زندگی کی بے ترتیبی

"زندگی"  ترتیب بلکہ حُسن ِترتیب کا نام ہے- لیکن کبھی کبھی یہ ترتیب اپنے آپ سے باہر ہو جاتی ہے،جس طر ح کناروں کے اندر بہنے والا خاموش دریا کبھی نہ کبھی اپنے آپ سے باہر ہوجاتا ہے اور پھر تمام زندگی کو بے ترتیب کر دیتا ہے، عمیق وتاریک گہرائیوں میں سُکوت کا سمندر ساحل سے ٹکراتے ٹکراتے کبھی آبادیوں پر چڑھ دوڑتا ہے۔

نفع بخش ہوائیں کبھی آندھی و طوفان کا روپ دھارلیتی ہیں اور  عتاب بن کر  زندگی کو خس و خاشاک کی مانند بکھیر کررکھ دیتی ہیں،بے ترتیب ہونا عناصر کے پریشان ہونے کا ایک مظاہرہ ہوتا ہے،ایک وارننگ اور ایک چیتاونی  ہوتی ہے کہ محفل احباب ہمشہ تر تیب میں قائم نہیں رہتی ہے.حلقہ دشمناں بھی ترتیب سے باہر ہو جاتا ہے،انسان بیٹھے بیٹھے اپنی نگاہوں میں بدل سا جاتا ہے ، کبھی جن باتوں پر افسوس ہوتا ہے اب ان باتوں پر افسوس نہیں ہوتا کہ انسان جان لیتا ہے کہ حُسن ترتیب عارضی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   انسان اور نظریۂ حیات

بندشیں ٹوٹ جاتی ہیں ، تسبیح کے دانے بکھر جاتے ہیں اور انسان سوچتا رہ جاتا ہے کہ ضبط بے ضبط ہوگیا -احتیاط بے احتیاطی ہوگئی،
انسان چنتا ہے گرے ہوئے موتی اور خیال و خامہ کی تسبیح  پھر سےمرتب کرنے کی کوشش کرتا ہے -
لیکن بےترتیبی غالب آکر رہتی ہے، عناصر کی درہمی و برہمی  انسان کو گر فت میں لے لیتی ہے اور وہ روتے روتے ہنس پڑتا ہے اور ہنستے ہنستے رو پڑتا ہے!

زندگی کی اسی بےترتیبی کے اندر خود کو بےترتیب ہونے اور ٹوٹ کر بکھر جانے سے بچانا ایک فن ہے اور اسفن کو حکمت کہتے ہیں،

3 اگست 2008 کو اخبارات میں ایک خبر چھپی کہ ایک معروف سرکاری شخصیت جو اسلام آباد کی ایک پوش کالونی میں رہائش پذیر تھے، انکی اہلیہ نے گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کرلی، حالانکہ وہ ایک کامیاب خاتون اور ایک کاروباری ادارے کی بہترین منتظم   Manager تھیں ، ان کے بارے میں ان کے شوہر نے بتایا کہ وہ ایک مثالیت پسندIdealist ,  انسان تھیں، اور اسی آئیڈیلزم کے سبب اپنی زاتی زندگی سے غیرمطمئن تھیں،  ان کی زندگی میں کئی ایسے نشیب و فراز آئے جس کے سبب وہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں، اس ٹوٹ پھوٹ اور عدم اطمینانی نے انہیں اس نہج پر پنہنچایا کہ بالآخر انہوں نے زندگی کا ہی خاتمہ کرڈالا،

یہ بھی پڑھیں:   العالم فی العالم

اس دنیا میں کوئی شخص چاہے اعلیٰ عہدیدار ہو یا معمولی ملازم ہرحال میں زندگی کی اونچ نیچ اور نشیب و فراز سے دوچار ہوکررہتا ہے، زندگی کی یہ ہمہ ہمی ایک ناگزیر برائی ہے ،  جو بربنائے امتحان قائم کی گئی ہے،  اس صورتِ حال کو گوارا کرلینا سب سے بڑی عقل مندی ہے،کیوں کہ اس کو  گورا نا کرنا مایوسی کی طرف لےجاتا ہے یا خود کشی کی طرف،

حسّاس ہونا ایک خوبی ہے، کیونکہ اس کا مطلب آپ بےحس نہیں ہیں،لیکن اسی کے ساتھ ساتھ ضرورت سے زیادہ حسّاس ہونا ایک برائی ہے جس کا نقصان انسان کسی اور کونہیں خوداپنے آپکو پنہنچاتا ہے،

یہ بھی پڑھیں:   جیری سپرنگر کلچر اور ہمارا میڈیا

بڑی سے بڑی آزمائش آجائے تو گھبرائیں نہیں ! .. بڑی سے بڑی حماقت کر بیٹھیں تو دل چھوٹا نہ کریں ! ... بس یہ یاد رکھیں کہ ٹھیک اسی وقت اور عین اسی لمحہ کوئی ذہین آدمی ہے جو پودینا سمجھ کر ہرا دھنیا خرید رہا ہے .. اور اس دروازے کو PUSH کررہا ہے جس پر صاف صاف PULL لکھا ہوا ہے۔

(123 مرتبہ دیکھا گیا)

سید اسرار احمد

سید اسرار احمد ایک متحمل اور بردبار شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کی تحریروں میں علمی اور فکری بالیدگی نمایاں ہوتی ہے۔ ان سے جڑے رہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

1 تبصرہ

  1. مثالیت پسندی کا میں خود شکار ہوں ۔۔۔ لیکن اب تنگ آ گیا ہوں
    🙂

تبصرہ کریں