سیاست دان - ایک انشائیہ

سیاست دان شعوری طور پر کنویں میں کود پڑنے والے عقلمند لوگ ہوتے ہیں اور اس عقل کا اظہار وہ اکثر غیر ضروری جگہوں پر کر لیا کرتے ہیں۔ یہ لوگ سال کے کچھ خاص دنوں میں پارلیمنٹ نامی جزیرے پر بھی پائے جاتے ہیں۔ اس لفظ "پارلیمنٹ" پر اہل زبان کی مختلف رائے ہیں۔ ناقابل بیان اہل زبان کے مطابق یہ لفظ (پارلیمنٹ) دراصل تین الفاظ " پرل، لیمن اور مِنٹ" کا مجموعہ ہے لیمن یعنی کھٹے لیموں، منٹ یعنی کڑوا نیم اور پرل یعنی موتی سے مراد خواتینِ پارلیمنٹ لی جا سکتی ہیں۔کچھ کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ اور اس کا مفہوم بالکل ایک جیسے ہیں یعنی دونوں بے مطلب ہیں۔

اچھے سیاست دان قوم کا عظیم سرمایہ ہوتے ہیں تبھی قوم اسے خرچ کرنے میں دیر نہیں کرتی۔ البتہ نہ چلنے والا سرمایہ چونکہ خرچ نہیں ہوتا اس لئے جمع ہوتا رہتا ہے۔ سیاست دان کے بارے میں ایک انکشاف یہ بھی کرتا چلوں کہ کوئی بھی سیاست دان بچپن میں کم از کم سیاست دان بننے کا شوق نہیں رکھتا۔ اس سے یہ استدلال لیا جا سکتا ہے کہ اگر ان حضرات کو کوئی اور ڈھنگ کا کام مل جاتا تو یہ کبھی اس کاروبار میں نہ آتے۔

علامہ اقبال مرحوم اسے سرمایہ کاروں کی جنگ زرگری کہتے تھے۔ اس اصطلاح سے سب سے پہلا خیال یہ آتا ہے کہ یہ کوئی سبزی منڈی نما جگہ ہو گی، پھر علامہ صاحب اعضائے مجالس کی گرمی گفتار بیان کرتے ہیں جس سے سبزی منڈی کی بجائے مچھلی بازار لفظ مناسب لگتا ہے۔ مشاہدہ اگرچہ اس سے کچھ مختلف ہے۔ اسے کراکری سٹور کہنا ہی صحیح ہو گا کہ یہاں پلیٹیں، چمچے، کفگیر اور لوٹے وغیرہ کثرت سے نظر آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ماموں اور خالہ ہی کیوں؟

سیاست دانوں کی کئی قسمیں اب تک دریافت ہو چکی ہیں۔ اسی بات سے دیدہ عبرت نگاہ نم ہے کہ دریافت کرنے والوں کو زمانے نے موت کی سزا دے دی ہے اور اب وہ زندہ نہیں۔ ویسے بھی موت سے بڑی کوئی سزا اب تک قانون نے دریافت نہیں کی۔ بہت پہلے ایک شخص سے ملاقات ہوئی تھی جن کا کہنا تھا کہ انہوں نے تاریخی کتب کا جوس (رس) نکال کر پیا ہے(ان کی صحت اس بات کی گواہی بھی دے رہی تھی) فرمانے لگے کہ سیاستدان اسی دن وجود میں آ گیا تھا جس دن انسان کو اپنی غلطی چھپانے کے لئے بہانہ بنانا پڑا۔ حضرت کی اس بات سے مجھے ان کتابوں کے بارے میں بدگمانی ہونے لگی جس کا انہوں نے جوس بنا کر پیا تھا۔

انہوں نے کتابوں کے جوس کی طاقت سے یہ بھی بتایا کہ سیاست کے بارے میں غالب نے فرمایا تھا کہ یہ دماغ کا خلل ہے۔ یہ تو بعد میں اس دور کے سیاستدانوں نے بیچارے عشق کو ایک آئینی ترمیم کے زریعے پھنسا دیا۔ پھر کچھ عرصے بعد علامہ اقبال نے عشق کی صفائیاں پیش کیں لیکن علامہ صاحب سیاست پر بات اس لئے نہ کر سکے کیونکہ وہ خود عملی سیاست کا حصہ تھے۔ یہ غیرمتوقع انکشافات سن کر مجھے کتابوں کے ساتھ ساتھ ان کے نظام انہضام پہ بھی شک ہونے لگا۔

سیاست دان بننے کے لئے جو اینٹری ٹیسٹ دینا ضروری ہوتا ہے اسے الیکشن کہتے ہیں یہ غالباً انگریزی لفظ لیک (مائع کا رسنا) اور ہندی لفظ لکشن (نشان) کا مجموعہ ہے۔ (لکھاری کا جملہ سنسر کر دیا گیا ہے، بتائے گئے لفظی معنی سے قارئین خود معلوم کریں ، مدیر)۔ یہ ایک انوکھا اینٹری ٹیسٹ ہوتا اور اس میں کامیابی کے لئے بڑا تمبو، چند ہزار کرسیاں، چار پانچ سو لوگ، لاؤڈ-اسپیکر اور دو ڈھائی صحافیوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ موخر الذکر کے علاوہ باقی چیزیں جمع کرنا مشکل ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کبھی یوں بھی آ مری آنکھ میں

الیکشن جیتنے کے بعد اگلا مرحلہ عوام کے دل میں گھر کرنا ہوتا ہے وقت نہ ہونے کے باعث صرف چھوٹے موٹے شگاف ہی ہو پاتے ہیں۔ زیادہ تر کامیاب سیاستدان اپنے خاندان کی خدمت میں اپنا آدھا دماغ اور پورا وقت صرف کر دیتے ہیں باقی آدھے دماغ کے بارے میں اتنی معلومات ملی ہیں کہ وہ بچپن سے ہی ناکارہ ہوتا ہے۔ اور اسی سے عوام کی خدمت کا کام لیا جاتا ہے۔

سیاست دانوں کی تمام عمر نشیب و فراز سے عبارت ہوتی ہے۔ فراز کے دور میں وہ زمین سے اکثر اوپر ہوتے ہیں یعنی دوسرے ممالک کے دورے پر ہوتے ہیں۔ نشیب البتہ فوجیوں کی دعاؤں کی قبولیت کا نام ہے۔ سیاستدان چونکہ پورے ملک کا انتظام سنبھالنے کا دعوی کرتے ہیں چنانچہ شوری کمیٹی بھی رکھتے ہیں۔ یہ کمیٹی اس بات کا دھیان رکھتی ہے کہ بڑے صاحب کوئی بھی غلط فیصلہ ان سے پوچھے بغیر نہ کریں۔ کبھی کبھی صحیح فیصلوں میں بھی اس کمیٹی کی تائید شامل ہوتی ہے۔

کچھ سیاست دانوں میں قوم کی خدمت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے۔ یہ الگ بحث ہے کہ کوٹ کر بھرنے والے حزب اختلاف والے ہوتے ہیں یا میڈیا والے، البتہ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ کوٹنا صرف صرف محاورہ ہے درحقیقت انہیں باتوں اور خبروں میں گھسیٹا جاتا ہے۔ پارلیمنٹ میں ایک سپیکر صاحب بھی ہوتے ہیں۔ دروان گفتگو حکومت اور حزب اختلاف جب آپس میں پھولوں اور گلدستوں کا تبادلہ کرتے ہیں تو سپیکر صاحب کا کام ان محبتوں میں اضافہ کرنا ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ میں دستور زباں بندی (مائک بندی) بھی سپیکر صاحب کو سزاوار ہوتی ہے، اسی لئے سب ان کی تعظیم کرتے ہیں۔ کسی بھی سیاست دان کے مائک بند ہونے کے بعد کی گفتگو اور سخن طرازی بوجوہ عوام کے سامنے نہیں لائی جاتی۔

یہ بھی پڑھیں:   مبالغہ آرائی کی حد بندی

ہر سیاست دان اپنی طرح کا ایک ہی ہوتا ہے۔ اچھے سیاست دان کی معروفیت ایسے معلوم ہوتی ہے کہ اس کے کارناموں سے کتنی مدت تک کتنے معاشرتی علوم اور سیاسی علوم کے طلباء فیل ہوتے ہیں۔ سیاست دان کی زندگی اور موت دراصل اس کھلی کتاب جیسی ہوتی ہے جو اندھیرے میں پڑی ہو۔

ہمارے ملک کے سیاست دان جیسے بھی ہوں ہمیں ان پہ فخر ہے۔ اس باب میں ہمیں اپنی بدذوقی کا مکمل اعتراف ہے۔

(98 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں