شخصیت

کیا آپ جانتے ہیں کہ خوشگوار شخصیت کو پہچاننا جتنا آسان ہے اتنا ہی اس کی تعریف بیان کرنا مشکل ہے !!
انسان کے اٹھنے بیٹھنے، اندازِ گفتگو، لب و لہجہ اور اعتماد سے اسکا اندازہ ہوتا ہے اور یہ اندازہ ہر ایک کو نہیں ہوتا۔
خوشگوار شخصیت انسان کے رجحنات رویّے اور اظہار کے آمیز کا نام ہے۔۔۔اس صفت کا حامل شخص بوڑھا ہو کر بھی اپنے چہرے کی کشش نہیں کھوتا۔۔۔یہ کفن میں لپٹا بھی خوشگوار دکھائی دیتا ہے۔

یہ تحریر بھی دیکھیں  icon-hand-o-left  مرد کی حساسیت

اچھی شخصیت عمدہ لباس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ اور اچھی شخصیت کبھی لباس کی محتاج نہیں ہوتی۔ آپکے ہاتھ میں چمکتی ہوئی گھڑی کی سوئیاں اگر سونے کی ہیں تو انکا مقابلہ کبھی شخصیت سے نہیں ہوتا۔۔۔یہ جوبن اور یہ رکھ رکھاؤ ہمارے کردار کو کچھ وقت کے لیے تو چھپا سکتا ہے ہمیشہ کے لیے نہیں۔ اصل میں شخصیت کا انحصار تو رشتوں اور تعلقات پر ہوا کرتا ہے۔

ملو سب کے سب کے ساتھ مگر قربت کسی کسی کو دو۔ اور اپنی شخصیت ایسی بنا لو کہ آسانی سے کوئی آپکا اعتماد نا جیت پائے۔ دوستی اور تعلق آہستگی سے بڑھنے والا وہ پودا ہے جسے موسم کی سختیاں بحرحال سہنی پڑتی ہیں۔

"فرینکن" کا ایک جملہ ہے کہ جب آپ کسی کے لیے اچھے ہوتے ہیں تو اس وقت آپ اپنے لیے بہترین ہوجاتے ہیں۔

اونچے مقام پر جاتے ہوئے راستوں میں ملنے والے لوگوں کا احترام بھی ضروری ہے۔۔۔کیونکہ جب ہم واپس آرہے ہونگے تب بھی ہماری ملاقات انہی سے ہوگی۔ اور زندگی کا ایک بہترین رُخ یہ بھی ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے کی مدد اپنی مدد کئیے بغیر نہیں کر سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:   ویلین ٹائن ڈے کا تاریخی پس منظر

اچھی شخصیت پانے کے بعد مثبت تعلقات کی بنیادیں رکھتے ہوئے ہمیشہ "انا" رکاوٹ بنتی ہے اور انا پرستی آپکے سامنے رکھے پانی کے اس گلاس کی مانند ہے جس میں زہر تو بے پناہ ہے مگر گلاس کی صفائی اس زہر کو دکھاتی نہیں۔ انا پرست دنیا کی ابتداء و انتہاء اپنے دم سے سمجھتا ہے۔ کسی سے بات کرے تو اسے زلیل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنے سوا اسے ہر ایک حقیر دکھائی دیتا ہے۔ وہ غلط کام کر کے بھی یہ کہتا دکھائی دیتا ہے کہ وہ دنیا کا واحد شخص ہے جو ہر کام درست کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جھوٹ، وعدہ خلافی اور خود غرضی اسکی رگ رگ میں سما جاتی ہے۔ مختصر یہ کہ یہ انا ایک دن شخصیت کو ایسے سنسان جزیرے پر لا کھڑتی ہے جہاں سے آپ تو ہر ایک کی خوشیاں اور کامیابیاں دیکھ سکتے ہیں مگر کوئی آپکی بدحالی نہیں دیکھ سکتا۔ اور پھر ایک دن آپ اپنے ہی ہاتھ سے اپنا قتل کرنے کی خواہش دل میں جگا بیٹھتے ہیں۔

خوشگوار شخصیت میں خود غرضی جب اپنی جگہ بنالے تو تعلقّات اور رشتوں پر تباہی کے بے انتہاء برے اثرات مرتّب کرتی ہے۔ وجہ یہ کہ اسکی بنیاد منفی ہوتی ہے !!
اپنے مفاد کا خیال ضرور کیجیے مگر خود غرض بن کر سامنے والے کی ہار کا جشن مت منائیے کہ کبھی آپ بھی اسکے سامنے ہارے ہوئے آسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   راستے روکنے کا کفر

شخصیت پر ایک اور سنگین وار حسد کا ہوتا ہے۔۔۔اور حسد وہ وحشی درندہ ہے جو اپنے شکار کے ساتھ ساتھ شکاری کے سینے کو بھی پھاڑ ڈالتا ہے۔
کیکڑوں کو اگر ایک کھلے صندوق میں رکھ دیا جائے تو بھی وہ باہر نہیں آتے۔۔۔ کیونکہ جب بھی ایک کیکڑا اوپر کی طرف چڑھائی کرے تو دوسرا اسے نیچے کھینچ لیتا ہے۔ اور پھر سب کے سب کیکڑے آزاد ہوتے ہوئے بھی اس کھلے صندوق میں مرجاتے ہیں۔

حاسد کا معاملہ بھی یہی ہوتا ہے کہ وہ خود تو کبھی ترقی نہیں کرتا مگر دوسروں کی کامیابیوں میں رکاوٹ بن کر انہیں بھی ماردینا چاہتا ہے۔ ساری دنیا کے انسانوں میں پایا جانے والا یہ مرض بخدا قوموں اور ملکوں کو بھی بدعنوان بنا دیتا ہے۔

عمومی طور پر ہم دنیا کو اس طرح نہیں دیکھتے کہ جیسی وہ ہے بلکہ ہم جیسے ہیں ویسا دنیا کو تصوّر کرتے ہیں۔ میری وہی پرانی بات کہ زمانہ ہمیں بدلا ہوا دیکھنا چاہتا ہے اور ہم زمانے کو !!
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کا رویّہ ہمارے رویّے کا ردِّ عمل ہوتا ہے۔ ہمارے ارادے اچھے ہوں تو دوسروں کے ارادوں پر کبھی شک نہیں ہوتا اور جب ہمارے ارادے ہی غلط ہوں تو سارے کا سارا زمانہ ہمیں برا نظر آتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   خدا اور ملحد

تمام تر تعلقّات کا دارومداد اعتبار پر ہوا کرتا ہے۔ نوکر مالک، باپ بیٹا، میاں بیوی، استاد شاگرد یہاں تک کہ ہر تعلق اعتبار کی چھت تلے ہی سکون پاتا ہے۔ اور جہاں اعتبار لڑکھڑانے لگے تو سمجھو سچ و صداقت کا بحران ہوچکا۔
اعتبار کو ہمیشہ درج زیل عوامل تعمیر کرتے ہیں۔
انصاف سے کام لینا، اپنے ساتھ ساتھ دوسرے کا احترام کرنا،وعدے نبھانا، مستقل مزاجی سے کام لینا،دوسروں کے خیالات سن کر اپنی رائے کا دیانت داری سے اظہار کرنا وغیرہ۔

میں اعتبار کو محبتوں سے افضل سمجھتا ہوں۔ کیونکہ ہم سے وابستہ کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جن سے ہم محبت تو کرتے ہیں مگر اعتبار نہیں کر پاتے۔

کُل ملا کر کہوں تو نتیجہ یہ ہے کہ شخصیت چاہے جتنی بھی سنور جائے مگر انا،خود غرضی،حسد اور بے اعتباری ایسی موزی بیماریاں ہیں جو اچھی شخصیت سے خوشیوں اور کامیابیوں کا دوام چھین لیتی ہیں۔


تحریر: محمد عرفان السعید

(115 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں