سوشل سائنسز اور سائنسز کی ترقی یا عذاب؟

عذاب شروع ہو چکا لیکن سرکش قوم، قوم عاد کی طرح ان بادلوں کو عذاب کی بجائے رحمت کے بادل سمجھ رہی ہے۔ [الاحقاف: 24] انہیں کہاں معلوم کہ وہ حقیقت کی تلاش اور کھود کرید کے نام پر اپنی قبر کھود رہے ہیں۔ وہ بہت خوش ہیں کہ وہ اس جگسا پزل کو مکمل کرنے کے قریب ہیں کہ جس کی خاطر انہوں نے سینکڑوں علوم ایجاد کر لیے لیکن انہیں معلوم نہیں کہ ان کا خدا انہیں کتنا بڑا جھٹکا دینے والا ہے کہ اس پزل کے مکمل ہونے سے ٹوٹے پھوٹے انسان نہیں بلکہ تھکے ہارے گدھے کی تصویر سامنے آنے لگی ہے۔ اب کی بار ان کا خدا ان باغیوں پر وہاں سے آیا ہے کہ جہاں کے بارے میں انہیں گمان بھی نہیں ہے۔ [الحشر: 2]

ان کا جرم کیا ہے؟ ان کا جرم وہ ہے کہ جو ماضی میں عذاب دی گئی قوموں کے تمام جرائم پر بھاری ہے۔ ان غداروں نے اپنے پروردگار کا انکار کر دیا جیسے کوئی ناہنجار اولاد اپنے باپ کا انکار کر دے۔ ماضی کی قوموں نے تو رسولوں اور آخرت کا انکار کیا تھا کہ بھلا کوئی اپنے باپ کا بھی انکار کر سکتا ہے؟ انہوں نے اپنے ایجاد کردہ علوم کو اپنے خالق کے انکار کی دلیل بنا لیا۔ سوشل سائنسز ہو یا سائنسز، علم کی ہر شاخ کا مقصد اول یہ ٹھہرا کہ وہ اپنے مالک کا تمسخر اڑائے۔ یہ خدا کا مذاق اڑا رہے ہیں لیکن انہیں معلوم نہیں کہ آج ایک بار پھر خدا ان سے بہت بڑا مذاق کرنے جا رہا ہے۔ [البقرۃ: 15]

یہ بھی پڑھیں:   انسانی عقل اور دین کا دائرہ

انہوں نے خدا کر انکار کر دیا اور خدا نے فلسفہ، سائیکالوجی، لسانیات، اکنامکس، سیاسیات، ہسٹری، ادب، ریاضی اور فزکس وغیرہ میں حقیقت کے نام پر ان کے ہاتھ میں تضادات (paradoxes) تھما دیے۔ ہر علم، چاہے وہ سائنسی ہی کیوں نہ ہو، دوسرے کی نفی پر کھڑا ہے۔ ہر ڈسپلن میں ایک نظریہ دوسرے کی جڑیں کاٹ رہا ہے۔ یہ اگر نیلز بوہر کی بات مان لیتے کہ کچھ یقینی نہیں ہے تو شاید اس عذاب سے بچ جاتے لیکن انہوں نے کہا کہ ہم اب ایک ایسی مساوات بنانے کے قریب ہیں کہ جس کے ذریعے کائنات کی ہر شیء کو ڈیفائن کر دیں گے۔ یہ کوانٹم میکانس اور تھیوری آف ریلٹوٹی کو ملا کر تھیوری آف ایوری تھنگ بنانا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   علم میراث - دوسرا سبق

واقعہ یہ ہے کہ انسان نے ہر سبجیکٹ میں اتنا سوچ لیا ہے اور وہ بھی متضاد کہ اب سوچ کا یہی تضاد اس کے لیے عذاب بننے جا رہا ہے۔ علم کی ہرشاخ ختم نہ ہونے والی متضاد تھیوریز کا ایک سمندر بنتی جا رہی ہے۔ اب ان میں جو تو کمینے علوم ہیں، اکنامکس، فلسفہ، سائیکالوجی، لسانیات، تاریخ اور ادب وغیرہ تو وہ بقائے اصلح (survival of the fittest) کے تحت اپنا قد اونچا کرنے کے لیے دوسرے کی گردن پر کھڑے ہوں گے اور جو نِیوٹرل علوم شمار ہوتے ہیں، نظریاتی فزکس اور بائیالوجی وغیرہ تو اس کے بہترین لوگ اجتماعی خود کشیاں کریں گے۔

ان ظالموں نے خدا کے بنائے ہوئے ذہن کو اس کے انکار کا سب سے بڑا ٹول بنا لیا تو اب دیکھو! بندگان خدا محسوس کر رہے ہیں کہ اب کی بار بھی خدا تمہیں تباہ وبرباد کرنے کے لیے کوئی لشکر نہیں اتارے گا۔ [یس: 28] یہ صدمے کی موت مریں گے اور انہیں یہ صدمہ ان کے علوم پہنچائیں گے، ان کے لیبارٹری میں ثابت شدہ تجربات کے نتائج پہنچائیں گے۔ اور خدا اس سے پہلے ان کو یہ صدمہ پہنچا چکا، نیلز بوہر کے ہاتھوں لیکن وہ نہ سنبھلے، انہوں نے انکار کی روش جاری رکھی۔ تو اب محسوس ہوتا ہے کہ خدا ان سے کھیل رہا ہے اور وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم خدا سے کھیل رہے ہیں۔ [آل عمران: 54]

یہ بھی پڑھیں:   ہدایت اور اللہ کی مشیت

تحریر: ایچ ایم زبیر

(27 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں