سائنس کی حتمیت

ارے صاحب آپ سمجھے نہیں جو میں کہنا چاہ رہا ہوں۔ ٹھہریے۔ تھوڑا پیٹ پر ہاتھ پھیریے، ایک گلاس لسی پی لیجیے۔ دماغ کو ٹھنڈا کیجیے۔ پھر آگے بڑھتے ہیں۔

ہاں جی تو بات یوں ہے!!!

آپ اورمیں دونوں ہی سائنسی ترقی کے مداح ہیں۔ ٹھیک ہے۔ بہت اچھی بات ہے۔ میں بھی مانتا ہوں کہ موجودہ دور میں سائنسی علم وہ واحد چیز ہے جس پر آپ اور میں یا کوئی بھی ریشنل دماغ متفق ہو سکتا ہے۔

لیکن اس سے آگے کیا؟

جی جی فرمائیے۔ ۔ !!

سائنس کی موجودہ معلومات کے بعد کیا؟

یہ بات دوبارہ خاطر جمع رکھیے کہ میں آپ ہی کی طرح سائنس کا طالبِ علم ہوں۔ پرکھتا ہوں، جانچتا ہوں۔ استخراج کرتا ہوں۔ استقرا سے گزرتا ہوں۔ اگر سمجھ میں آیا تو قبول نہیں تو رد۔ ٹھیک ہے ناں؟

آگے بڑھیے۔ ۔

بات سائنس کی حتمیت کی ہے۔

میری بات کا مدعا صرف اور صرف یہ ہے کہ سائنسی علوم اپنی پوری آب و تاب اور ترقی کے باوجود بھی حتمی نہیں ہیں۔

دیکھیے یہیں آ کر آپ کا منہ ٹیڑھا ہو جاتا ہے۔ لیکن پہلے سمجھ لیجیے۔

میرا کہنا صرف اتنا ہے کہ اگر آپ کہیں کہ سائنس کی ہر بات حتمی ہے تو آپ ایک ہی وقت میں یہ بھی قبول کر رہے ہیں کہ اب سائنس میں مزید ترقی کی کوئی گنجائش نہیں۔ ؟

ظاہر ہے ایسا نہیں ہے ناں؟

تو پھر یہ تو ماننا پڑا کہ سائنس کی ہر بات حتمی نہیں ہے۔ اب مزید آگے بڑھیے۔

آسانی کی خاطر میں یہ کہتا ہوں کہ "جو کچھ جان لیا گیا" وہ سائنس ہے۔

لیکن کیا سب کچھ جان لیا گیا ہے؟ اگر آپ سب کچھ جاننے کا دعوی کرتے ہیں تو بات ختم۔ سائنس کی مزید ترقی کی گنجائش ختم۔ آپ کی لگن ختم۔ علم کا ارتقا ختم۔ ساری بحث ہی ختم۔

لیکن!!!

لیکن اگر سب کچھ نہیں جانا گیا ہے تو سائنس سب کچھ نہیں ہے۔ یہی میں کہہ رہا ہوں۔ کہ سائنس بس وہی ہے جو وہ ہے۔ اور سائنس "ہی" سب کچھ نہیں ہے۔

اس بات کا مقصد کیا ہے؟

مقصد یہ ہے کہ آپ اس کی اور اپنی حدود کو سمجھ لیجیے۔ یہ بھی تو شعور کا ایک معقول پہلو ہے نا؟ یعنی سائنس میں آپ مادے کی فطرت کے لائقِ مشاہدہ (Observable) مظاہر (phenomena) کو پڑھتے ہیں۔ اب جب یہ طے ہو گیا کہ آپ نے لائقِ مشاہدہ مظاہر کو پڑھنا ہے تو ناقابلِ مشاہدہ مظاہر پر آپ کے قبول و رد کس سیاق و سباق میں اہمیت رکھتے ہیں؟

اس مسند سے تھوڑا نیچے اتر آئیے۔ دیکھیے سائنسی ترقی کے باوجود بھی بہت سے کام ایسے ہیں جو سائنس کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ لیکن پھر بھی ہو رہے ہیں۔ کیے جا رہے ہیں۔ اور ان کے کرنے والوں میں ایک باقاعدہ تسلسل بھی نظر آتا ہے۔ آخر کیوں؟

کیوں ہزاروں لوگ مسجدوں، مندروں، مقبروں اور کلیساؤں میں جا کر اپنے لیے اولاد اور بیٹے مانگ رہے ہیں؟ کیا یہ ایک لاحاصل کام ہے ؟ انہیں اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا؟ لیکن اگر ایسا ہے تو ہزاروں سال سے وہ یہ سراغ کیوں نہ لگا سکے کہ یہ ایک بے کار کام ہے۔ ؟ مراقبے، جہد، ریاضت، نماز، پوجا، عبادت اور بہت سے ایسے کام جنہیں آپ صرف پلاسیبو افیکٹ کہہ کر ٹھکرا دیتے ہیں۔ آپ کے لیے آسان ہے۔ لیکن دنیا کے نقشے پر یہ کام اتنے بڑے پیمانے پر ہورہے ہیں کہ انہیں پوری انسانیت پر محیط مانا جاسکتا ہے۔ قبلہ یوسفی صاحب چراغ تلے میں کیا خوب کہہ گئے ہیں:

مجھے اس پر قطعا تعجب نہیں ہوتا کہ ہمارے ملک میں پڑھے لکھے لوگ خونی پیچش کا علاج گنڈے تعویذوں سے کرتے ہیں۔ غصہ اس بات پر آتا ہے کہ وہ واقعی اچھے ہو جاتے ہیں۔

کوئی جانے کیا سوچتا ہے اس پُر مزاح اقتباس پر لیکن یہ وہ ارضی حقیقتیں ہیں جنہیں آپ چاہ کر بھی جھٹلا نہیں سکتے۔ ختم نہیں کر سکتے۔ ان سے رخ نہیں موڑ سکتے۔ انہیں بے شک ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن تجربہ ہر کوئی کر سکتا ہے اور کرتا بھی ہے۔

چند ماہ قبل ہی ایک دوست کے بیٹے کو پیلیا کا مرض لاحق ہو گیا۔ دوست نے اپنے فیملی فزیشن کو دکھایا۔ دوائیں لکھی گئیں۔ لیکن دو دن تک بچے نے کچھ نہ کھایا پیا۔ نوبت ہسپتال کی آگئی۔ آغا خان لے گئے۔ لیکن بات نہ بنی۔ بچے کا رنگ سیاہی مائل ہوچکا تھا۔ مجھے معلوم ہوا تو میں نے اپنے محلے کی مسجد کے امام صاحب کو دکھانے کا مشورہ دیا۔ امام صاحب نے اپنے مخصوص انداز سے جھاڑ پھونک کی اور چلے گئے۔ میں نے کہا امام صاحب؟؟؟ کہنے لگے بچہ ٹھیک ہے۔  اسی دن بچے نے دودھ وغیرہ پینا شروع کردیا اور دو دن کے اندر اندر اچھا بھلا ہوگیا۔

یہ کیا تھا؟

مجھے نہیں معلوم۔

دوسرے صاحب سڑک کے اس پار کارنر پر بیٹھے دن کے پانچ سو یرقان زدگان کے سر پر سٹیل کا پیالہ رکھ کر اس میں سرسو کا تیل بھر کر کھجور کے تنکوں کی جھاڑو سے تیل کو ہلاتے ہیں۔ تیل انڈے کی زردی جیسا بن جاتا ہے۔ تین دن ایسا کرتے ہیں۔ اور یرقان ختم۔ گواہ ایک نہیں بلکہ ہزاروں ہیں۔

لیکن آپ مانیں گے نہیں۔ میں بھی نہیں مانتا۔ کیونکہ اس میں ماننے والی کوئی بات ہی نہیں۔ امام صاحب یا اس گلی کے کنارے بیٹھے آدمی کو کیا خبر کہ جانڈس کا مریض خون میں بلیروبن (Bilirubin) کی غیر معمولی مقدار کی وجہ سے پیلا پڑ گیا ہے۔ ؟

لیکن ماننے والے مانتے ہیں۔ اور صرف مانتے ہی نہیں بلکہ شفایاب بھی ہوتے ہیں۔

بات یہ ہے کہ شفا ملنے والے کو سڑک پر بیٹھے ہوئے بھی مل رہی ہے۔ اور دوسرا شخص فلپائن کے سینٹ لیوک ہسپتال میں بھی مر جاتا ہے۔ کیا اس کا کوئی قاعدۂ کلیہ ہے؟ یا تو وہ شخص جسے سڑک پر بیٹھے ہوئے شفا ملی ہے اس سے  یہ منوا لیجیے کہ وہ شفا کے دھوکے میں ہے؟ یا پلاسیبو افیکٹ ؟ لیکن اتنا جاندار پلاسیبو افیکٹ؟ ان ارضی سچائیوں سے کیسے منہ موڑیں گے آپ ؟ یہاں آکر منطق، دلیل، مشاہدہ، قانون، سائنس اور باقی ساری ریشنل باتیں ایک عام بندے کے لیے بے معنی ہو جاتی ہیں۔ دیکھا صرف یہ جاتا ہے کہ کس کو کیسے اور کہاں سے فیض ملا۔ دنیا صرف ریشنل اپروچ اور سائنسی و ریاضیاتی دو جمع دو چار کے قانون پر نہیں چلتی۔ یہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ اس کا نظام صرف نیوٹن اور ہیزنبرگ کے یا ہارڈی اور وینبرگ کے قوانین پر نہیں چلتا۔ یہ سب کچھ ایک تجریدی  سبب اور مسبب کے قوانین کے ساتھ چل رہا ہے۔ اس میں ہر حتمیت پرایک اضافیت موجود ہے اور ہر اضافیت میں ایک حتمیت۔ اسے ایک ہی آنکھ اور ایک ہی عینک سے دیکھا جا ہی نہیں سکتا۔ ہر نوع کی، ہر حالات کی، ہر وقت کی ایک مخصوص عینک ہے جو ضرورت پڑنے پر لگانی اور بدلنی پڑتی ہے۔ نہ دنیا کا ہر انسان منرل واٹر کی بوتلیں خرید سکتا ہے نہ ہر کوئی ڈیٹول صابن خریدنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پینے والے بورنگ کے پانی کو امیون کر جاتے ہیں۔ اور نہ پینے والوں کا اس پر ہاضمہ خراب ہو جاتا ہے۔ کون کس طرح اور کس حالت میں کب تک جیتا رہے اور کب مر جائے اس کا فیصلہ کوئی نہیں کر سکتا۔ یہ تو اپنی اپنی جہات کی باتیں ہیں۔ اپنے اپنے حالات کی، اپنے ذاتی مشاہدات کی اور آپ بیتیوں کی باتیں۔ جنہیں اکثر عقلی دلائل سے ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ ایسے مشاہدات کے ہر بار اسی طرح ہونے کی ضمانت بھی کوئی موجود نہیں ہوتی۔ لیکن ان کا انکار بھی نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ ایسی حقیقتوں کو بھی سائنسی حقیقتوں کی طرح ہی جیا جاتا ہے۔ ان کا سامنا کیا جاتا ہے۔ ان سب سے ہمارا روز کا برتاؤ ہمیں ان کا یقین دلاتا ہے۔

لیکن نہ ماننے والوں کی خیر!!!

(303 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

6 تبصرے

  1. Master Mind says:

    انداز مکالمانہ ہے.

  2. جناب اس بات سے تو سو فیصد متفق ہوں کہ سائنسی نظریات اور سائنسی "حقائق" حتمی نہیں ہیں لیکن میرے خیال میں اس دعوے سے وہ نتیجہ نہیں نکلتا جس طرف یہ مضمون جا رہا ہے -
    سائنسی نظریات اور "حقائق"کو واقعاتی شہادتوں کے ذریے رد کیا جا سکتا ہے -
    لیکن کیا اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ سائنسی طریقہ کار اختیار کیے بغیر ذاتی تجربوں کو حقیقت مان لیں - آپ نے پلسیبو ایفیکٹ کا ذکر کیا ہے اسی کا جڑواں بھائی ڈبل بلائنڈ تجربہ ہے - اگر متبادل علاج کے طریقے اس کسوٹی پر پورا اتر جائیں تو انھیں بھی سائنسی حقیقت مان لیا جائے گا -
    ورنہ ہم سب متبادل طریقوں میں سے چاند کو درست اور باقی کو ڈھکوسلہ کہتے ہیں اب اگر میرا اور آپکا نتیجہ مختلف ہو تو پھر ڈبل بلائنڈ ٹیسٹ ہی بہتر اور بدتر کا فیصلہ کر سکتا ہے -
    جہاں تک ڈیٹول اور منرل واٹر والی بات ہے تو انسانی جسم ایک حد تک اپنے آپ کو حالات کے مطابق ڈھال لیتا ہے - شمالی علاقوں کے لوگ برف باری میں بھی چپل پہنے پھر رہے ہوتے ہیں اور کراچی والے دس سینٹی گریڈ سے کم پر ہمت ہارنے لگتے ہیں - اہم بات یہ ہے کہ ماحول سے سمجھوتا ایک حد تک ہی ہوتا ہے - گرمی اور سردی کی شدید لہروں میں ہلاک ہونے والے وہی ہوتے ہیں جن کے پاس اے سی اور ہیٹر نہیں ہوتا -اسی طرح اگر میڈیکل سائنس کے ذریعے علاج کروانے والوں اور متبادل طریقے سے علاج کروانے والوں کی اوسط عمر اور ان کی عمومی صحت کا موازنہ کیا جائے تو جدید سائنس والے کہیں آگے ملتے ہیں -
    پس تحریر :
    اس مضمون میں بات بیماری اور علاج کی ہوئی تھی اسی لئے ان ہی کا جواب دیا - مذہب کے ذریعے حاصل معلومات زیر بحث نہیں اس لئے مذہب کو اس مکالمہ میں گھسیٹنا مناسب نہیں -

    • مزمل شیخ بسمل says:

      بہت خوب تفسیر احمد صاحب۔ اپنے اچھی جانب توجہ دلائی ہے۔ لیکن میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ جن باتوں کا آپ نے ذکر کیا ہے وہ میری تحریر کا مدعا نہیں ہیں۔ مدعا پر بات کریں تو تفہیم میں آسانی ہو سکتی ہے۔
      میں نے اس بات کا بالکل انکار نہیں کیا کہ سائنسی ترقی کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ میں اس ترقی کا دل کھول مداح ہوں۔ موضوع کا جو اصل محور ہے وہ ناقابلِ مشاہدہ مظاہر ہیں جنہیں ریکارڈ میں نہیں لایا جاسکتا۔ اب شاید آپ اس بات کا انکار تو نہیں کریں گے کہ ناقابلِ مشاہدہ مظاہر ہوتے ہیں۔ ایسے فینومینا جنہیں آن ریکرڈ نہیں لایا جاسکتا۔

      آپ نے فرمایا:
      //لیکن کیا اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ سائنسی طریقہ کار اختیار کیے بغیر ذاتی تجربوں کو حقیقت مان لیں //

      محترم میں نے تو یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا۔ میرا نتیجہ تو یہ ہے کہ جس کا مشاہدہ نہیں ہوا اس پر صدق و کذب کا حکم صادر نہیں کیا جاسکتا۔ اور آپ مضمون کو دیکھیں تو میں نے بات ہی یہیں سے شروع کی ہے۔

      ہوا در اصل یوں ہے کہ یا تو آپ نے مکمل مضمون کا اجمالی مدعا نظر انداز کردیا یا پھر آپ میرے مخاطبین میں سے نہیں ہیں۔ اور اسی وجہ سے آپ نے میری تحریر کو سائنس کے خلاف کوئی تحریر سمجھ لیا۔ حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں۔
      میرا تو مدعا یہ ہے کہ سائنس کو اپنے متعصب نظریات کا ہتھیار بنا کر استعمال کرنا بند کیجیے۔ بہت سی باتیں ایسی ہیں جو صرف ممکنات کی حد تک ہمیں معلوم ہیں۔ ان کی درست تعیین ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ ان کا بی ہیویر ہی ایسا نہیں کہ ان کی درست پیشگوئی ممکن ہو سکے۔
      اب جو تجربات میں نے اوپر ذکر کیے ہیں جس میں یرقان کے دو کیسز ہیں۔ مجھے صرف یہ بتا دیجیے کہ ہسپتال کا علاج کیوں اور کس درجے میں ناکام ہوا؟ اور مولوی صاحب کی جھاڑپھونک کیسے کام آگئی؟ اور یہ صرف ایک کیسز نہیں۔ بے شمار کیسز ہیں جو ڈاکٹروں کے ہاتھوں بگڑے ہیں۔ باوجود اس کے کہ اس مرض کی پوری میٹابولک ساخت ہمیں میڈیکل کے ابتدائی سالوں میں پڑھا دی جاتی ہے۔
      اب اس صورت میں جس نے امام صاحب سے شفا پائی آپ اسے ڈاکٹر کی ریشنل اپروچ کا فائدہ کیسے بتائیں گے؟
      اس طرح کے ایک دو نہیں بہت سے معاملات ہیں جو باوجود ایکسٹینسو کئیر کے بھی ناکام ہو جاتے ہیں۔ اور کبھی کبھی بغیر کسی احتیاطی تدابیر کے بھی کامیاب ہوتے ہیں۔
      میں ان مظاہر کی بات کر رہا ہوں جو نہ تو کنٹرول کیے جاسکتے ہیں نہ انکے رینڈم ایررز کو کبھی بھی ختم کیا جاسکتا ہے۔
      بہر حال یہ بات پھر ایک تفصیل طلب موضوع ہے جسے پھر کسی تحریر میں بحث کا حصہ بنائیں گے۔

  3. Ahmed Sohail Khan says:

    UMMDA / AALA

  4. محمد اسامہ سرسری says:

    ہم تو مان گئے جناب!
    لیکن نہ ماننے والوں کی خیر!!
    🙂

تبصرہ کریں