سیرت رسولؐ کے چند گوشے

اللہ کے آخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ کی ساری زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ آپؐ اعلیٰ سیرت و کردار کے حامل تھے۔ آپؐ جیسی بہترین سیرت کی مثال تاریخ انسانی میں نہیں ملتی۔ ذیل میں آپ کی زندگی کے چند گوشوں پر ڈالی گئی ہے جو ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔

مختصر و جامع گفتگو

آپؐ کی گفتگو مختصر اور بامقصد ہوتی تھی۔ آپؐ کے خطبات ، ارشادات اور فرمودات کے اندر کہیں بھی بے جا طوالت نہیں ملتی۔ غزوہ تبوک کی طرف جاتے ہوئے آپؐ نے صحابہ سے نہایت مختصر خطاب فرمایا؛
"دشمن سے مقابلے کی آرزو نہ کرو۔ اور جب دشمن سے سامنا ہو تو پھر یاد رکھو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے"۔
اس مختصر سے خطاب میں محتاط رہنے کا ذکر بھی ہے اور بے پناہ بہادری کی جھلک بھی ملتی ہے۔ آپؐ کے چھوٹے چھوٹے فصاحت و بلاغت کا شاہکار ہیں۔

تحمل اور بردباری

آپؐ نہایت متحمل مزاج تھے۔ سخت سے سخت الفاظ سن کر بھی چڑتے نہیں تھے۔ بڑے بڑے قصور معاف فرما دیتے تھے۔ مکے اندر ایک بڑھیا آپؐ پر کوڑا پھینکتی تھی لیکن جب وہ بیمار ہوئی تو آپؐ سب بھلا کر اس کی عیادت کو تشریف لے گئے۔ فتح مکہ کے موقع پر آپ نے عام معافی کا اعلان کر دیا۔ حتیٰ کہ اپنے محبوب چچا حمزہؓ کے قاتلوں کو بھی معاف کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   نسبت کا فرق

صاحب بصیرت قائد

آپؐ تمام روئے انسانی میں سب سے زیادہ بصیرت رکھنے والے بے مثل قائد تھے۔ آپؐ نے ہمیشہ درست وقت پر درست فیصلے کیے۔ ہجرت کے لیے حبشہ اور پھر مدینہ کا انتخاب ہو، غزوہ بدر میں جنگی حکمت عملی ہو، غزوہ احزاب کے لیے خندق کا کھودنا ہو یا پھر مکہ پر فاتحانہ حملہ، سب آپؐ کی شاندار بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ غزوہ احد میں فوج کے ایک دستے نے آپؐ کی صرف ایک ہدایت پر عمل نہ کیا تو اس کا نتیجہ شکست کی صورت میں نکلا۔

یقین محکم

نگاہ بلند ، سخن دلنواز ، جاں پرســـــوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے
آپؐ میں تمام قائدانہ صلاحیتیں اپنے کمال پر موجود تھیں۔ عملی زندگی میں اس کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔ ہجرت مدینہ کے وقت آپؐ نے اپنا پیچھا کرنے والے سراقہ سے خوف محسوس نہیں کیا بلکہ آپ کے آہنی عزم سے جب سراقہ خوف زدہ ہو گیا تو آپؐ نے اسے فتح اسلام کی خوشخبری بھی سنائی اور غلبہ اسلام کے وقت پیشگی امان بھی دی۔
عدی بن حاتم جب اسلام قبول کرنے میں ہچکچا رہے تھے تو آپؐ نے انہیں بھی نہایت سنجیدگی اور پختہ عزم سے اسلام کے غلبہ کی نوید سنائی۔ آپؐ کے الفاظ کے اندر اس قدر یقین کی جھلک ملتی ہے کہ صحابہ محسوس کیا کرتے تھے کہ گویا وہ جنت اور دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ غزوہ احزاب کے موقع پر آپؐ نے خندق کھودتے ہوئے روم و ایران کی فتح کی خوشخبریاں دیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ننگا مصافحہ

بہادری

آپؐ نہایت بہادر تھے۔ آپؐ کی ساری زندگی ہی غلبہ اسلام کی کشمکش میں میدان جنگ میں گزری۔ آپؐ میدان جنگ میں ہمیشہ آگے کی صف میں لڑتے تھے۔ غزوہ حنین میں جب ایک اچانک حملے سے مسلمانوں کا لشکر بکھر گیا تو آپؐ نے مردانہ وار دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے لشکر کو از سر نو متحد کیا۔ کبھی کسی کے رعب میں نہیں آئے۔ اس وقت کی سپر پاورز کو بھی جب للکارا تو کڑکتے ہوئے لہجے سے اور کمال جرات کے ساتھ ۔ آپؐ کے بادشاہوں کو لکھے جانے والے خطوط اس پر گواہ ہیں۔
طائف کے نہایت مشکل حالات میں بھی آپؐ نے کسی قسم کی کمزوری نہیں دکھائی اور نہ ہی کوئی سمجھوتہ کیا۔

جنگی فنون کی مہارت

کشتی، تیراندازی، نیزہ بازی، شمشیر زنی اور دیگر جنگی فنون میں آپؐ کمال درجے کی مہارت رکھتے تھے۔ آپؐ نے اپنے وقت کے مشہور پہلوان سے کشتی لڑی اور اسے تین دفعہ پچھاڑا۔ آپؐ کا ارشاد ہے کہ میرا رزق نیزے کے سائے میں رکھا گیا ہے۔ آپؐ نشانہ بازی کی تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ "جان رکھو! قوت نشانہ بازی ہی میں ہے"۔ آپ مسجد نبوی کے صحن میں شمشیر اور تیر چلانے کی مشقیں کروایا کرتے تھے۔ ایک بار جب حبشی مسجد نبوی میں ایسی مشقیں کر رہے تھے تو آپؐ نے حضرت عائشہؓ کو بھی یہ مشقیں دکھائیں۔ آپؐ جسمانی ورزش بھی کیا کرتے تھے۔ دوبار آپؐ نے حضرت عائشہؓ کے ساتھ دوڑ بھی لگائی۔ آپؐ ایک منجھے ہوئے گھڑسوار تھے۔ ایک بار مدینہ میں کوئی خطرہ محسوس ہوا۔ جب لوگ رات کو نکل کر ایک جگہ جمع ہوئے تو دیکھا کہ آپؐ زین کے بغیر ایک تیز رفتار گھوڑے پر سوار ہو کر مدینہ کے باہر کا چکر لگا کر واپس آ رہے تھے۔
آپؐ کی زندگی کا ہر گوشہ اتنا روشن ہے کہ ایک ایک موضوع پر لکھنے بیٹھ جائیں تو الفاظ ختم ہو جائیں۔ آپؐ کی سیرت یقیناً اس لائق ہے کہ تمام انسانیت کے سامنے اسے بطور نمونہ پیش کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:   نظریۂ ارتفاقات از شاہ ولی اللہ (تیسری قسط)

(64 مرتبہ دیکھا گیا)

یاسر غنی

یاسر غنی

یاسر غنی صاحب سائنس کے شعبے نباتیات میں ماسٹرز ہیں۔ فی الحال ایک کالج کے پرنسپل ہیں اشاعت و بلاغت میں سر گرم ہونے کے ساتھ مطالعے کو اپنا مشغلہ رکھتے ہیں۔ اور لوکل اخبارات میں "نشانِ منزل" کے عنوان سے کالم بھی لکھتے رہتے ہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

1 تبصرہ

  1. scholar says:

    بھائی جان براہ کرم یہ بڑھیا والے واقعہ کا کوئی مستند حوالہ پیش کر دیں۔۔۔

تبصرہ کریں