعداد برابر ہے با وجود اسکے کہ ان میں بعض، بعض کا جز ہیں۔

خلاصہ یہ کہ اگر  لامحدود اور countable مجموعے کا  ایک         countable  اورلامحدود ذیلی مجموعہ لیں تو دونوں میں ارکان کی تعداد برابر ھی ہوگی۔ جو بظاھر ہماری روزمرہ منطق کے خلاف ہے مگر لامحدودیت کی پراسرار دنیا میں بعض کل و جز کی تفریق باقی نہیں رہتی۔

(517 مرتبہ دیکھا گیا)

جاوید حسین

جاوید حسین صاحب سائنسی مضامین لکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ حال میں ریاضی میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ ان کی تحریروں سے فائدہ اٹھائیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

3 تبصرے

  1. چکر آنے لگے ہیں مجھے تو

  2. sajjad says:

    سر اپ نیں بیت عمدہ مضمون لکھا ہے Infinity کی پر اسریت نہ ختم ہونی والی ہے ....

  3. Nadeem says:

    بہت کچھ سیکھنے کو ملا کہ ہر کل بعض میں کلی طور پر موجود نہیں ، جبکہ ہر بعض کل میں کلی طور پر موجودہے

تبصرہ کریں