سائنس اور مذہب کا تصادم

سائنس اور مذہب میں فرق انانیت کا ہے۔ سائنس کی اپنی انانیت ہے۔ مذہب کے اپنے قضیے ہیں۔
کچھ لوگ مذہب والے ہیں۔ کچھ سائنس والے۔ لیکن ہم تیسری مخلوق ہیں۔ یعنی مذہب کو بھی اس کے پورے اور معقول رویوں کے ساتھ مانیں گے اور سائنس کو بھی۔
سائنس کی انانیت یہ ہے کہ اس سے آپ پیش گوئیاں قبول نہیں کرواسکتے۔ خصوصاً جب وہ مذہبی زبان میں ہوں۔ مادی سیاق و سباق سے باہر ہوں۔ یہ ایک بہت اہم نکتہ ہے جو سائنس اور مذہب کے مابین مورچے کے پتھر کا کردار ادا کرتا ہے۔
یعنی یہ کہ آپ اس سے تختِ سلیمانی نہیں قبول کروا سکتے۔ لیکن سات ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرنے والا ایک سکریم جیٹ راکٹ ضرور قبول کروا سکتے ہیں۔
اب سائنس اور مذہب کے تقابل کو تو چھوڑیے یہاں جو سیاق و سباق کے اس سخت افتراق کا کیا کیجیے گا؟
ایک ایسا خدا بالکل نا قابلِ قبول ہے جو آن واحد میں جزو کُل کی خبر رکھ سکتا ہو۔ لیکن سیٹلائٹ کی خبر ضرور قابلِ قبول بن سکتی ہے۔
ہوا یوں ہے کہ اس نئے آرڈر نے عقائد کی تشکیل میں ایک نیا کارنامہ سر انجام دیا ہے۔ اور یہ باور کروانے کی کوشش کی ہے کہ "اب جو یہاں اس پلیٹ فارم سے کہا جائے گا اور بتایا جائے گا، صرف اور صرف اسے ہی بنا کسی اعتراض کے ماننا ہوگا۔ کیونکہ یہی واحد پلیٹ فارم ہے جو سنی سنائی باتوں پر نہیں، تجربے سے ثابت شدہ باتوں کو آگے بڑھاتا ہے۔ چنانچہ آپ اب سے اس پلیٹ فارم سے محض سنی سنائی باتوں کو بھی پورے تیقن کے ساتھ آگے بڑھا سکتے ہیں"۔
اس کا مطلب کیا ہے؟
اس کا مطلب سادہ سا ہے۔
یعنی کہ ایک عقیدہ جو "سائنسی توجیہہ" کے نام پر قائم کیا جائے گا، اسے اپنے تمام تر منطقی تضادات کے ساتھ بھی "ریشنلسٹ ویو" کہا جاسکے گا۔ کیونکہ اس کی اتھارٹی ان "سپریم" اداروں کے پاس ہے جو ان علوم کے "واحد ماخذ" کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایسے میں ہوتا یوں ہے کہ جس الیکٹران کو آپ نے کبھی نہیں دیکھا، اس کا کوئی مناسب تجربہ بھی آپ کی نظرسے نہیں گزرا، وہ قابلِ قبول ہوتا ہے۔
گو کہ نہ پڑھانے والے استاد نے وہ تجربات کیے ہیں، نہ پڑھنے والے شاگرد نے، جن کا نتیجہ ایک "الیکٹران" نکلتا ہو۔
اب ایسے تمام استنباطی نتائج جو ہمارے یہاں دو صد سالوں پڑھائے جا رہے ہیں، وہ رفتہ رفتہ نتائج کی حدود سے نکل کر عقائد کا درجہ پاتے جارہے ہیں۔
ایک اور مسئلہ یہ پیدا ہوا کہ لفظ "سائنس" بذاتِ خود ایک دلیل یا ماخذِ استدلال بنا جو منطقی مغالطوں میں سے ایک بہت بڑا مغالطہ ہے۔ یعنی اب کسی بھی مظہر (فینامینن) کی "درست توجیہہ" کے لیے واقعاتی استدلال سے کہیں زیادہ یہ اہم ہو گیا کہ سائنس نے اس کی توثیق کردی ہے یا نہیں؟
گویا یہ بحث تو بہت بعد کی ہے کہ سائنس کی تفہیم کسی خاص مظہر (فینامینن) کے لیے کس قدر گہری یا کس قدر متعلق ہے۔ یہاں تو مسئلہ یہ ہے کہ آپ نے اس "نام" سے حتمی استدلال کے قضیے قائم کرنے شروع کردیے ہیں۔ اور لطیف تر پہلو یہ ہے کہ اس پر فخر بھی کرتے ہیں۔ فیا للعجب!!
پھر سائنس کی اپنی جتنی علمی حیثیت تھی وہ تو بجا تھی، لیکن اس پر خدا بے زار طبقے نے جو رویے اختیار کیے اس میں وہ ان حدود سے بھی تجاوز کرگئے جو سائنس نے خود اپنے لیے مقرر و متعین کی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:   زبان کی آفات

اس پر بہت کچھ لکھنا ہے۔ اور بہت سے لپاڑ بازی کرنی ہے۔ فی الحال چائے پینے جا رہا ہوں۔

(338 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

4 تبصرے

  1. سیّد اسرار احمد says:

    عمدہ نکتہ اٹھایا مزمل بھیا، چاہے پی کر جلدی واپس آئیے
    🙂

  2. Alif Siraj says:

    عمدہ۔۔۔۔۔چائے ٹھنڈی ہوجائے پر یہ نقطہ ٹھنڈا نہیں ہونا چاہئیے

تبصرہ کریں