سالِ نو کے عزائم اور ہم

لیجیے۔ ایک بار پھر سالِ نو کی آمد آمد ہے۔ یوں تو ہر سال ہی اپنی چند مخصوص جہات کی وجہ سے مختلف ہوتا ہے۔ کوئی سال بھی کسی دوسرے سال کی طرح نہیں ہوتا۔ بلکہ سال کو چھوڑیے، ہر لمحہ، ہر آن، ہر گھڑی ایک مختلف پہلو لے کر ہمارے سامنے منڈلا رہی ہوتی ہے۔ دو ہزار سولہ (2016) بھی اسی طرح آرہا ہے۔ اور دو ہزار پندرہ بھی ہر گزرتے سال کی طرح رخصت ہونے والا ہے۔ تقریباً ہر سنجیدہ شخص جو اپنی زندگی کو یونہی ضائع نہیں کرنا چاہتا وہ سال کے اختتام پر اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں کا احتساب کرتا ہے۔ نئے سال سے کچھ امیدیں، کچھ امنگیں اور کچھ توقعات رکھتا ہے۔ کچھ عزم اور کچھ وعدے ہوتے ہیں جو وہ اپنے آپ سے کرتا ہے۔ لیکن کیا یہ ساری توقعات پوری ہوجاتی ہیں؟ کیا سبھی خوابوں کی تعبیر مل جاتی ہے؟ کیا سبھی عزائم اپنی منزل تک پہنچ پاتے ہیں؟ ان سوالوں کے جواب میں جہاں تقدیر پنہاں ہے وہیں تدبیر کا بھی بہت بڑا عمل دخل ہے۔ اس حوالے سے چند نکات پر نظر ڈالتے ہیں۔

رواں سال کا محاسبہ

محاسبہ کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر آپ اپنا موجودہ مقام متعین نہیں کرسکتے۔ اور جب تک موجودہ مقام کی تشخیص نہ ہو تب تک آگے بڑھنے کی ساری تدابیر بے کار ہوتی ہیں۔

ہر سال کے آخر میں محاسبے کی باتیں یہ ہوتی ہیں کہ آپ نے پورے سال کیا کیا؟

آپ میں کونسی تبدیلی رونما ہوئی جو پچھلے سال نہیں تھی؟

کیا یہ تبدیلی مثبت تھی یا منفی؟

آپ ترقی کی طرف گئے یا تنزلی کی طرف؟

کیا آپ نے پچھلے سال کی رخصت پر اپنے آپ کے لیے کچھ عزم، کچھ وعدے اور کوئی منصوبہ سازی کی تھی؟

اگر ہاں، تو پھر اس میں کتنا کامیاب ہوسکے؟ اور اگر نہیں ہو سکے تو اس کی وجوہات کیا رہی ہیں ؟

سوال کرتے جائیں اور جواب دیتے جائیں۔ بلکہ اپنی کمی اور کوتاہیوں کو لکھتے جائیں۔ اپنی خامیوں کو درست کرنے کی خاطر ناکام تدبیروں سے بچنے اور نئی تدبیروں کو استعمال کرنے کے لیے ایک حکمتِ عملی تیار کریں۔

یہ بھی پڑھیں:   علمِ عَروض سبق ۹

سالِ نو کی تیاری

اس کے بعد سالِ نو کی تیاری کا مرحلہ ہے۔ یہاں بھی وہی بات ہے کہ تیاریوں کا کوئی دن مقرر نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اپنی تشفی کی خاطر اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں کے اعداد و شمار کے لیے اگر ایک وقت متعین کیا جاسکے تو شاید سال کے آخر اور شروع اس کے لیے موزوں دن ہوتے ہیں۔ اس کی کچھ اہم وجوہات بھی ہیں۔ مثلاً ایک سال کے مکمل ہونے پر آپ کی عمر چاروں موسموں کا چکر ایک بار مکمل کرلیتی ہے۔ بارہ مہینوں کی تقسیم میں آپ نے کونسا قابلِ ذکر تعمیری یا تخریبی کام کیا، یہ سوال خود سے کرنے کے لیے شاید ایک سال کا مکمل چکر ضروری ہے۔ پھر یہ بھی کہ عمر کے "کاؤنٹ ڈاؤن" سے آپ کی زندگی کا ایک انتہائی با معنی سال گزرا ہے، جس پر افسوس کرنے یا خوش ہونے کا فیصلہ بھی انہی اوقات میں ہو سکتا ہے۔

اب سالِ نو ہے تو سوالات بھی تازہ ہونگے۔ پھر سے خود سے سوالات کیجیے۔

آنے والے سال میں آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟

کونسے با معنی مقاصد کا حصول آپ کے لیے ناگزیر اور ضروری ہے؟

پچھلے سال کی وہ کون کونسی بڑی غلطیاں تھیں جو اس سال میں آپ دہرانا نہیں چاہتے؟

وہ کونسا لائقِ تعریف کام ہے جو آپ نے رواں سال میں کیا ہے جو آپ چاہتے ہیں کہ اس سال بھی کرسکیں، یا اس سے کچھ بڑا کرکے دکھائیں؟

یا پھر یہ سوال کہ رواں سال میں کونسے ایسے کام ہیں جو اب تک ادھورے ہیں اور انہیں مکمل کرنا ہے؟

سالِ نو کے عزائم ناکام کیوں ہوتے ہیں؟

عام طور پر یہ بھی مشاہدے کی بات ہے کہ نئے سال کی شروعات پر خود سے کیے گئے عہد و پیمان وفا نہیں ہو پاتے۔ زندگی چلتی رہتی ہے لیکن ان مقاصد کا حصول ممکن نہیں ہو پاتا جن کی آپ کو خواہش ہوتی ہے۔ ایسے میں اکثر لوگ نئے عزائم سے ہی مایوس اور اکتائے ہوئے ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   خواتین کے حقوق اور سیاست

یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ عزم اور ارادہ دماغ پر مثبت اثر چھوڑتا ہے۔ اس لیے اس سے مایوس ہونا تو کوئی عقل مندی کی بات نہیں۔ بے شک آپ کتنی ہی بار ناکام ہوئے ہوں۔ اگر ایڈیسن عزم سے مایوس ہو جاتا تو شاید اس کا بلب کبھی روشن نہ ہو پاتا۔ خرابی عزم میں نہیں ہوتی۔ حصول کے طریقوں میں ہوسکتی ہے۔ حصول کے نئے طریقے اپنائیں۔ لیکن عزائم کو ترک نہ کریں۔

یہ تو تمہیدی بات ہے۔ اب اصل مدعا کی جانب آتے ہیں۔

جب بھی آپ خود سے کوئی عزم کرتے ہیں، کوئی وعدہ یا کوئی ارادہ کرتے ہیں تو کامیابی کے لیے کئی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ آپ کے عزائم کی کامیابی کا انحصار صرف عزم کے وجود پر نہیں ہوتا۔ بلکہ حکمتِ عملی، طریقۂ حصول اور آپ کی مجموعی عادات اس میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

یہاں مرکزی لفظ "عادات" ہے۔

آپ کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ آپ اپنی زندگی کا دھارا کس طرف موڑنا چاہتے ہیں؟ جب یہ فیصلہ ہوگیا تو اب وقت ہے اپنی عادتوں کا رخ اسی جانب موڑنے کا۔ کوئی بھی مقصد تب تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک آپ اپنے مقاصد کو اپنے مزاج میں نہ گھول دیں۔ آپ کی عادتوں سے آپ کی شخصیت کا تعین ہوتا ہے۔ اور جیسی شخصیت ہوگی ویسے ہی مقاصد کا حصول بھی آپ کے لیے ممکن ہوسکے گا۔ اس کے برعکس اگر کوئی اپنی شخصیت سے متضاد مقاصد کے حصول کی کوشش کرتا ہے تو ممکن ہے وہ کامیاب بھی ہوجائے، لیکن اس کی کامیابی یا تو ناقص ہوگی، یا پھر احتمالی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:   عورت کی آزادی

اب جب عادات شخصیت کو بنانے میں اور شخصیت مقاصد کے حصول میں معاون ہیں تو ضروری ہے کہ ہم اپنی حکمتِ عملی میں اپنے آپ کو بدلنے کا نکتہ بھی شامل کریں۔ جن مقاصد کے حصول کا عزم کیا ہے اسی کے مطابق اپنے روز مرہ کے مشاغل کو ترتیب دیا جائے۔

مثلاً ایک شخص کسی خاص شعبے میں کسی ایک موضوع پر تحقیق کرنا چاہتا ہے۔ وہ کبھی بھی اچھا محقق نہیں بن سکتا جب تک کہ اس کی روز مرہ زندگی میں مطالعے کی عادت نہ ہو۔ یا پھر ایک شخص مطالعہ تو کرتا ہے، لیکن اگر مطالعہ غیر متعین اور بے ہنگم ہے تو اس کے لیے اس خاص موضوع پر تحقیق کرنا مشکل ہوگا، بنسبت اس شخص کے جس کے مطالعے کا بنیادی محور مذکورہ شعبہ ہی ہو۔ تو تحقیق اگر مقصد ہے تو اس کی مناسبت سے اپنے معمولات میں تبدیلی ضروری ہوگی۔ مطالعے کو معمول میں لانا ہوگا۔ کبھی کبھی یہ کام تکلیف دہ بھی ہوتا ہے۔ لیکن تکلیف تو ہوگی!!

اس اصول کا اطلاق آپ کہیں بھی کر سکتے ہیں۔ مقصد کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ عزم کیا جانا ایک ابتدائی بات ہے لیکن حصول کے لیے سنجیدگی یہ ہے کہ آپ اسی مقصد کے حوالے سے اپنے معمولات میں بتدریج مناسبت پیدا کرتے چلے جائیں۔ ننانوے فی صد ناکامیوں کی وجہ یہی ہے کہ آپ کبھی بھی اپنے مقصد کے لیے اپنی شخصیت میں بدلاؤ کو اہم نہیں سمجھتے۔ اور جب شخصیت میں بدلاؤ نہیں آتا تو یکسو نہیں رہا جاسکتا۔

(62 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں