سب دیکھیں گے ؟

ہم نے جس دور میں انٹرنیٹ چلانا شروع کیا وہ قریب 2003 سے 2005 کا دور تھا۔ آپ میں سے جو حضرات اس دور کا انٹرنیٹ چلانے والے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس وقت میں یاہو میسینجر اور بہت زیادہ ہوا تو آرکٹ ہی لوگوں کی رسائی کی معراج ہوا کرتے تھے۔
اس کے بعد کیبل نیٹ کا تصور آیا جس پر مختلف علاقائی سرور پر ”وائی پریس“ نامی میسینجر پر کیا کیا ”بے غیرتیاں“ ہوتی تھیں یہ سب جانتے ہیں۔
پھر آج کا دور ہے جو 2010 کے بعد شروع ہوا۔ اور سب کے سامنے ہی ہے۔
البتہ ہر دور میں ایک بات جو مشترک رہی وہ یہ کہ بزرگوں، اور سیدھے سادھے ”شریف لوگوں“ کو انٹرنیٹ چلانا کیسے سکھایا جائے؟
غالباً آپ میں سے ہر ایک کا واسطہ ایسے افراد سے اپنے خاندان میں، یا جاننے والوں میں پڑتا ہی ہوگا جب آپ کو انٹرنیٹ کا استاد بننا پڑتا ہوگا۔ اور اس ضمن میں اپنی خدمتِ خلق کا نذرانہ کسی کو پیش کرنا ایک عام سی بات ہے۔ ایک نئے بندے کو انٹرنیٹ کی تعریف کیسے بیان کی جائے یہ امر خود ہی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اور مزید تکلیف دہ تب ہو جاتا ہے جب سامنے والا سیکھنا بھی چاہتا ہو۔
اب آپ کے کوئی جاننے والے سن رسیدہ بزرگ آپ سے یہ پوچھ بیٹھیں کہ انٹرنیٹ کیسے استعمال ہوتا ہے تو بھلا کیا جواب ہو؟
وہی ہوا جو اس راہِ سلوک میں ہوتا آیا ہے، جب ہمارے ایک عزیز استاد جی نے ہم سے کہا کہ مزمل انٹرنیٹ کے بارے میں کچھ بتاؤ۔ کیسے چلایا جائے؟ کیسے لوگوں تک رسائی حاصل کی جائے؟
ایسے میں مجھ جیسا بندہ وہی کرتا ہے جو آپ سب کرتے ہیں۔
یعنی انہیں ایک عدد فیس بک کا اکاؤنٹ بنا کر دے دیتا ہے۔
لیکن طرفہ اور مزیدار پہلو اس معاملے کا یہ ہوتا ہے کہ فیس بک چلانا کیسے سکھایا جائے؟ اور اس کی طاقت کو کس طرح درست سیاق و سباق میں بتلایا جائے؟
یعنی فیس بک اکاؤنٹ بنانے پر بھی آپ کی جان نہیں چھوٹتی۔ گویا لاد دو، لدا دو، اور لادنے والا بھی ساتھ دو تو بات بنتی ہے۔
لیجیے جی بن گیا فیس بک کا اکاؤنٹ۔
اب کیا کریں ؟
ہم نے کہا استاد جی اب یہاں سے اپنی تصویر لگائیں۔ اور۔۔۔۔۔
یہاں پر کور فوٹو لگے گی جو ایک بینر کی طرح دکھائی دے گی۔
اس کے بعد؟
اس کے بعد کیا؟
صرف تصویر لگانے سے کیا ہوگا؟
اچھا تو یہاں سے سٹیٹس اپڈیٹ ہوگا۔
سٹیٹس کیا ہوتا ہے؟
سٹیٹس میں آپ اپنی کوئی تحریر، یا کوئی بھی من پسند بات یا اقتباس وغیرہ لکھ سکتے ہیں۔ یہاں جو بات آپ لکھیں گے وہ سب کو دکھائی دے گی۔ اور اس پر تبصرے آئیں گے۔
اب استاد جی نے فوراً سٹیٹس ڈال دیا: ”نماز قائم کریں۔۔۔“
گو کہ عام زندگی میں انہوں نے جمعہ کے دن بھی کسی کو نماز کی تلقین نہیں کی تھی۔
مگر یہاں تو نماز کی تلقین ہی کرنی تھی۔ کیونکہ یہی وہ جگہ تھی جہاں سے ”سب دیکھتے ہیں۔“
اس کے بعد انہوں نے میرا بہت سارا شکریہ ادا کیا۔
۔۔۔
پھر دو دن بعد۔ ۔۔۔۔
”یار مزمل میں نے وہاں ”سٹیٹس“ پر اس دن کچھ لکھا تھا۔ لیکن کسی نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔“
استاد جی کا منہ بنا ہوا تھا۔
”ارے استاد جی جب آپ کی فرینڈ لسٹ میں کوئی ایڈ ہی نہیں ہے تو تبصرہ کون کرے گا؟“ ہم نے اکتاتے ہوئے جواب دیا۔
”اچھا تو فرینڈ بھی ایڈ کرنا ہوتا ہے؟“
ہاں جی۔
”لیکن تم نے تو کہا تھا کہ سب دیکھیں گے ۔“
”نہیں استاد جی۔ سب نہیں دیکھتے۔ صرف فرینڈ لسٹ والے ہی دیکھتے ہیں۔“
اچھا اچھا۔ اب میں سمجھ گیا۔ چلو پھر میں فرینڈز بناتا ہوں۔اس کے تین دن بعد وہ آئی ڈی بلاک ہوگئی۔ اور وجہ آپ جانتے ہیں کہ انہوں نے ”سب کو دیکھ کر“ سبھی کو ایڈ کرنا شروع کردیا تھا۔
اور الحمد اللہ ہم نے آج تک ان کو دوسری آئی ڈی بنا کر دینے کی ہمت نہیں کی۔

(38 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

2 تبصرے

  1. سیّد اسرار احمد says:

    ہاہاہاہا
    پہلا اسٹیٹس بہت مزے کا تھا
    😀

تبصرہ کریں