شاعری یا شعر کی تعریف

شاعری یا شعر کی تعریف کیا ہے؟ ان کی حقیقت کیا ہے؟

فروسٹ نے کہا تھا کہ جذبات کو تصور اور تصور کو الفاظ مل جائیں تو شعر تخلیق ہوتا ہے۔
اصل تعریف کیا ہے؟ اس پر آج تک کوئی متفق علیہ رائے سامنے نہیں آسکی۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ ہر شخص مختلف زاویوں پر، مختلف جہات سے دیکھتا ہے۔ اور منظر کی معنویت کی تخلیق اپنے حساب سے کرتا ہے۔ وجدانی طور پر سب مختلف ہیں۔ اس لیے جمالیات میں حقیقتیں ڈھونڈی نہیں بلکہ تخلیق کی جاتی ہیں۔ اسی چیز کا اطلاق شعر پر بھی ہوتا ہے۔ کہنے والوں نے بہت کچھ کہا ہے۔ مثلاً کسی نے کہا کہ : ”جو کلام قضایائے تخیلیہ سے وجود میں آئے وہ شعر ہے“
یا پھر یہ کہ: ”شعرموزوں اور پرترنم الفاظ میں دلی جذبات کا اظہار ہے۔“
اور یہ بھی کہ: ”کلامِ موزوں و مقفی شعر ہے۔“
اس کے بعد شعرا اور فلاسفہ کی بحثیں ہیں۔ کہ آیا شعر میں وزن اصل ہے یا تخیل۔
پھر شعرا کی آپسی بحثیں ہیں کہ آیا وزن تخیل کے ساتھ ضروری ہے یا صرف تخیل یا صرف وزن پر بھی کام چل سکتا ہے۔
شعر کی شرائط کیا ہوں؟
کچھ نے کہا کہ وزن کی ضرورت صرف نظم میں ہے۔ شعر میں نہیں۔
یعنی شعر کی ماہیت میں وزن شامل نہیں ہے۔ البتہ نظم کہی جائے تو اس کا وزن میں ہونا ضروری ہے۔
حالی نے مقدمہ میں اس طرح شعر کی تعریف میں تقریباً یہی بات لکھی ہے کہ شعر کو شعر ہونے کے لیے وزن کی ضرورت نہیں ہے۔ یا پھر یہ کہ بغیر وزن کا شعر اسی طرح ہے جیسے بغیر بول کا راگ۔
اس سے حالی ان آفاقی بحثوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو فلاسفہ کی ہیں۔ یعنی شعر اپنی اصل میں وزن کے تصور سے کہیں پہلے کی چیز ہے۔ اس لیے تعریف کرتے وقت دانشورانِ ادب میں سے کچھ لوگ وزن کے معاملے میں بغاوت کے مرتکب ہوتے نظر آتے ہیں۔
اس کے مقابلے میں عروضیانِ ادب ہیں۔ جیسے مولوی نجم الغنی نے بحر الفصاحت میں لکھا ہے کہ شعر کے لیے تین لوازم ہیں:
۱۔ وزن
۲۔ قافیہ
۳۔ قصد
ان کے نزدیک جب تک یہ تینوں شرائط ایک کلام میں نہ پائی جائیں تب تک شعر نہیں ہوسکتا۔
اسی طرح دیگر حضرات نے شعر کی تعریف میں محض یہ کہنے پر اکتفا کیا ہے کہ ”کلامِ موزوں شعر ہے۔“
ناقص کی رائے میں شعر تخییل سے نمو پاتا ہے۔ اور یہ تخییل ہی سے دیگر لوازمات شعری (جو کہ رائج ہیں) وجود میں آتے ہیں۔
مثلاً وزن اور موسیقیت، قوافی وغیرھم سب کچھ تخییل کی ذیلی شکلیں ہیں۔ بدائع اور صنائع، استعارات، تشبیہات، بلاغت، فصاحت وعلی ہذا القیاس، غرض شعر کے حسن کے لیے جو جو چیزیں بطور شرط یا برائے حسن بتائی جاتی ہیں، وہ سب کچھ تخییل سے جنم لیتی ہیں۔
تفصیل کے لیے میرا مضمون ”شعر کے اجزا کیا ہیں؟“ ملاحظہ فرمائیں۔

یہ بھی پڑھیں:   سیرت رسولؐ کے چند گوشے

اب شعر میں وزن یا بحر ضروری ہے یا نہیں؟ اس سوال کا جواب تھوڑا پیچیدہ ہے۔ میرے نزدیک ”وزن“ بذات خود شعر کا لازمی جزو تو نہیں ہے۔ لیکن شعر کو اس سے الگ بھی نہیں کیا جاسکتا۔ وزن کا کام شعر میں انفعال یا اثر پذیری پیدا کرنا ہے۔ اسی لیے جب انسان شعر کہتے کہتے اور اس میں اثر انگیزی پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف تھا تو ایک مقام پر وزن بذاتِ خود وجدان کی بھوک کی تسکین کی خاطر ظہور پذیر ہوا۔ یہ ایک انقلابی خصوصیت تھی جو کہ پھر بعد میں شعر کا تقریباً لازمہ ہی بن گئی۔ تاہم فلاسفہ نے بحث کرتے ہوئے اسے اس لیے ذکر نہیں کیا کہ فلاسفہ کلیات پر بات کرتے ہیں۔ جزئیات پر نہیں۔ اور جن لوگوں نے فلاسفہ کے علاوہ وزن کی شرط عائد کی ہے وہ بھی اس لیے اپنی بات میں حق بجانب ہیں۔ کیونکہ وزن کو شعر سے خارج کرنے میں خصوصاً اردو زبان میں مزاجی تفاوت پیدا ہوتا ہے جو کہ یہاں کے لیے میرے نزدیک متحمل نہیں۔
مثلا یہ بحث کہ نثری نظم کو شاعری کہنا کس حد تک درست ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   مفت اردو بلاگ بنائیں

اردو میں یہ مسئلہ بہت سنگین اختلاف کی صورت میں ابھرا ہے۔ اور اس کی جڑ اس ناقص و مجہول کے نزدیک وہ لفظی محال ہے جو نثر اور نظم کے تفاوت سے پیدا ہو رہا ہے۔ عام حالات میں ہم یہ کہہ کر جان چھڑا سکتے ہیں کہ جو نظم ہے وہ نثر نہیں۔ اور جو نثر ہے وہ نظم نہیں۔ چنانچہ نثری نظم سی کوئی صنف ممکن نہیں ہے۔ درحقیقت یہ اختلاف شاعری کو "نظم" کہنے سے وارد ہو رہا ہے۔ اگر اسے نظم کہنے کی بجائے صرف "شاعری کہنے پر اکتفا کر لیا جائے تو شاید کوئی حل نکل سکے۔ کیونکہ نظم اپنے لفظی اور اصطلاحی مفہوم ہی میں "نظم" کی طالب ہے۔ جبکہ لفظ شاعری میں یہ تفاوت جاتا رہتا ہے۔ اسی وجہ سے "غیر منظوم" شاعری انگریزی اور جرمن لٹریچر میں وہ طوفان برپا نہ کرسکی جو یہاں ہوا ہے۔

تو ایک تو یہ لفظی نزاع کا مسئلہ ہے۔ دوسری اور غیر جانب دارانہ بات یہ ہے کہ شعر اپنی ہیئت میں وزن یا بحر کے ساتھ لازم چیز نہیں ہے۔ شعر ان سے الگ ایک جمالیاتی شئے ہے۔ اور بحر و وزن جمالیات کے دوسرے پہلو سے خاص ہے۔ یہ موسیقیت کا پہلو ہے۔ یعنی جمالیات کے اعتبار سے شعر اور موسیقیت دو مختلف النوع اشیاء ہیں جو آج تک اردو نظم میں مجموعی اور متحد حیثیت رکھتی ہیں۔
اب اس سے آگے آئیے تو معلوم ہوتا ہے کہ نثر اور شعر میں جو فرق ہے وہ بھی جمالیات سے علاقہ رکھتا ہے۔ یعنی آپ ہر بول چال یا لکھائی میں آنے والی عبارت کو نثر کہہ سکتے ہیں۔ لیکن شعر کے لیے تخیل کی ندرت، معنوی بلندی، بلاغت و فصاحت، شعلہ آشامی و شعلہ افروزی بمع ہزار نیرنگ سازی و لفظی تراش خراد وعلی ہذا القیاس ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عشق باقی رہا نہ ہم لوگو !

اب یہاں ایک اور مسئلہ بھی ابھرتا ہے۔ یعنی جو کچھ آپ شعر کی تعریف کے لیے شعری لازمے گِنواتے ہیں وہ یہاں کے مضمون اور خطوط نگاروں نے نثر کی صورت میں پیش کر ڈالے ہیں۔ جسے نثرِ مسجع کہیے گا۔ آزادؔ وغیرھم کی مثال سامنے ہے۔ انہوں نے شاعری کے تمام لازمے نثر میں ڈال دیے۔ لیکن وہ پھر بھی نثر اسی لیے رہی کہ ہم شعر کو بغیر وزن و بحر کے شعر ہی تسلیم نہیں کرسکے تھے۔ جبکہ دوسری زبانوں میں جہاں بحر کا التزام شعر پر نہیں رکھا گیا، وہاں ایسی شاعری بھی ممکن نہیں تھی جیسی یہاں نثر لکھی گئی اور "نثر" کہہ کر ٹھکرا بھی دی گئی۔ کُل ملا کر وہاں اور یہاں میں فرق یہ ہوا ہے کہ وہاں شاعری کی دو اور نثر کی ایک سکہ بند اقسام وجود میں آئیں۔ جب کہ یہاں نثر کی تو دو اقسام ہو گئی ہیں۔ لیکن شاعری پر ابھی تک لے دے جاری ہے۔

آخری مرحلہ جو فیصلہ کُن ہے وہ یہ کہ اردو کو اردو رہنے دیا جائے۔ اور وہ حدِ فاصل بتائی جائے جو اردو کی نثری شاعری کو ہماری نثرِ مسجع سے الگ کر سکے۔ اس صورت میں تیسری اور دوسری دنیا کی تمام بحثوں کو غیر متعلقہ قرار دے کر اپنی حدود میں رہ کر اپنے ادبی مزاج کی پیروی کرتے ہوئے مکالمہ کیا جائے۔ یوں افہام و تفہیم کے بہت سے راستے میسر آتے ہیں۔

(1469 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں