لال شہباز قلندر کی مشہور غزل کا منظوم اردو ترجمہ

شیخ سید عثمان شاہ مروَندی علیہ الرحمہ معروف بہ "لال شہباز قلندر" کی مشہور فارسی غزل "نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می رقصم" کا بندے نے منظوم ترجمہ کرنے کی اپنی سی کوشش کی ہے ، دیکھیے کہاں تک کامیاب ہوا ہوں۔

نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می رقصم
مگر نازم بہ ایں ذوقے کہ پیشِ یار می رقصم

ترجمہ:

نہیں معلوم وقتِ دید کیسے رقص کرتا ہوں
مگر اک ناز سے دلبر کے آگے رقص کرتا ہوں

تو ہر دم می سرائی نغمہ و ہر بار می رقصم
بہ ہر طرزِ کہ می رقصانیَم اے یار می رقصم

ترجمہ:

تری نغمہ سرائی پر ہمہ تن گوش ہوکر میں
تو جیسے رقص کرواتا ہے ویسے رقص کرتا ہوں

تُو آں قاتل کہ از بہرِ تماشا خونِ من ریزی
من آں بسمل کہ زیرِ خنجرِ خوں خوار می رقصم

ترجمہ:

تو قاتل ہے جو خوں کرتا ہے بس تفریح کی خاطر
میں بسمل ہوں ، ترے خنجر کے نیچے رقص کرتا ہوں

بیا جاناں تماشا کن کہ در انبوہِ جانبازاں
بہ صد سامانِ رسوائی سرِ بازار می رقصم

ترجمہ:

ذرا میری طرف بھی دیکھ اپنے جاں نثاروں میں
خود اپنی ہر طرح تذلیل کرکے رقص کرتا ہوں

اگرچہ قطرۂ شبنم نہ پو یَد بر سرِ خارے
منم آں قطرۂ شبنم بہ نوکِ خار می رقصم

ترجمہ:

چمن میں گرچہ نوکِ خار پر ٹکتی نہیں شبنم
میں فرشِ خار پر لیکن کمالِ رقص کرتا ہوں

منم عثمانِ مروندی کہ یارے شیخ منصورم
ملامت می کند خلقے و من بر دار می رقصم

ترجمہ:

میں کیوں پروا کروں لوگوں کی فتوے باز عادت کی
رہِ الفت میں سولی پر بھی چڑھ کے رقص کرتا ہوں

مترجم: محمد اسامہ سَرسَری

پسِ نوشت: 

اس کے بعض اشعار امیر خسرو کے نام سے بھی منسوب ہیں ، اس لیے اگر کسی صاحب کو اس بارے میں کوئی تحقیقی بات معلوم ہو تو ضرور آگاہ کرے۔

(415 مرتبہ دیکھا گیا)

محمد اسامہ سرسری

محمد اسامہ سرسری مستند عالِمِ دین اور فقہِ اسلامی کے متخصص ہیں۔ اسامہ صاحب دینی تعلیمات کے ساتھ ادبی اور فنی سرگرمیوں کا بھی فعال حصہ ہیں۔ انتہائی محنتی اور معاون طبیعت رکھتے ہیں اور متعدد کتب کے مصنف بھی ہیں ، کتاب "آؤ شاعری سیکھیں" ان کی اب تک کی شہ کار تصنیف ہے جسے اندرون و بیرون ملک ہر جگہ خوب پذیرائی ملی ہے۔ سوشل نیٹ ورک پر سینکڑوں لوگوں کو ادب اور شاعری کی فنیات آسان انداز میں سبقاً سبقاً سکھاتے ہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں