صحت مند ٹانگیں، صحت مند دماغ

ایک دہائی تک چلنے والی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ جن عمر رسیدہ خواتین کی ٹانگیں زیادہ مضبوط ہوتی ہیں ان کا دماغ جلدی بوڑھا نہیں ہوتا۔

یہ تحقیق تین سو جڑواں افراد پر کی گئی۔ لندن کے کنگ کالج کی ٹیم کا کہنا ہے کہ ٹانگوں کی مضبوطی اس بات کی نشاندہی کے لیے بہترین علامت ہے کہ کوئی اپنے دماغ کو اچھی حالت میں رکھنے کے لیے ضروری ورزش کر رہا ہے کہ نہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ورزش کرنے سے جسم میں کچھ ایسی کیمیائی مادے خارج ہوتے ہیں جو بڑی عمر کے افراد کے دماغ کو تقویت دیتے ہیں۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس خیال کو ثابت کرنے کے لیے مزید تحقیق کی ضروت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   علم میراث - پہلا سبق

اس تحقیق میں جڑواں بہنوں کے 43 برس سے 73 برس کی عمروں کے ڈیڑھ سو سے زائد جوڑوں پر تحقیق کی گئی۔

اس تحقیق کے آغاز میں ٹانگوں کی مضبوطی کو جدید ورزشی مشینوں سے جانچا گیا۔ اس دوران رفتار اور طاقت کا اندازہ لگایا گیا جبکہ مطالعے کے شروع اور آخر میں دماغ کی مضبوطی کا اندازہ لگایا گیا۔ دماغی جانچ کے لیے کمپیوٹرائزڈ ٹاسک دیے گئے جن سے یادداشت اور ذہنی صلاحیت کا پتہ چلایا گیا۔

عام طور پر مضبوط ٹانگوں والی جڑواں بہنوں کی ذہنی صلاحیت اور یادداشت دس سال کے عرصے میں بہتر رہی۔ زندگی میں پیش آنے والی باقی تبدیلیاں اور صحت کے مسائل کو بھی ملحوظِ خاطر رکھا جائے تب بھی یہ تحقیق اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   آشوب انسانیت

اس تحقیق میں شامل کلیئر سٹیو کا کہنا ہے کہ ’جب دماغی بڑھاپے کی بات آتی ہے تو ٹانگوں کی مضبوطی ایک اہم عنصر ہے جس نے ہمارے مطالعے پر کافی اثر ڈالا۔

اس کے علاوہ ’دیگر عناصر جیسے کہ دل کی صحت بھی اہم ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’ہمارا خیال ہے کہ ٹانگوں کی مضبوطی ایک ایسی جسمانی ورزش کی علامت ہے جو ہماری دماغی صحت کے لیے اچھی ہے۔‘

ایلزہائمرز سوسائٹی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ڈوگ براؤن کا کہنا ہے کہ ان نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ جسمانی ورزش نہ صرف جسم بلکہ ذہنی صحت کے لیے بھی اچھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   قدرتی و اخلاقی شر اور خدا

تاہم انھوں نے وضاحت کی: ’ہم اب بھی پوری طرح سے نہیں جانتے کہ یہ تعلق کس طرح کارآمد ہے اور ہم اس سے کس طرح زیادہ سے زیادہ فائد اٹھا سکتے ہیں۔‘

 

ماخذ: بی بی سی اردو

(128 مرتبہ دیکھا گیا)

تبصرہ کریں