سوشل میڈیا اور تحریک لادینیت (دوسری قسط)

تحریر کا پچھلا حصہ یہاں ملاحظہ فرمائیں

پچھلی تین مرتبہ میں یہ دشمنان ملت اسلامیہ، مسلمانوں کے ہاتھوں گستاخی رسول ﷺ کے نام پر کسی مسلمان کو قتل کروا کر خوشیاں منانے یا ہمیں خوفزدہ کرنے میں بری طرح ناکام رہے تھے۔ چنانچہ اس مرتبہ انہوں نے اپنے پراپیگنڈے کو شدید تر بنانے میں کسی قسم کی کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ لہٰذا ایک تو میری تصویر کے ساتھ گستاخیاں بھی انتہائی شدید نوعیت کی گئیں جن میں نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیمات کو صریحاً ننگی گالیاں دی گئی تھیں۔ اور دوسرا مسلمانوں کو اشتعال کی انتہاؤں پر پہنچانے کے لیے مجھ سے منسوب کرکے ایک آڈیو خطاب بنام ”حضرت زوہیب زیبی علیہ السلام کا اپنی امت کے ساتھ پہلا آڈیو خطاب“ بھی جاری کردیا گیا۔ اس جعلی خطاب میں مجھ پر ایمان لانے والے مسلمانوں کا شکریہ ادا کیا گیا تھا اور ساتھ ہی قادیانی حضرات کی مشہور دلیل دی گئی تھی کہ ”خاتم“ کا مطلب مہر لگانے والا ہے لہٰذا ”خاتم النبیین“ کا صحیح مطلب ہوا ”نبوت جاری ہے“۔
ظلم یہ ڈھایا گیا کہ اس آڈیو کلپ کے ساتھ  میری عبدالسلام فیصل اور حافظ بابر صاحبان کے علاوہ بعض دیگر ان مسلمانوں کی تصاویر بھی دیدی گئیں جو کہ دفاع اسلام کے ساتھی یا پھر ہمارے فورمز پر آنے والے اور اسلام سے محبت کرنے والے سادہ مسلمان تھے۔ حتٰی کہ دو ایسے افراد کی تصاویر بھی جاری کردی گئیں جن کا اس سارے معاملے سے کوئی تعلق نہیں تھا ۔ پھر اس سے بڑا ظلم یہ تھا کہ ان بے گناہ مسلمانوں کی تصاویر پر ”رضی اللہ عنہ“ لکھ کر انہیں میرا ’صحابی‘ بتایا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوسکے۔ لیکن حقیقی ظلم عظیم جو ڈھا رہے تھے وہ خود مسلمان تھے۔
ہم مسلمانوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم گھر بیٹھے جنت کمانے کے شوقین ہیں۔ ہم بغیر کسی محنت و مشقت کے خدا کو راضی کرنا اور بغیر عمل کے اپنی قبروں کو جنت کے باغ بنانا چاہتے ہیں۔ چنانچہ ہمیشہ کی طرح جذباتی مسلمانوں نے سنی سنائی باتوں پر یقین کیا۔ وہ لوگ جو مسلکی بحثوں میں مخالف سے دلیل و حوالہ مانگتے نیز ’سندِ حدیث‘ کی پُر پیچ بحثیں کرتے نہیں تھکتے۔ آج کسی انسان پر دعوٰی نبوت کا الزام لگا کر لعنتیں برسا رہے تھے۔
قتل کرنے کی تجویز کے ساتھ ساتھ مرتد ہونے کے فتوے بھی جاری کیے جارہے تھے۔ میرے حوالے سے جاری کی گئی پوسٹس پر 1200، 2200 اور 3000 تک کمنٹس دیے گئے تھے جن میں مسلمانوں نے گالیاں دے کر، اپنی طرف سے خدا کو راضی کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی۔

