سوشل میڈیا اور شناخت کا مسئلہ

موجودہ دور میں سوشل میڈیا پر ایک نہایت اہم مسئلہ دوسرے فرد کی درست شناخت ہے۔ آپ اپنے قریبی عزیزوں ، دوستوں اور چند جاننے والے افراد کے بارے میں تو جان سکتے ہیں کہ آیا وہ واقعی وہی ہیں جو یہاں دکھائی دے رہے ہیں یا ان کی اصلیت کچھ اور ہے۔ لیکن سوشل میڈیا جیسے فیس بک ، ٹویٹر وغیرہ پر پھیلے کروڑوں لوگوں کے بارے میں حتمی طور پر کچھ بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ حقیقت میں کون ہیں اور کہاں رہتے ہیں؟ درست شناخت نہ ہونے کی وجہ سے کئی مسائل جنم لے رہے ہیں۔ ذیل میں ہم ان وجوہات کا جائزہ لیتے ہیں کہ لوگ کن وجوہات کی بنا پر اپنی اصلی شناخت ظاہر نہیں کرتے۔
بعض لوگوں میں اتنی ہمت اور حوصلہ نہیں ہوتا کہ وہ سچ بات کو سب کے سامنے کہہ سکیں۔ اس لیے وہ فیک آئی ڈی کا سہارا لے کر اپنی بات دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ اپنے اصل نام سے بات کرنے میں انہیں یہ خطرہ درپیش ہوتا ہے کہ دوسرے اس پر اچھا ردعمل نہیں دیں گے۔ ایسے رویے سے بچنا چاہیے۔ اسلام کا مزاج ہی یہی ہے کہ پہلے اپنا تعارف کراؤ اور پھر دوسروں کو دعوت دو۔ لیکن دوسروں کے برے ردعمل سے بچنے کے لیے قرآن ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ہمیں اچھے انداز میں نصیحت کرنی چاہیے۔ اور اس کے باوجود بھی اگر مشکل آئے تو پھر اس پر صبر کرنا چاہیے۔ کسی کا نام لے کر اس کی عزت اچھالنا بھی دوسروں کی اصلاح کا درست طریقہ نہیں ہے۔ بات عمومی انداز میں کرنی چاہیے۔ کسی نشانہ بنانا ایک اچھا عمل نہیں ہے۔
بعض لوگ بے حیائی طرف رجحان رکھتے ہیں اور وہ صنف نازک کے نام سے اکاؤنٹ بناتے ہیں تاکہ زیادہ لوگ ان کی طرف متوجہ ہوں اور وہ ان سے ہوس بھری گفتگو کر سکیں۔ صنف نازک کو چونکہ پذیرائی زیادہ ملتی ہے اس لیے بعض لوگ اپنی پوسٹوں کی شہرت اور زیادہ افراد تک پہننچنے کے لیے بھی ایسا کرتے ہیں۔
ایسا نہیں کہ صرف مرد ہی صنف نازک کے نام سے اکاؤنٹ بناتے ہیں بلکہ خواتین بھی مردوں کے نام سے اکاؤنٹ بناتی ہیں۔ اس کی زیادہ تر وجہ یہ ہوتی ہے کہ انہیں تنگ کیے جانے کا خوف ہوتا ہے۔ اور یہ حقیقت بھی ہے کہ لڑکی کے نام اکاؤنٹ دیکھنے ہی لوگ جوق در جوق اس طرف متوجہ ہوتے ہیں اور سوشل میڈیا پر اس کا جینا حرام کر دیتے ہیں۔
بعض لوگ اس لیے اپنی اصلی شناخت چھپاتے ہیں کہ وہ چھپ کر دوسروں کی ٹوہ لگا سکیں۔ ان کے خیالات جان سکیں۔ یہ ایک نہایت قبیح عادت ہے۔ اسلام میں دوسروں کی ٹوہ لگانے سے منع کیا گیا ہے۔ اس سے بہت سی معاشرتی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ ایسی حرکت سے سختی سے بچنا چاہیے۔ اگر آپ کسی کی ٹوہ لگا کر دوسروں کی کمزوریاں تلاش کریں گے تو جواب میں آپ کے ساتھ بھی ایسا کچھ ہی ہو گا۔
جرائم پیشہ عناصر بھی سوشل میڈیا پر اپنی اصل شناخت ظاہر نہیں کرتے اور دوسروں سے معلومات لے کر انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے عناصر کو کنٹرول کرنے کے لیے ملکی قواعد و ضوابط کو بہتر بنانے اور ان پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ گورنمنٹ کا فرض ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ کوئی بھی سوشل میڈیا کو جرائم کے فروغ کے لیے استعمال نہ کر سکے۔
حاصل کلام یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے تمام استعمال کنندگان کو چاہیے کہ وہ اپنی اصل شناخت کے ساتھ سامنے آئیں۔ ہمیشہ اپنی سرگرمیاں مثبت رکھیں۔ ذاتی نوعیت کی چیزوں کو سوشل میڈیا کی زینت نہ بنائیں تاکہ غلط عناصر آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں۔ کسی دوسرے کو تنگ کرنے یا ٹوہ لگانے کی کوشش نہ کریں۔ نہ ہی غلط شناخت کے ذریعے کسی کی کمزوری کو پھیلا کر اسے بدنام کریں۔ اگر کسی کی کوئی کمزوری آپ کے سامنے آتی ہے یا کسی سے کوئی اختلاف ہے تو ذاتی طور پر اس کو میسج کریں یا ملاقات کریں۔ اگر اتنی اخلاقی جرات نہیں تو پھر صبر سے کام لیں۔ یا کم از کم دل میں اس کو برا جانیں۔ آپ کی سوشل میڈیا پر تمام حرکات و سکنات تمام دنیا سے پوشیدہ رہ سکتی ہیں لیکن کائنات کے خالق سے کوئی بھی چیز پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ اور آپ کی ایک ایک حرکت اللہ کے ہاں محفوظ بھی ہے۔ اس لیے اپنا ریکارڈ صاف رکھیں تاکہ کل قیامت کے دن آپ رسوائی سے بچ سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:   حقیقت کیا ہے ؟

(79 مرتبہ دیکھا گیا)

یاسر غنی

یاسر غنی

یاسر غنی صاحب سائنس کے شعبے نباتیات میں ماسٹرز ہیں۔ فی الحال ایک کالج کے پرنسپل ہیں اشاعت و بلاغت میں سر گرم ہونے کے ساتھ مطالعے کو اپنا مشغلہ رکھتے ہیں۔ اور لوکل اخبارات میں "نشانِ منزل" کے عنوان سے کالم بھی لکھتے رہتے ہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں