سوشل میڈیا اور اظہار رائے کی آزادی

کسی صاحبِ علم اور دانا شخص کا قول ہے
''جس طرح گفتگو کرنا سیکھتے ہو ایسے ہی خاموش رہنا بھی سیکھو کیونکہ گفتگو اگر ہدایت بخشتی ہے تو خاموشی حفاظت کرتی ہےخاموشی میں دوفائدے اور بھی ہیں، اپنے سے زیادہ عالم سے علم سیکھ سکتے ہو، اور اپنے سے زیادہ جاہل کے جہل کو روک سکتے ہو''
حکمت و دانائی کی یہ بات ہردور اور ہر زمانے کے لوگوں کے لیے مشعل راہ ہے، تاہم اس بات کی حقیقت کو درست طور پر سمجھنے کے لیے جس رویے اور سوچ کو جس قدر پختگی کی ضرورت ہے اسے دینی اعتبار سے 'متقیانہ روش' اور دنیوی اعتبار سے 'سنجیدگی کا رویہ' کہا جاسکتا ہے ، اس شعور کو ذہنوں میں راسخ کرنے کے لیے جس چیز کی ضرورت سب سے زیادہ ہے وہ شعور کی سطح پر صاحبِ ایمان بننا ہے۔اپنے کلام سے متعلق محتاط رویہ اختیارکرنابراہ راست ایمان کا ماحصل ہے۔ جس شخص کو اللہ کی معرفت حاصل ہوجائے وہ اپنی گفتگو سے متعلق بھی اسی قدر محتاط رہے گا جس قدر عبادات سے متعلق رہتا ہے۔ ایک صاحبِ ایمان کے لیے لازم ہے کہ وہ بولنے سے پہلے سوچے اور اظہارِ رائے سے قبل اپنا احتساب کرے۔
موجودہ دور میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس نے جس تیزی سے مقبولیت حاصل کی ہے اس کی مثال تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔سوشل میڈیا اور فیس بک کے ظہور (Emergence) نے جہاں گھٹن زدہ معاشرے میں لوگوں کو اظہارِ رائے کے لیے ایک متحرک اور ڈائنامک پلیٹ فارم مہیا کیا ہے وہیں اس کے کئی ضمنی اثرات (Side Effects) بھی ہیں۔
اس میں تو کوئی شک نہیں کہ سماجی رابطوں کی ان ویب سائیٹس نے بعض بہت قابل اور اعلیٰ فہم و بصیرت کے حامل لوگوں سے بھی متعارف کرایا، جنھوں نے علم و آگہی کے نئے دروازے کھولے ہیں،لیکن وہیں بہت سی ایسی شخصیتوں نے بھی دل و دماغ کے تار و پود ہلاکررکھ دیے کہ جنھیں بولنے سے زیادہ سننے پر دھیان دینا چاہیے، منوانے سے زیادہ ماننے پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے اور اظہارِ خیال سے قبل تیاری کے مرحلے سے گزرنا چاہیے۔لیکن صورتِ حال یہ ہے کہ ہر شخص مسائل کے بارے میں رائے دینے کے لیے خود کو سب سے زیادہ اہل سمجھتا ہے، لوگوں کی اکثریت چاہے کسی نقطہ نظر کے حامل ہوں شور و غل مچانے، بے سروپا دلائل کے انبار لگانے اور فریقِ ثانی کو تضحیک و تحقیر کے ذریعے زیر کرنے کو علمیت کا کمال سمجھتی ہے۔
لوگوں کو اپنا وجود حقیت سے بڑھ کر اور دوسروں کا وجود حقیقت سے کم تر دکھائی دیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ تجاویز کے ڈھیر لگ رہے ہیں، الفاظ و سخن وری کے جوہر دکھائی دے رہے ہیںِ، فلسفیانہ موشگافیاں جاری ہیں، لیکن حقیقت کی زمین مسائل سے ایسے ہی پُر ہے جیسے 'اظہار رائے کی آزادی' سے پہلے تھی۔جب تک ہر شخص دوسروں پر تنقید سے پہلے اپنی شخصیت کو دینی تعلیمات کی روشنی میں نہیں جانچے گا، محض الفاظ سازی کے بجائے کردار سازی پر توجہ دیتے ہوئے اپنے رویے کو عملی اعتبار سے تبدیل نہیں کرے تب تک یہ مسائل جوں کے توں ہی رہیں گے۔
یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سوشل میڈیا وہ اعمال نامہ جسے ہم اپنے ہاتھ سے لکھ رہے ہیں اور دیکھ بھی رہے ہیں۔ فیس بک اور دوسری کوئی بھی سوشل میڈیا ویب سائٹ یقینا ہمیں آزادی اظہار کا بھرپورموقع دیتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ ہم اس آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ہر اخلاقی حدود سے ماوراء ہوکر اس کا استعمال کریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم سوشل میڈیا پر اظہار رائے کے وقت کم از کم دینی و اخلاقی تعلیمات کا ضرور خیال رکھیں۔

یہ بھی پڑھیں:   سائنس اور مذہب کا تصادم

(62 مرتبہ دیکھا گیا)

سید اسرار احمد

سید اسرار احمد ایک متحمل اور بردبار شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کی تحریروں میں علمی اور فکری بالیدگی نمایاں ہوتی ہے۔ ان سے جڑے رہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

1 تبصرہ

  1. عبد العظیم صدف says:

    شکریہ اسرار بھائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جزاک الہہ خیر

تبصرہ کریں