ہم پاکستانیوں کا دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ایک فضول و نکمّی قوم بن چکے ہیں جن کے پاس شاید کرنے کو کچھ خاص نہیں اس لیے ہم ہر غیر اہم و فضول بات پر وقت ضائع کرنا اور اسے پھیلانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ایسے معاملات میں ہم نہایت فیّاض واقع ہوئے ہیں ۔ ہمیں صرف تفریح چاہیے ، خوا ہ معاملہ کتنا ہی نازک و خطرناک کیوں نہ ہو۔ خواہ کسی کی جان کو خطرہ لاحق ہوجائے یا کسی کی عزت نیلام ہوجائے یا پھر اسے کتنا ہی بڑا نقصان پہنچے۔ سوال یہ ہے کہ ہم لوگ آخر بحیثیت قوم کب سدھریں گے ؟ ہم جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں وہ دوسروں کے لیے کیوں نہیں؟ ہم آخر کب اپنے جذبات کے ہاتھوں یرغمال بننا چھوڑ کر پہلے خدا کی عطا کردہ عقل سے سوچنے اور پھر کوئی فیصلہ کرنے کی کب عاد ت ڈالیں گے؟ وہ سب لوگ جو اس قسم کی جعلی تصاویردیکھ کر گالیاں دے رہے اور فتوے لگا رہے تھے ، کیا وہ تصاویر میں دکھائے گئے لوگوں سے خود ملے تھے ؟ کیا انہوں نے خود گستاخی کرتے دیکھا تھا؟ کیا ان متاثرہ لوگوں نے نبوت کے دعوے ، ایسے جذباتی مسلمانوں کے سامنے کیے تھے ؟ یا پھر کم از کم کسی کو ویڈیو میں ہی ایسا کرتے دیکھا ہو؟ حالانکہ جعلسازی تو ویڈیو کے ساتھ بھی کی جاسکتی ہے۔ اگر ایسا کچھ بھی نہیں ہے تو پھر انٹرنیٹ پر بیٹھی پڑھی لکھی عوام اور مسیحی جوڑے کو زندہ جلانے والے بھٹے کے جاہل مزدوروں میں کیا فرق رہ گیا ؟ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اگر بھٹہ مزدوروں کی جگہ یہ نام نہاد پڑھے لکھے (Well Educated) لوگ ہوتے تو یہ بھی ویسا ہی کرتے۔۔۔۔ کیا آپ نہیں جانتے کہ دعوٰی جتنا بڑا ہوتا ہے ، ثبوت بھی اتنا ہی مضبوط چاہیے ہوتا ہے ؟
اگر جذبات کو ایک طرف رکھ کر اس معاملے پر غور کیا جاتا تو کوئی بھی معمولی سمجھ بوجھ والا انسان بہ آسانی جان سکتا تھا کہ یہ صرف دشمنی میں بیگناہ لوگوں کی تصاویر کا غلط استعمال کیا گیا ہے۔ کیونکہ میری پہلی تصویر تو واضح طور پر نیلے بیک گراؤنڈ کے ساتھ پاسپورٹ سائز میں تھی جیسا کہ عموماً سکول ، کالج یا کسی بھی سرکاری کام کے لیے استعمال ہوتی ہے جبکہ دوسری تصویر بھی گھر میں لی گئی تھی جیسا کہ عموماً لوگ تصویر بنوا لیا کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جن مسلمانوں نے فیس بک جیسے غیر مستند ترین ذریعہ کی بنیاد پر ، دعوٰی نبوت جیسے گھٹیا ترین الزامات لگائے ، کیا وہ کل کو اسی بنیاد پہ اپنے بارے میں بھی اسی قسم کی باتیں ، فتوے اور گالیاں قبول کرسکتے ہیں؟ ممکن ہے یہاں آپ کے ذہن میں یہ نکتہ آئے کہ ہم پر تو ایسے الزامات مخالفت کی بناء پر لگے ، بھلا آپ پر کیوں لگائے جائیں گے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ درحقیقت اب یہ لوگ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں ہر وقت انتشار برپا رہے اور کسی نہ کسی طرح توہینِ رسالت ﷺ کے الزام میں ، دو چار مسلمان ضرور ماردیے جائیں۔اس طرح وہ لوگ اس قانون یا پھر جذبہ حرمت رسول ﷺ کا نقصان دکھا کر ، غلط تاثر قائم کرکے اس کے خلاف زہر اگلنے کا بھرپور موقع چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   آئیڈیل شخصیت یا بُت سازی

چنانچہ اب سے تقریباً 8 ماہ پہلے بھی ان لوگوں نے بہت سے مسلمانوں کی تصاویر پر دعوٰی نبوت لکھ کر پھیلادیے تھے۔ بھلا آپ خود سوچیے کہ کیا کوئی شخص بنیان پہن کرکھنچوائی گئی تصویر سے دعوٰی نبوت کرے گا ؟ اسی طرح کسی ’ فیاض سومرو‘ نامی شخص کی تصویر سے بھی یہی دعوٰی پھیلا دیا گیا تھا۔ پھر یہ لوگ اس ناٹک میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے اپنی دیگر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے کمنٹس میں یہ تک لکھ دیتے ہیں کہ ’’ میں حضرت فیاض سومرو علیہ السلام کے دعویٰ نبوت پر ایمان لاتا ہوں‘‘۔ نیز کچھ دیگر پروفائلز سے ، مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لیے ایسے تبصرے بھی کر دیتے ہیں ”اگر میرے بس میں ہو تو اس خبیث کو قتل کردوں“ یا ”اس کی زندگی میری شرمندگی“ وغیرہ۔
یہ لوگ اس قدر شرپسند ہیں کہ جامعہ بنوریہ کراچی جیسے مشہور و معروف مدرسہ کے ایک فتوے میں ، پہلے بیان کردہ طریقہ واردات کے مطابق جعلسازی کرکے”شراب کے حلال“ ہونے کا فتویٰ تک جاری کردیا جس سے مسلمانوں میں کافی بے چینی پھیلی ۔ اس جعلی فتوے کا خلاصہ تھا کہ ”قرآن کہتا ہے ’ کلو ا واشربو ا ‘ یعنی کھاؤ اور شراب پیو ۔ لہٰذا قرآن کے مطابق شراب پی سکتے ہیں، ہاں البتہ اتنی پینا حرام ہے کہ جس سے نشہ ہوجائے“ ۔ یونہی ان لوگوں نے ”روزنامہ امت کراچی 14 نومبر 2014“ سے منسوب کرکے سپاہ صحابہ کے رہنما، مولانا احمدلدھیانوی کے دعویٰ نبوت کی خبر بھی پھیلادی تھی ۔ خبر کا خلاصہ تھا کہ ”مولانا نے کہا سلسلہ نبوت حضرت عمر سے ہوتا ہوا مجھ پر ختم ہوا ہے۔امکان ہے سپاہ صحابہ کا ایک بڑا گروہ ان پر ایمان لا سکتا ہے نیز علماء ان پر ناراض ہیں اور کہتے ہیں کہ احمدلدھیانوی کھلے کفر کا مرتکب ہوا ہے“۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا یادوں کو ختم کرنا ممکن ہے؟

اور حد تو یہ ہے کہ ’27 نومبر 2014 روزنامہ امت کراچی‘ سے منسوب کرکے یہ جھوٹی خبر فیس بک پھیلادی گئی کہ ”پاکستان میں لوگ بہت تیزی سے اسلام کو چھوڑ رہے ہیں حتٰی کہ 20% آبادی ملحد ، دہریہ یا ’لادین ‘ بن چکی ہے۔ افسوس کہ پاکستانیوں نے اپنی ازلی نا سمجھی کے تحت اس جھوٹ کو خوب پھیلایا ۔ آپ ان کمیونسٹس، فری تھنکرز کی انسانیت دشمنی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ انہوں نے میری تصاویر کے ساتھ دعویٰ نبوت کی تصدیق کے لیے ’ دارالافتاء فیضان شریعت ‘ کے بریلوی مفتی عابد مبارک مدنی صاحب کے لیٹر پیڈ پر جعلسازی اس وقت کی جبکہ مسلک دیوبند اور بریلویوں میں جنید جمشید کے گستاخی والے معاملہ پر تنازع بنا ہوا تھا۔ یہ بھی یاد رہے کہ جان بوجھ کر جعلسازی بھی اسی فتوے پر کی گئی جو کہ جنید جمشید کے بارے ہی دیا گیا تھا۔

افسوس کہ ان دشمنان اسلام کا تیر ٹھیک نشانے پر بیٹھا اور مفتی صاحب یہی سمجھے کہ انکے ساتھ یہ جعلسازی، دیوبندی حضرات نے جنید جمشید کے خلاف بولنے کیوجہ سے کی ہے۔ نہ صرف مذکور مفتی صاحب بلکہ عام سنّی عوام کو بھی یہی تاثر ملا اور یوں ا ن فری تھنکرز نے لوگوں میں فرقہ وارانہ تصادم کروانے کا اچھا خاصہ ماحول پیدا کردیا۔ یہاں تک کہ مفتی صاحب نے اس سلسلہ میں متوقع مخالفین پر پرچہ تک کٹوادیا نیز اس کے ساتھ ساتھ مخالف فرقے کے خلاف کافی اشتعال انگیز گفتگو بھی کرنے لگے۔

الغرض کہ کہاں تک سنیں گے اور کہاں تک سناؤں؟ خلاصہ یہی ہے کہ اس وقت سوشل میڈیا پر عالم اسلام و پاکستان کے خلاف ایک بھرپور قسم کی جنگ لڑی جارہی ہے۔ ”یہودی سازش“ یا ”بیرونی ہاتھ“ کا جو دعویٰ ہماری جانب سے کیا جاتا ہے وہ قطعاً جھوٹ نہیں ہے۔ ہاں فرق ہے تو صرف اتنا کہ وہ لوگ ہمیں ، ہماری خامیوں کی وجہ سے ہی نقصان پہنچاتے ہیں۔ وہ ہماری کمزوریوں کو اچھی طرح جانتے اور سمجھتے ہیں اور پھرموقع کی تاک میں رہ کر، ان کا بھرپور استعمال کرتے ہیں۔ جونہی اسلام و پاکستان کے حوالے سے کوئی اہم واقعہ رونما ہو، ان کی پوری مشینری حرکت میں آجاتی ہے۔ چنانچہ حالیہ جنید جمشید کے واقعہ پر بھی انہی لوگوں نے ’جنگ معاویہ و علی رضی اللہ عنہم‘ کی طرح ، مسلمانوں کی صفوں میں گھس کر آگ کو بھڑکائے رکھنے کی خوب کوشش کی تھی۔ ان کی مکمل خواہش تھی کہ کسی طرح فرقہ وارانہ تصادم ہوجائے یا پھر کوئی مسلمان مشتعل ہو کر جنید جمشید کو سزا دے۔ یہاں تک کہ ان لوگوں نے کچھ ماہ قبل شائستہ لودھی کے مارننگ شو میں ہونے والی گستاخی اہلبیت پر حافظ سعید صاحب کے دیے گئے بیان کو ایڈٹ کرکے ،جنید جمشید کے واقعہ پر چسپاں کردیا۔اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ حافظ سعیدصاحب نے جنید جمشید کوہر گز معاف نہ کرنے اور معافی قبول کرنے کا کہنے والے مفتیوں کو مناظرے کا چیلنج کیا ہے۔ حالانکہ حافظ سعید صاحب وہ سب کچھ شائستہ لودھی کے بارے کہہ رہے تھے ۔ ان دشمنوں کے آلہ کاروں نے ، اس حوالے سے جو پوسٹ جاری کی تھی اس میں صاف درج تھا ”جماعۃ الدعوۃ اور تبلیغی جماعت ، آمنے سامنے“۔
معزز قارئین و علماءِ کرام! یہ سب تفصیلات بیان کرنے کا مقصد ہے کہ اول تو علماء اب بیدار مغزی کا ثبوت دیں اورموجودہ دور کے تقاضوں کو پورا کرنے کی ٹھانیں۔ جس فتنہ الحاد کے بارے آپ سوچتے ہیں کہ اسے امام غزالی نے دفن کردیاہے ، اسے عالمی طاقتیں اپنے مخصوص مقاصد کے تحت پھر سے زندہ کرنے کی بھرپور کوششیں کررہی ہیں۔ نیز موجودہ فتنۂ الحاد پہلے کی نسبت زیادہ خطرناک ہے کیونکہ پہلے سائنس کا ہتھیار نہیں تھا ‘اب ہے ، پہلے اپنی افکارکو عام کرنا مشکل تھا لیکن ذرائع ابلاغ کے ذریعے اپنے خیالات کی ترویج اب انتہائی آسان ہے ، یونہی پہلے ہم انگریزوں کے مفتوح نہیں تھے لیکن اب انگریزوں کی ذہنی غلامی ہماری رگ و پے میں سرایت کرچکی ہے ۔ لہٰذاپہلی فرصت میں سیکولرازم و فری تھنکنگ کے مزاج کو سمجھ کر مادہ پرستی و دہریت کا موضوع اپنے خطبات و تقاریر میں شامل کیجیے۔

یہ بھی پڑھیں:   عورت - ظالم بھی مظلوم بھی (دوسری قسط)

دوم آپ کے لیے اشد ضروری ہوگیا ہے کہ توہین رسالت ﷺ کی سزا پر سب مل بیٹھ کر باقاعدہ کوئی جامع لائحہ عمل حکومت پاکستان کو پیش کریں۔ ایسا ضابطہ جو کہ ہر طرح کی فقہی باریکیوں سے مزین ، قانونی سقوم سے پاک اورغیر مبہم نیز تمام تر حدود و قیود سے آراستہ ہو ۔

کیونکہ اس قانون کی بنیاد پر کسی شخص کی موت و زندگی کا فیصلہ منحصر ہے۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو کفّار یونہی پاکستان میں رائج اس قانون کی خامیوں کو اچھال کر واویلا کرتے رہیں گے اور ہوسکتا ہے ایک دن آپ پاکستانی قوم کی حمایت بھی کھو بیٹھیں۔سِوُم یہ کہ ایسے نازک معاملات میں ردّعمل کے بارے عوام کی تربیت کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ورنہ توہین رسالت ﷺ کے الزام پر انسانوں کو زندہ جلائے جانے یا غیر مستند ذریعہ سے سنی ہوئی بات پر یقین کرکے اپنے مسلمان بھائی کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کا رجحان بدستور برقرار رہے گا۔ اوریقیناًیہ بات تو آپ کو سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے کہ جب جب ایسے واقعات ہوں گے، تب تب اسلام اور مولوی کا مذاق بنتا رہے گا۔


تحریر: زوہیب زیبی

(191 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں