صفر کی جہت (Zero Dimension)

گنتی کے ” صفر “ (zero) کو ہم عدم کا نمائندہ بھی کہتے ہیں۔ زیرو بہت اہم اور پراسرارعدد ہے۔ اس کو لامحدودیت (infinity) کا جڑواں بھائی بھی کہا جاتا ہے۔ ایسا جڑواں بھائی جو ہے تو بالکل برابرمگر ساتھ ہی ساتھ ایک دوسرے کے مخالف بھی۔ لامحدودیت اور عدم کا تصور کسی مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ یہ دونوں بہت دلچسپ مسائل اور تناقضات paradoxes کا گڑھ ہیں۔ مذہب اور سائنس میں ”لا موجود“ (nothingness) اور اس کے بعد ”ہمیشگی“ (eternity) دو بہت بڑے سوال ہیں۔
زیرو نامعلوم کی انتہا ہے
انفینیٹی معلوم کے نامعلوم کی انتہا ہے
ہم پہلی ڈائمینشن سے دو ڈائمینشنز، تین ڈائمینشنزاوراس کے بعد اگلی ڈائمینشنز کو سمجھنے کی اکثر کوشش میں ہوتے ہیں مگر ہم نے کبھی zeroth ڈائمینشن پر غور نہیں کیا۔ کیوں غور نہیں کیا؟ ۔۔۔۔۔۔ کیونکہ کسی ڈائمنشن کے ساتھ منسلک سمت direction بھی ذہن میں آتی ہے۔ ایک مکان کا تصور spatial ابھرتا ہے۔ تو زیرو ڈائمنشن اگر ہے تو اس کی سمت، اسکا زمان و مکاں بھی ناقابل متعین ہے۔ ناقابل متعین (indeterminate) کا مطلب یہ ہے کہ اس ڈائمینشن میں کچھ بھی ممکن ہے۔ کسی شے، سمت، واقعہ کا تعین نہیں ہو سکتا، ریاضی کی زبان میں کہیں گے all possible values are true۔
یعنی اس زیرو یا عدم میں اول و آخر وہ سب لامحدود ڈیٹا ہے جس کے کچھ محدود اجزا ہمیں ظاہر کی شکل میں نظر آتے ہیں یا جس کو ہماری عقل و حواس حقیقت سمجھتے ہیں وہ سب کچھ زیرو یا عدم سے ہی وارد ہوتا ہے۔
زیرو بہت خطرناک بھی ہے۔ پرائمری کا ریاضی جاننے والا بھی اتنا علم رکھتا ہے اگر یہ کسی سے ضرب کھائے تو اس ہندسے کو ہی زیرو کر دیتا ہے اور اگرکسی سے تقسیم ہو تو اس کا حاصل آج تک نہیں مل سکا۔ زیرو سے تقسیم کا ایک دلچسپ واقعہ یاد آیا۔ امریکن نیوی کا ایک جنگی بحری کروزر شپ (USS Yorktown) تھا۔ 1997 میں عملے کے ایک رکن نے غلطی سے اس کے سافٹ وئیرکی ڈیٹا بیس فیلڈ میں زیرو لکھ دیا۔ اس فیلڈ نے بیک اینڈ پہ تقسیم کا ریاضیاتی عمل کرنا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ زیرو سے تقسیم کیوجہ سے نیٹ ورک کا بفرقابو سے باہر (overflow buffer) ہو گیا اور شپ کا (propulsion system) فیل ہو گیا۔
خیر دوبارہ ڈائمنشن کی طرف پلٹتے ہیں۔ زیرو ڈائمنشن خالی (empty) نہیں ہے۔ یہ وہ ڈائمنشن ہے جہاں سے سب ممکنات کا ظہور ہوتا ہے اور اس میں سے ایک ظہورہماری اپنی کائنات کا بھی ہے اور اختتام کے ممکنات کا بھی ایسا ہی ہے جیسے دوبارہ زیرو کی طرف پلٹنا (natural return) ہے۔ ایک مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
1+(-1)
2+(-2)
3+(-3)
.
.
0+0+0+0+0.......
=0
حاصل: زيرو میں تمام مثبت اور منفی اعداد پائے جاتے ہیں، یعنی زیرو بذات خود اتنا بڑا لامحدود نمبر ہے جو ہرعدد کو، ہر انفارمیشن کو، ہر واقعہ کو اپنے اندرسمو سکتا ہے۔ زیرو ایک مطلق قدر (absolute value) ہے۔ یہاں پہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ اگر زیرو میں کائنات کے سارے عدد/ ڈیٹا موجود ہے تو زیرو سب سے بڑی ویليو ہونا چاہیے اور باقی تمام ویلیوز منطقی طور پرزيرو سے نیچے ہونی چاہیے ہیں۔ مزید سمجھنے کے لیے ہم ایک تھیوریٹکل تجربہ کرتے ہیں۔ ایسا ہے کہ زیرو میں سے -1 کو باہر نکالتے ہیں۔ ”منفی ایک“ باہر نکلنے سے زیرو اب مطلق نہیں رہا کیونکہ اس سب میں کچھ کمی واقع ہو چکی ہے۔ زیرو میں پایا جانے والا -1 اس ڈائمنشن سے باہر نکل آیا ہے تو ایکسپریشن بنے گا۔

(1-) - 0 ( زیرو مائنس نیگیٹو ون) - جواب ہے 1

یعنی نگیٹیو ون کے کم ہونے کی وجہ سے زیرو 1 ہو گیا۔ یعنی 1 ایک ایسا نمبر بن گیا جس میں سب اعداد ہیں سوائے نگیٹیو ون کے۔ اب اس سسٹم میں سے -2 نکالتے ہیں۔ لو جی اب زیرو کی ویلیو 2 ہو گئی۔ ایک ایسا 2 جس میں تمام اعداد ہیں سوائے -2 کے۔ یعنی زیرو 2 تب بنے گا جب زیرو میں سے 2 منفی کيے جائیں گے یا زیرو کی ڈائمنشن سے باہر نکال دیے جائیں گے۔ یہ ریاضی کا وہ ماڈل ہے جس میں ہرآنے والا عدد اپنے سے پچھلے عدد سے ظاہر میں بڑا لیکن قدر میں پچھلے عدد سے کم ہو گا۔ عام میتھ میں نیگیٹیو 1- ، نیگیٹیو-2 پازیٹیو1 اور پازیٹیو 2 سے چھوٹے تصور ہوتے ہیں جبکہ اس ریاضیاتی ماڈل میں کچھ اور ہو گا۔ نیگیٹیو ون پازیٹیو ون سے چھوٹا نہیں بلکہ اس کے برابر ہو گا مگر اس کے الٹ۔

منطقی نتیجہ

پازیٹیو ون کا مطلب ہے ایک ایسا سسٹم جس میں سب کچھ ہے سوائے نیگیٹیو ون کے
نیگیٹیو ون کا مطلب ہے ایک ایسا سسٹم جس میں سب کچھ ہے سوائے پازیٹیو ون کے
برابر مگر الٹ
اسی طرح فزکس میں matter اور anti matter ہوتا ہے۔ جیسے ہائیڈروجن کے ایک ایٹم کا برابر میں ایک اینٹی ہائیڈروجن ایٹم کا ہونا۔ زیرو کی اس تھیوری سے وہی مفروضہ اخذ ہوتا ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے کہ یہ اضافی کائنات مطلق صفر سے نکلا ہوا ایک عدد ہے اور ہمیں یہ جاننا ہے وہ کیا گمشدہ (missing) عدد ہے جو اگر پا لیا جائے تو ہم دوبارہ اضافی سے مطلق ہو جائیں گے، صفر ہو جائیں گے۔

(222 مرتبہ دیکھا گیا)

عامر مغل

عامر مغل اکاؤنٹس اور فنانس کے شعبے سے منسلک ہیں۔ طبعاً وہ ایک متجسس شخصیت ہیں۔ اپنے شعبے سے الگ وہ علم دوست ہیں۔ مذہب، فلسفہ، سائنس، ٹیکنالوجی اور فنونِ لطیفہ سے شغف بھی رکھتے ہیں اور ان موضوعات پر گاہے بہ گاہے لکھتے بھی رہتے ہیں۔ ان کی تحریروں سے فیضیاب ہوتے رہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں