سائنس اور ایمان بالغیب

اللہ ہمیں غیب پر ایمان لانے کا حکم دیتا ہے۔ یعنی ایسی باتوں پر ایمان جن کو محض ہم اپنے تخیل سے محسوس کر سکتے ہیں۔ لیکن مادی حسوں (Senses) کے ذریعے انہیں جانچا اور پرکھا نہیں جا سکتا۔ جیسے اللہ پر ایمان، فرشتوں پر ایمان، جنت دوزخ پر ایمان، روز قیامت پر ایمان وغیرہ۔ اللہ نے جتنے بھی پیغمبر بھیجے انہوں نے غیب پر ایمان لانے ہی کی تلقین کی۔ لیکن نبی آخر الزمان ﷺسمیت سب نبیوں اور رسولوں نے یہی بتایا کہ ان کے پاس یقینی ذریعہ علم وحی موجود ہے۔ ان سے فرشتے ملاقات کرتے ہیں۔ بعض انبیاء کو غیب کی مختلف چیزوں کی کم و بیش زیارت بھی کروائی گئی۔ جیسا کہ حضرت محمد ﷺ کو معراج کے موقع پر آسمانوں ، جنت دوزخ اور دیگر جگہوں کی سیر بغرض مشاہدہ کروائی گئی۔ تمام الہامی مذاہب غیب پر ایمان کی دعوت دیتے ہیں۔ نہ صرف اسلام بلکہ عیسائیت اور یہودیت بھی موت کے بعد زندگی اور دیگر غیب کی خبروں پر ایمان رکھتے ہیں۔

سائنس پریکٹیکل پر یقین رکھتی ہے۔ وہ مشاہدہ اور تجربہ کو اہمیت دیتی ہے۔ سائنس ان چیزوں کو تسلیم نہیں کرتی جن کو کسی بھی ذریعے سے دیکھا یا پرکھا نہ جا سکے۔ سائنس مذاہب کو اکثر طعنہ دیتی ہے کہ ان کی بنیادیں افسانوی اور مافوق الفطرت وہمی چیزوں پر رکھی گئی ہیں۔ سائنس کے بقول مذاہب کے بیان کردہ تصورات چونکہ تجربے سے پرکھے نہیں جا سکتے اس لیے عملی زندگی میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ سائنس کے اس نظریے پر ہر وہ سائنسدان ایمان رکھتا ہے جو سائنس کو بطور نظریہ تسلیم کر چکا ہے۔ایسے لوگ دینِ سائنس کے پیروکار ہیں اور سائنس کی پیروی بطور مذہب کرتے ہیں۔ وہ افراد ان میں شامل نہیں جو پیروکار تو اپنے آبائی نظریات کے ہیں لیکن سائنس سے محض استفادہ کرتے ہیں۔

آئیے مذہب کے علم غیب اور سائنس کے تجربے کا ذرا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔

دنیا میں جتنے بھی پیغمبر آئے انہوں نے دنیا کے سامنے ایک دعویٰ کیا کہ ہم اس کائنات کے خالق کے نمائندے ہیں۔ ہمیں حقائق کا علم ہے۔ ہمارے پاس یقینی ذریعہ علم وحی کی صورت میں موجود ہے۔آج کے دور میں بھی رسولوں کو سچ تسلیم کرنے کے لیے بقول سید مودودی درج ذیل دلائل موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   سوشل میڈیا اور تحریک لادینیت (قسط اول)

اول: وہ سب کے سب سچے اور امانت دار تھے، کسی نبی کی قوم نے کبھی اس پر جھوٹ اور بددیانتی کا الزام نہیں لگایا۔بلکہ مخالفت کے باوجود ان کی سچائی اور دیانت کو تسلیم کیا۔

دوم: انہوں نے مختلف زمانوں اور مختلف علاقوں میں مبعوث ہونے کے باوجود ایک ہی دعویٰ کیاکہ اللہ ایک ہے، میں اس کا نمائندہ ہوں اور موت کے بعد ایک دن ایسا آئے گا جب ہر ایک کو اس اللہ کے سامنے پیش ہونا ہو گا۔یعنی توحید، رسالت اور آخرت کا عقیدہ۔

یہ تعلیمات عین فطری ہیں۔یہی وجہ ہے دنیا کے اکثر انسان کسی نہ کسی خدا یا بالادست قوت پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ اختلافات کے باوجود کچھ ہستیوں کو معتبر اور متبرک جانتے ہیں۔ موت کے بعد حیات کو کسی نہ کسی شکل میں تسلیم کرتے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کی رہنمائی کی جائے کہ جس بالادست ہستی کو آپ تسلیم کرتے ہیں اس کا صحیح تصور کیا ہے؟ وہ کون سی معتبر شخصیات ہیں جن کی پیروی سے آپ حقائق تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس زندگی کی حقیقیت کیا ہے اور اس کے بعد کیا ہونے والا ہے؟

سائنس کا آغاز تو اسی وقت ہو گیا تھا جب سے انسان وجود میں آیا۔ مشاہدے اور تجربے سے اس نے بہت کچھ سیکھا۔ لیکن اجتماعی طور پر سائنس کو بطور دین یا نظریہ چند صدیاں قبل ہی اپنایا گیا۔ سائنس کا اصل دائرہ کار انسانیت کی خدمت تھی۔ انسان کے لیے سہولیات کی تلاش، اس کی ضروریات کو پورا کرنا، اس کی تکالیف کو دور کرنے پر تحقیق کرنا شامل تھا۔ لیکن بہت جلد اس نے انسان کے مقصد زندگی کے تعین کو بھی اپنے دائرہ کار میں لے لیا۔جدید دور کا انسان کم و بیش سائنسی افکار و نظریات سے متاثر ضرور ہے۔

اگر ایمان بالغیب کے مدمقابل سائنس کے ایمان بالمشاہدہ و التجربہ کا جائزہ لیں تو اس کا کھوکھلا پن بالکل نمایاں ہو جاتا ہے۔

اول: سائنسدانوں کی ذاتی زندگی کی صداقت و امانت کی گواہی ان کی اپنی قومیں اور قریبی رفقاء دینے سے قاصر ہیں۔ اسی طرح انہوں نے سائنس کے میدان میں بھی بہت سے موقعوں پر واضح جھوٹ اور فریب سے کام لیا۔آج کل تازہ معاملہ چاند پر جانے اورجانے کے متعلق مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ جس میں آپ کو سائنسدانوں کے گروہوں کے اختلافات کھل کر نظر آئیں گے۔ اس ڈرامے کو فلمانے کی کہانیاں بھی زبان زد عام ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   سائنس اور مذہب کا تصادم

دوم: سائنسدانوں کے درمیان سخت اختلاف رائے ہے۔ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے پاس کوئی یقینی ذریعہ علم نہیں ہے۔ بلکہ سب اپنے اپنے مشاہدے اور تجربے کی روشنی میں جس کو حقیقت سمجھ رہے ہیں اسی کو حق سمجھتے ہیں۔ سائنسی مفروضات اور نظریات میں اس کی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں۔

سوم: سائنس کا علم چونکہ مشاہدے اور تجربے پر مبنی ہے اس لیے گزرتے حالات کے ساتھ نہ صرف اس کے نظریات (Theories) بلکہ حقائق (Facts) میں بھی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ زیادہ دور کی بات نہیں صرف چند عشرے پہلے سورج ساکن ہوا کرتا تھا اور آج کا سورج 220 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار کے ساتھ اپنی کہکشاں کے مرکز کے گرد چکر لگا رہا ہے۔

چہارم: سائنس تجربے کو مانتی ہے لیکن اس نے ان معاملات میں بھی دخل دینا شروع کر دیا ہے جہاں اس کے تجربے کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔یہ اپنے ہی بنائے ہوئے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

پنجم: سائنسدان دین سائنس کے پیغمبر ہیں۔ وہ جیسا بتاتے ہیں ان کے پیروکار اسی کی پیروی کرتے ہیں۔ ہر فرد براہ راست کوئی تجربہ نہیں کرتا۔ یعنی وہ بھی اپنے سائنسی پیغمبروں یعنی سائنسدانوں کی طرف جاری ہونے والی وحی پر ایمان بالغیب رکھتا ہے۔ کتنے لوگوں نے خلیے (Cell) کو دیکھ رکھا ہے۔ صرف ان لوگوں نے جو بیالوجی کے شعبے سے وابستہ ہیں یا اس کے طالب علم ہیں ۔ لیکن ان کی گواہی پر باقی ساری دنیا سیل پر ایمان رکھتی ہے۔ اگر آج کوئی اٹھ کر کہہ دے کہ خلیہ نام کی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی تو سب اسے جھوٹا یا پاگل قرار دیں گے۔ یہ تو مائیکروسکوپ سے نظر آنے والی ایک عام چیز تھی لیکن ایٹم کو خود کتنے سائنسدانوں نے دیکھ رکھا ہے؟ لیکن چند سائنسدانوں کی تحقیق اور گواہی کی بنیاد پر ہر فرد ایٹم کو لازمی تسلیم کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   وقت کا طلسم اور عبادات

نہ صرف حقائق بلکہ مفروضوں پر بھی اسی طرح ایمان لایا جاتا ہے۔ کیا ایووگاڈرو نے ہر مول کے اندر پائے جانے والے ایٹموں ، مالیکیولوں یا آئنز کو گن کر ان کی تعداد بتائی ہے؟ ردرفورڈ کے ایٹم کے نظریے کو پڑھنے والے کتنے لوگوں نے ایمان بالغیب کی بجائے سونے کے اوراق میں سے الفا ذرات گزار کر اس کو تسلیم کیا ہے۔کتنے ہی تصورات (Theories) ایسے ہیں جن کے متعلق خود سائنسدان بھی لا علم ہیں۔ لیکن ان سائنسدانوں کےمفروضے (Hypothesis)پر لوگ ایمان رکھتے ہیں۔ نظریہ ارتقاء ان میں سے ایک ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ایمان بالغیب سے چھٹکارہ پانا انسان کے بس کی بات ہی نہیں چاہے وہ مذہب کا میدان ہو یا سائنس و عقل کا۔ البتہ اسے پیروی کے لیے درست شخصیات کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ ایسی بات بھی نہیں کہ سائنس کے مشاہدات و تجربات ضروری نہیں ہیں اور نہ ہی مذہب انسان کو اندھا مقلد بنانا چاہتا ہے۔ بس یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دونوں کا دائرہ کار الگ ہے۔ زندگی کیوں پیدا کی گئی؟ کس نے پیدا کی؟ اس کے مقاصد کیا ہیں؟ اس کے بعد کیا ہو گا؟ ان سوالات کے جوابات ہمیں صرف حواس خمسہ کے ذریعہ نہیں مل سکتے بلکہ عقل سے غور و فکر اور وحی کی رہنمائی ضروری ہے۔ جبکہ سائنس کا میدان یہ ہے کہ زندگی کی مشکلات و تکالیف کو کیسے کم کیا جائے اور کیسے اسے سہولت فراہم (Facilitate) کیا جائے۔دوسرے لفظوں میں سائنس ضرورت زندگی میں انسان کی معاون ہے۔ اور مذہب یا دین یا نظریات مقصدِ زندگی کو متعین کرتے ہیں۔ اب اگر ان میں سے ایک دوسرے کے دائرہ کار میں مداخلت کرے گا تو زندگی کا توازن بگڑ جائے گااور نتیجہ کنفیوژن کی صورت میں ہی نکلے گا۔

 

(116 مرتبہ دیکھا گیا)

یاسر غنی

یاسر غنی

یاسر غنی صاحب سائنس کے شعبے نباتیات میں ماسٹرز ہیں۔ فی الحال ایک کالج کے پرنسپل ہیں اشاعت و بلاغت میں سر گرم ہونے کے ساتھ مطالعے کو اپنا مشغلہ رکھتے ہیں۔ اور لوکل اخبارات میں "نشانِ منزل" کے عنوان سے کالم بھی لکھتے رہتے ہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں