سوشل میڈیا اور بلاگنگ

جہاں تک مجھے سوشل میڈیا اور بلاگنگ کا ذاتی مشاہدہ اور تجربہ ہے اس کے مطابق دنیا کی کوئی زبان کبھی بھی اکیلے "سوشل نیٹورکس" سے ترقی نہیں کر پائی ہے۔ اس لیے سوشل میڈیا کی آپ کی رینکنگ اور پاپیولیرٹی چاہے کتنی ہی بڑھ جائے، بہر حال ایک خاص حدود میں ہی گھومتی رہتی ہے۔
اس کے دو پہلو ہیں۔
سنجیدہ طبقے کی اکثریت فیس بک کا استعمال علمی ذرائع کے لیے نہیں کرتی۔

دوسرا پہلو یہ کہ عامیین ، جن کی عادت و مقصد سنجیدہ تحریریں پڑھنا ہے، تعداد میں جس قدر فیس بک پر پائے جاتے ہیں اس سے سیکڑوں گنا زیادہ تعداد فیس بک کے باہر موجود ہے۔ اور ان کی رسائی فیس بک تک نہیں ہو پاتی۔ ہاں البتہ بلاگ کے انڈکسڈ پیجز تک ضرور رسائی ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ مزید کچھ ضمنی باتیں بھی اہم ہیں۔
مثلاً فیس بک کے نامور ترین دس لکھاریوں کے نام اٹھائیں۔ اور انہیں گوگل سرچ کیجیے، خال خال ہی آپ کو کسی کا نام رینکنگ لسٹ میں مل سکے گا۔ بلکہ شاید ریلیوینٹ ررزلٹ ہی چند ایک کا ملے۔ کیونکہ فیس بک کے خول سے باہر ان کی محنت وژبل ہی نہیں ہو پاتی۔
بلاگرز کے حوالے سے ہم سب جانتے ہیں کہ اس کے پڑھنے والوں کی کوئی حد بندی کسی طور پر بھی ممکن نہیں۔ ہر پڑھنے والا جو انٹرنیٹ کا استعمال پڑھنے کے لیے کرتا ہے اس کی رسائی بلاگ رائٹر تک با آسانی ہوسکتی ہے۔ اس کے بر عکس ممکن ہے کہ ایک فیس بک رائٹر ہزاروں بلاگ رائٹرز سے زیادہ باصلاحیت ہو، لیکن اپنے کام کے لیے غیر مناسب پلیٹ فارم کی وجہ سے وہ اپنے ٹارگٹ کا ایک چوتھائی حصہ بھی حاصل کر پانے میں ناکام ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   سوشل میڈیا اور شناخت کا مسئلہ

بعض دوستوں نے اس بات کا ذکر بھی کیا ہے کہ ویب سائٹ کامیاب نہیں ہوتی بلکہ سوشل میڈیا کی پہنچ زیادہ بھی ہے اور آسان بھی۔

عرض ہے کہ بلاگ یا ویب سائٹ کی پہنچ فیس بک سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ غلط فہمی یہ ہوتی ہے کہ فیس بک پر آپ صرف متعلقہ طبقے کو ایڈ کرکے انہی میں اپنی تحریر پیش کرتے ہیں اور وہ چار و ناچار اسے پڑھ کر، یا پڑھے بغیر بھی لائیک یا کمنٹ کرکے چلتے بنتے ہیں۔ جبکہ بلاگ یا ویب سائٹ کی آرگینک ٹریفک کے لیے راہ بننے میں کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔ جب تک بلاگر کو رزلٹ ملے تب تک نوے فی صد بلاگرز بھاگ چکے ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   دل اور دماغ کا فرق

چنانچہ یہ بات تو طے ہے کہ ایک عدد پروفائل پر آپ کے پانچ ہزار فرینڈز اور دس ہزار فالوورز میں سے جتنے لوگوں نے آپ کی تحریر کو نیوز فیڈ میں دیکھا اور جنہوں نے وال کو اوپن کرکے دیکھا وہی آپ کی حد ہے۔ اور یہ حد آپ کے "کُل فیسبکی حلقے" کی پانچ فیصد بھی بمشکل ہی ہو پاتی ہے۔ اور ان میں سے بھی پڑھنے والے اور بغیر پڑھے لائک یا کمنٹ کرنے والوں کو منہا کردیجیے تو شاید یہ پرسینٹیج پانچ سے گر کر تین یا دو ہی رہ جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   ذہانت کیا ہے؟

پھر آپ جو کچھ ایک مرتبہ لکھ کر گزر گئے اسے بھی سمجھیے کہ نقش و نگارِ طاقِ نسیاں ہوگیا۔ اول تو فیس بک کے سرچ بار کو آپ کی تحریر سرچ کرنے کے لیے کوئی استعمال نہیں کرے گا۔ اور اگر کر بھی لیا تو اسے آپ کی فرینڈ لسٹ یا فالو لسٹ میں ہونا ضروری ٹھہرا۔ ورنہ آپ کی تحریر جزدان میں بندھے ہوئے الماری کی چھت پر رکھے مصحف کی طرح ہوتی ہے جسے کبھی کوئی زندہ کر جائے تو دھڑا دھڑ لائکس آئیں گے اور ایک آدھ دن میں پھر وہ تحریر مردہ ہوجائے گی۔

(146 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

3 تبصرے

  1. محمد اسامہ سرسری says:

    بجا فرمایا محترم! 🙂

  2. خدا گواہ ہے میں کافی عرصےسے یہ سوچ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔کہ مجھے کچھ خاص فائدہ سوشل میڈیا سے نہیں ہورہا ۔۔۔۔۔اور سوشل میڈیا پر بہت محنت کی وجہ سے ۔۔۔۔میں ٹھیک سے بلا گ کو ٹائم بھی نہیں دے پا رہا ۔۔۔۔۔میں نے آپ کے تحریر پڑھنے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے ۔۔۔۔کہ اب سوشل میڈیا کے بجائے ۔۔۔۔بلاگ کو ہی ٹائم دوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔بلاگ کا میدان بھی بہت وسیع ہے ۔۔۔۔اور سوشل میڈیا تو کئی اعتبارات سے بہت محدود ہے

تبصرہ کریں