سائنس اور مذہب کا تقابل

میں گزشتہ مہینوں میں گاہے بگاہے فیس بک پوسٹ کی صورت میں نظریۂ ارتقا کے میکانزم کی تفہیم کے لیے سلسلہ وار مضامین لکھتا رہا ہوں۔ ایک ہی موضوع پر مسلسل لکھنے کے لیے بہر حال یکسوئی اور فرصت دونوں درکار ہوتی ہیں۔ اس لیے میں نے بنیادی تشریح کے بعد اس سلسلے کو اپنی مجبوریوں کے تحت آگے جاری نہیں رکھ سکا۔ اب نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ احباب مجھ سے اکثر و بیشتر اس نظریے کے سائنسی اور عقلی تضمنات پر بات کرنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ میں انہیں ان کے اشکالات کے جواب دوں۔ اپنے نظریات ان پر واضح کروں۔ لیکن اس پر ایک تفصیلی بحث سے پہلے چند باتیں کر لینا ضروری ہیں۔

ایک بات بارہا عرض کرتا رہا ہوں کہ میں سائنس کو مذہبیات سے جوڑنے اور ان میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کسی کوشش کا کسی صورت میں بھی قائل نہیں ہوں۔ میرے نزدیک سائنس اور چیز ہے، مذہب کا مقدمہ اور شئے ہے۔ اس لیے سائنس اور مذہب کا تقابل ہی بے معنی ہے۔ میری رائے میں سائنس ایک اضافی علم کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی واسطے سے اس علم کے حصول اور ترقی کے تمام مدارج غیر مطلق ہیں۔ کوئی بھی شخص جو الہامی ادیان کے مقدمات پر ایمان رکھتا ہے اسے یہ بات جان لینی چاہیے کہ الہامی کتاب اپنے آپ میں ایک ایسا مقدمہ پیش کرتی ہے جو کہ مطلق العین ہے۔ تشریح و تفسیر کا ایک الگ جہان ہے جو چلتا آیا ہے اور چلتا رہے گا۔ معانی کشید کیے جاتے رہیں گے۔ خصوصاً وہ موضوعات جو خالص کائناتی اور طبیعی سائنسوں سے متعلق ہیں، انہیں کوئی حتمی جامہ نہیں پہنایا جاسکتا۔ ان کے لیے جد و جہد جاری رکھنی ہوگی۔

اب جب یہ فرق واضح ہے کہ الہامی کتب کا مقدمہ اپنے آپ میں غیر متبدل ہے یا مطلق ہے تو پھر موجودہ سائنسی علوم سے اس کے تقابل پر بحث کرنا چہ معنی؟ میرے نزدیک جب آپ وحی اور سائنس میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو آپ ان دونوں کے پھیلاؤ کا ادراک کرنے میں خلطِ مبحث کا شکار ہورہے ہوتے ہیں۔ پھر نہ خدا ملتا ہے نہ وصالِ صنم! معتدل رویہ یہ ہے کہ ایمان کو ایمانیات میں موضوع بنایا جائے اور سائنس کو سائنسیات میں۔

یہاں یہ اعتراض بھی اٹھتا ہے کہ کیا یہ دین کو معمولات کی زندگی سے الگ کرنے کا حربہ ہے؟ اس اعتراض کا جواب سیدھا سا ہے۔ جواب یہ ہے کہ جب آپ سائنسی علوم کو بظاہر "وحیِ الہی" پر تول رہے ہوتے ہیں تو یہاں وحیِ الہی کے الفاظ اور معنی میں حائل ہونے والی مطلقیت اور اضافیت کا فرق موجود رہتا ہے۔ دیکھیے ایک ہی آیت سے ایک وقت میں آپ بارش اور غلہ کے کھل جانے پر استدلال کرتے ہیں۔ اسی آیت سے پھر دوسرے وقت میں بگ بینگ کی تشریح بھی کرتے ہیں۔ اس طرح کی متعدد مثالیں ہیں۔ معاملہ یہ ہے کہ "لسانی فصاحت" دنیا کی ہر سائنس اور ہر فلسفے سے بڑی چیز ہوتی ہے۔ اسی طرح اس کی حقیقتیں بھی سائنسی حقیقتوں سے اعلی اور ارفع ہوتی ہیں۔ اب جب آپ وحی الہی کو کسبی علوم پر پرکھ رہے ہوتے ہیں یا ان میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں تو ایک بنیادی سوال کھڑا ہوتا ہے۔

آیا الفاظ عین تشریحات ہی ہیں؟ یا ان میں کوئی گنجائش بھی موجود ہے؟ (واضح رہے کہ یہاں احکام اور مسائل پر نہیں بلکہ کونیات کے حوالے سے بات ہو رہی ہے۔)

یا دوسرا سوال یہ کہ کیا کسبی علوم اتنے حتمی ہیں کہ ان سے مطلق العین حقیقت کو ہم آہنگ کروایا جانا ضروری ہو؟

اگر ان سوالوں کا جواب آپ اپنے آپ کو دے سکیں تو سارا مسئلہ اپنے آپ حل ہو جاتا ہے۔

اب اگلا مرحلہ یہ ہے کہ کونیات پر جو بات وحی الہی کرتی ہے، اس میں بظاہر اگر کسبی علوم سے ہم آہنگی نظر بھی آرہی ہے تو بھی صبر کا دامن تھامنا ضروری ہے۔ مثلاً اگر قرانِ کریم میں زندگی کی شروعات کا ذکر پانی اور مٹی سے ہے، تو اس میں آپ تشریحی مدارج پر یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ زندگی کی ابتدا جماد اور پانی سے متعلق تھی۔ موجودہ سائنسی علوم بھی اس کی تصدیق کر دیتے ہیں۔ لیکن جب آپ اس نکتے پر وحی کو سائنس یا سائنس سے وحی کو ہم آہنگ بنانے کی کوششیں کرتے ہیں تو آپ اس معیار کو حتمیت کی جانب لے جارہے ہوتے ہیں۔ اور یہ حتمیت طے کرنا ہی وہ مرحلہ ہے جہاں آپ وحی کے مقدمات کو ان کے مقام سے گرا رہے ہیں۔ ماضی میں یہ کام ارسطوئیت سے لیا جاتا رہا ہے جو آج سائنس سے لیا جارہا ہے۔ اور دین کا مقدمہ ایک انتہائی کرب ناک صورتحال سے گزر چکا ہے۔ بہرحال، اس مسئلے میں حل کی ممکنہ صورت یہی ہے کہ وحیِ الہی پر آپ کسبی علوم سے کوئی حکم نہیں لگا سکتے۔ دوسری طرف یہ بات بھی ہے کہ کسبی علوم کے لیے اختیار کردہ طریقوں سے جو نتائج سامنے آتے ہیں ان کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ مثلاً اگر کششِ ثقل یا نظریۂ کسی سائنسی طریقۂ مطالعہ کا لازم نتیجہ ہے اور یہ وحیِ الہی کی ظاہری صورت سے مناسبت نہیں رکھتا، تو ایک تو یہ ہے کہ ہم تاویل کریں، اور تاویل کو تاویل ہی سمجھا جائے، عین وحی نہ سمجھا جائے۔ دوسرا یہ ہے کہ کسبی علوم کو ایمانیات سے الگ کر لیں، اور الگ کرنے کی وجہ یہی ہے کہ ایمانیات کا تعلق مطلق العین حقیقت سے ہے، اضافی سچائیوں سے نہیں۔

(196 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

4 تبصرے

  1. لیکن یہاں یہ سوال بھی ہے کہ دونوں میں سچا کون ہے جھوٹا کون ہے یقینا ان کے تقابلی جائزے کی ضرورت تبھی محسوس کی گئی کہ دونوں کی سچائی مصدقہ ہے مذہب بھی ایک سچا عقیدہ ہے جس کو انسانی عقل سے پرکھا جا سکتا ہے اور سائنس تو ہے ہی انسانی مشاہدے کا نام آپ کسی بھی طرح ان سے جان نہیں چھڑا سکتے کیوں کہ موجودہ دور میں مادی ترقی سائنسی بنیادوں پہ استوار کر رہے ہیں اور اخلاقی ترقی کے لیئے مذہب کا سہارا لیتے ہیں یعنی انسانی نظام زندگی کے دو جزو ہیں اگر آپ ان کے تقابلی جائزے کو غلط قرار دیں گیں تو انسانی نظام زندگی کے دو ستون دھڑام سے نیچے آ گریں گیں ہاں دونوں کی بنیادیں الگ الگ ہیں لیکن دونوں کا تقابلی جائزہ ہر صورت ہو سکتا ہے

    • مزمل شیخ بسمل says:

      سب سے پہلے تو بلاگ پر خوش آمدید۔ امید ہے یہاں آتے رہیں گے۔
      اب دیکھیے کہ آپ نے اپنی بات کا خود ہی جواب دے دیا ہے۔ مذہب اپنی بنیاد میں اخلاقیات کا مقدمہ رکھتا ہے۔ جبکہ سائنس کا اخلاقیات سے دور کا واسطہ بھی نہیں۔ 🙂 اب بتائیں کہ تقابل کیوں کیا جائے؟
      تقابل کی نوبت وہاں آتی ہے جہاں وحیِ الہی کسی سائنسی مسئلے پر بات کرتی نظر آئے۔ مثلاً کائنات کے بننے یا ختم ہونے پر۔ انسان کے وجود پر۔ یا اس طرح کے دوسرے کسی مظہر پر۔ اور یہاں بھی سائنس اور وحی میں اپنی نوع کا ایک بھر پور فرق ہے۔ اور وہ فرق میں عرض کرچکا ہوں کہ اضافیت (relativism) اور مطلقیت (absolutism) کا ہے۔
      سائنس کی علمی بنیاد اور نتائج دونوں اضافی ہیں جو وقت کے حساب سے بنتے اور بدلتے رہتے ہیں، ارتقائی مراحل سے گزرتے رہتے ہیں۔ جب کہ وحی اپنے آپ میں مطلق ہے۔ اس کے معانی اور تفہیم میں تغیر ہوتا ہے۔ ہمارے پاس یہی چارہ ہے کہ یا تو سائنس کی موجود پہنچ کی نسبت سے وحی کے کسی سائنسی اشارے کو سمجھا جائے یا پھر خاموشی اختیار کی جائے۔ 🙂
      اس پر اگلی پوسٹوں میں بات کرنے کا ارادہ ہے جو کہ تفصیلی طور پر نظریۂ ارتقا کے حوالے سے ہونگی۔ ملاحظہ کیجیے گا۔
      آداب۔

  2. Umair says:

    بہت ہی عمدہ اور جامع۔
    میری اپنے اکثر دوستوں سے اس بارے میں بحث رہتی ہے اور میرا رجحان اس طرف ہے کہ وحی الہی کو سائنس کی قطعی کوئی ضورورت نہیں، اپنا آپ سچا ثابت کرنے کیلئے اور نہ ہی سائنس یا اس کی ترقی اس بات کی پابند ہے کہ آیا یہ بات الہامی کتب میں سےکسی نہ کسی طرح نکالی جا سکتی ہے یا نہیں۔
    بوجود کئی مشکل الفاظ کے، جن کا مطلب مجھے اب بھی معلوم نہیں، اس تحریر سے مجھے اپنی بات کو بہتر انداز میں کہنے کیلئے مواد ملا ہے۔
    شاید آپ کی تحاریر ایک دوبار اس سے پہلے بھی نظر سے گذری ہیں لیکن تبصرہ شاید پہلا ہی ہے۔ بہت عمدہ۔
    ولسلام، عمیر

    • مزمل شیخ بسمل says:

      سب سے پہلے تو بلاگ پر آپ کو خوش آمدید۔ آپ کا تبصرہ اور رائے ہمارے لیے اہم ہے۔
      مشکل الفاظ کا مسئلہ یہ ہے کہ ہر بات کو سمجھانے کے لیے ایک مقررہ طریقۂ کار ہے۔ کوشش ہوتی ہے کہ بات آسان سے آسان تر انداز میں سمجھائی جائے۔ لیکن اسے اتنا آسان نہیں بنایا جانا چاہیے کہ وہ اپنا مفہوم کھو دے۔ اس حوالے سے قاری پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے حصے کا حق ادا کرے۔ 🙂
      بہرحال۔
      اس حوالے سے مزید بات آگے آنے والی پوسٹ میں ہوگی۔ ملاحظہ کیجیے گا۔

      آداب۔

تبصرہ کریں