زبان کی آفات

ربیعہ اسلمی رضی اللہ عنہ کا تعلق قبیلہ بنو اسلم سے تھا، کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی معاملے پر بحث و تکرار کرتے ہوئے مجھ میں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میں کچھ بات بڑھ گئی، اور انہوں نےمجھے کوئی سخت لفظ کہہ دیاجو مجھے بہت ناگوار گزرا،فوراً انہیں خیال ہوا اور مجھ سے فرمانے لگے کہ  تو بھی مجھے کہہ دے تاکہ بدلہ ہوجائے۔

میں نے کہنے سے انکار کیا، تو کہنے لگے یا تو کہہ لو ورنہ میں حضورﷺ سے جاکر عرض کرونگا، میں نے اس پر بھی جوابی لفظ کہنے سے انکار کردیا  تو وہ اُٹھ کر چلے گئے، بنو اسلم کے کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے کہ یہ بھی اچھی بات ہے کہ خود ہی زیادتی کی اور خود ہی الٹا جاکرحضورﷺ سے شکایت کریں گے۔

میں نے کہا تم جانتے بھی ہو یہ کون ہیں؟ یہ ابوبکرصدیق ہیں، اگر یہ خفا ہوگئے تو اللہ کے رسول ﷺ بھی مجھ سے خفا ہوجائیں گے، ایسی صورت میں ربیعہ کی ہلاکت میں کیاتردُّد ہے، اس کے بعد میں خود رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور قصہ عرض کیا۔

آپؑ نے فرمایا: ربیعہ تم نے بالکل ٹھیک کیا، تمہیں جواباً اور بدلے میں (سخت لفظ) نہیں کہنا چاہیے ، البتہ اس کے بدلے میں یوں کہو کہ ، " اے ابوبکر ، اللہ تمہیں معاف فرمائیں" (حکایاتِ صحابہ)

یہ بھی پڑھیں:   دعا سیریز 5: (جزاكَ اللهُ خیرا)

یہ ایک ادنیٰ مثال ہے صحابہ کی تربیت اور ایمان کی کہ ایک معمولی کلمے کے زبان سے ادا ہونے کی صورت میں انہیں اس قدر تنبہ اور خدا کا خوف طاری ہوا کہ فی الفور بدلے میں جوابی لفظ کہہ دینے کی گزارش کی، اوّل خود درخؤاست کی اور بعد ازاں رسول اللہﷺ تک بات لے جانے کا ارادہ فرمایا تاکہ ربیعہ بدلہ لے لیں۔

ایمان اصلاً حقیقتِ اعلیٰ کی معرفت کا نام ہے ، ایک شخص جب ایمان کو پالیتا ہے تو وہ اسکی مکمل شخصیت کااحاطہ کر لیتا ہے،  اس کے اعضاء و جوارح خدا کی مرضی کے تابع ہو جاتے ہیں،خُدا کی عظمت و بڑائی اور اس کے آگے جوابدہی کا احساس اسے بندوں کے ساتھ معاملات میں بھی حددرجہ محتاط بنا دیتا ہے،  ایسے شخص کے لیے ممکن نہیں رہتا کہ وہ زبان کے تیرونشتر سے لوگوں کو گھائل کرے، کسی وقت جذبات کی رو میں بہہ کر اگر کوئی سخت کلمہ زبان سے ادا کربھی دے تو ایمان جس عجزوفروتنی کو اسکی شخصیت میں  پیداکردیتا ہے اس کے سبب اس کی تلافی کیے بغیر اسے چین  نہیں ملتا۔

گھر و خاندان ہو یا ادارے و اقوام، آپس کے جوڑ و محبت میں سب سے بنیادی حیثیت زبان کے درست استعمال کی ہے،  زبان ہی کے غلط استعمال کے نتیجے میں گھر بھی برباد ہوتے ہیں اور ادارے و اقوام بھی۔

یہ بھی پڑھیں:   دنیا چاند پر پہنچ گئی اور آپ۔۔۔؟

الفاظ  کے تیر و نشتر جوزہر رشتوں اور تعلقات میں پیدا کرتے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ اپنی ازواج کے ساتھ موجود تھے اور دوران گفتگو حضرت عائشہ صدیقہؓ نے حضرت صفیہؓ کے بارے میں فرمایا کہ صفیہؓ میں کوئی عیب نہ بھی ہو تو بھی کیا یہ کافی نہیں ہے، اور ساتھ ہی ہاتھ سے ان کے چھوٹے قد کا اشارہ کیا ! اس پر آپﷺ نے فرمایا " عائشہؓ تو نے وہ گناہ کر دیا ہے کہ اگر اسے سمندر میں ڈالا جائے تو سارے سمندر کو کڑوا کر دے ! (سنن ابی داوُد، جلد سوئم کتاب الادب :4875

احادیث کے زخیرے میں اس قسم کی روایات بکثرت ملتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ نامہ اعمال کو برباد کرنے اور لوگوں کو جہنم میں بھر دینے کی سب سے بڑی وجہ زبان کا غلط اور بے جا استعمال ہے۔

چنانچہ  ایک روایت میں ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اسلام کو دین کا سر، نماز کو اس کا ستون اور جہاد کو اس کی چوٹی قرار دیا اور پھر فرمایا اے معاذ کیا میں تمہیں ان سب کی بنیاد نہ بتاوں؟

یہ بھی پڑھیں:   مری عمر بھر کی کمائی تھی

معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کیوں نہیں حضور! ضرور بتائیے ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک کو پکڑ کر فرمایا اسے روک لو۔

معاذ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا یا رسول اللہ کیا باتوں پر بھی گرفت ہو گی؟

تو آپ ﷺ نے فرمایا تمہیں موت آ جائے معاذ! باتیں ہی تو انسان کو منہ کے بل آگ میں گرائیں گی۔ ( رواہ احمد، ترمذی، ابنِ ماجہ)

ایک صاحبِ ایمان کے لیے اس کا ہرہر عمل اللہ کے ہاں جوابدہی کا معاملہ ہے، اگر بات کرنے سے قبل انسان یہ سوچ لے کہ اس کی بات سننے والے کے کانوں تک پہنچنے سے پہلے اللہ تک پہنچ رہی ہے، تو غلط اور بےفائدہ کلام کا اپنے آپ خاتمہ ہوجائے۔

(92 مرتبہ دیکھا گیا)

سید اسرار احمد

سید اسرار احمد ایک متحمل اور بردبار شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کی تحریروں میں علمی اور فکری بالیدگی نمایاں ہوتی ہے۔ ان سے جڑے رہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں