شعر میں جمالیاتی پہلو - ایک شعر پر تبصرہ

نگاہِ یار سے اوجھل ہوں اس لیے شاید
خیالِ یار سے آگے نکل گیا ہوں میں

استاد کا حکم آیا ہے کہ درج بالا شعر پر کچھ گزارشات پیش کروں. بظاہر اس حکم سے استاد محترم کا منشاء یہ سمجھ میں آتا ہے کہ مجھ جیسے عام طالب علم کے ذوق شعر فہمی کو جلا ملے. اور کسی شعر میں تدبر اور تفکر، نیز نئے معانی کی کھوج اور ان تک رسائی کا عمل استاد محترم کی نگرانی میں بطور امتحان کے انجام پائے۔

یہ شعر ان اشعار میں سے ہے جو قاری کی توجہ سرعت سے اپنی طرف منعطف کرواتا ہے. اگرچہ کسی شعر کا جاذبِ خیال ہونا حسن و خوبی کا معیار مانا جاتا ہے. لیکن یہ امر توجہ کا حامل ہے کہ بسا اوقات سفید تختے پر سیاہ نکتہ اس لئے ہماری توجہ کھینچتا ہے کہ ہمارا دماغ ایک مسلسل سفید حصے سے ہوتا ہوا اس سیاہی کو جب پچھلی سفیدی سے متضاد شے پاتا تو توقف کرلیتا ہے. یہ توقف راز کھوجنے اور سبب دریافت کرنے کا توقف ہوتا ہے. اس شعر میں بھی یہی "کاریگری" برتی گئی ہے. پہلے مصرعے میں شاعر ایک سیدھی سی بات کہہ رہا ہے کہ یار کی نگاہ سے شاید اس لئے اوجھل ہوں.. اگلے مصرعہ میں سامع اور ناظر توقع کرتا ہے کہ یار کی نگاہ میں نہ ہونے کی یا پھر یار کا منظورِ نظر نہ ہونے کی سیدھی سادی وجہ بیان کی گئی ہوگی. لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہے. بلکہ شاعر نے یہاں سفید تختے پر سیاہ رنگ پھینک کر شعر کو جذب سے متصف کرنے کی کامیاب لیکن معنی کو مبہم کرنے کی کوشش کی ہے. اس بات کو زرا کھولنے کی کوشش کرتے ہیں. شاعر اگلے مصرعہ میں کہتا ہے کہ (یار کی نگاہوں سے اس لئے اوجھل ہوں کہ) خیالِ یار سے آگے نکل گیا ہوں میں... ابہام (بلکہ تکلف برطرف مجھے کہنے دیجئے کہ لامعنویت) کا محوری لفظ مصرعے کا پہلا لفظ ہے. خیالِ یار کو روایتی اردو نثری اور شعری ادب میں یار کی یاد کے مترادف کے طور پر برتا گیا ہے. ہم زیرِ بحث شعر میں بھی اس مرکب لفظ کو اسی معنی میں لیتے ہوئے تشریح کی (بے سود) کوشش کرتے ہیں. معنی کچھ یوں سامنے آتا ہے کہ

یہ بھی پڑھیں:   جنسیات اور ہمارے مغالطے (حصہ دوم)

"یار کی نگاہوں سے اس لئے اوجھل ہوچکا ہوں کہ اب میں یار کی یاد سے آگے نکل گیا... (آگے نکلنے پر بحث ممکن ہے) یعنی کہ چونکہ شاعر اب یار کی یاد ترک کرچکا ہے اس لئے یار کا منظورِ نظر نہیں رہا" یہ وہ عام فہم مفہوم اس شعر کا نکل سکتا ہے. اگر ہم بہ تکلف درست ماننے پر اصرار کریں. کیوں کہ اوجھل کا لفظ اس مفہوم سے قطعََا لگّا نہیں کھارہا... شعر دوبارہ اس مفہوم کو ذہن میں رکھتے ہوئے پڑھئے....

یہ بھی پڑھیں:   فدائے دلبرِ رنگیں ادا ہوں

بحث سمیٹتے ہوئے اگر ہم اس مفہوم کے سقم کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے دوسرا مفہوم برآمد کرنے کیلئے تفکر کا تیشہ اٹھاتے ہیں. تو خیالِ یار کا ایک ممکنہ لیکن غیر روایتی مفہوم یہ لیا جاسکتا ہے کہ "یار کے خیال میں " وہ خیال جو یار کو آئے.... نہ کہ یار کی یاد....... بلکہ یار کو سوجھا ہوا خیال..... مصرعہ کے پہلے لفظ کے اس مفہوم کے اعتبار سے شعر کی شرح کچھ یوں ممکن ہے کہ

"میں اس لئے یار کی نگاہوں سے اوجھل ہوچکا ہوں کہ اب یار کے خیالوں سے میں آگے جاچکا ہوں. یعنی یار میری سوچ،،، سوچ رہا تھا. میں نے یہ کیا کہ اس کی سوچ سے نکل کر آگے کی طرف گامزن ہوگیا. "

یہ بھی پڑھیں:   لسی - ہر پریشانی کا حل

ظاہر ہے یہ ناممکن سی بات ہے. کہ ہم کسی چیز کے بارے میں سوچیں اور وہ چیز اپنے اختیار سے ہماری سوچ کا دائرہ ترک کرسکے. ہماری سوچ کی سرحد سے نکل سکے.. کسی کو اپنی قوت متخیلہ کا موضوع بنانا اور تخیل کے جال سے کسی کو آزاد کرنا صاحبِ خیال کا قطعا ذاتی فعل ہے. متخَیـّل (جس کا خیال کیا جائے) کا اس میں کسی قسم کا عمل دخل نہیں ہے. خلاصہ کلام یہ کہ یہ شعر پڑھنے کے اعتبار سے تو زبان کی عیاشی ضرور ہے. لیکن جمالیاتی ذوق کی تسکین سے قطعََا یہ شعر عاری ہے.

(293 مرتبہ دیکھا گیا)

شاد مردانوی

جنابِ شاد کے لیے اگر یہ کہا جائے کہ وہ چلتی پھرتی لغت ہیں تو شاید غلط نہ ہوگا۔ ان کی اردو در اصل اردو نہیں بلکہ معرب و مفرس کسی ماورائے اردو شئے کی تارید کہی جاسکتی ہے۔ علم دوست ہونے کے ساتھ ساتھ منکسر المزاج بھی ہیں اور مطالعے کو اوڑھنا بچھونا رکھتے ہیں۔ ان کی ہنر کاری ان کی تحریروں سے عیاں ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں