طالبِ علم یا سالک ؟

طالب علم اور سالک میں بنیادی فرق یہ ہے کہ طالب علم صرف علم کا طالب ہوتا ہے، جو اپنے آپ میں عمدہ خوبی ہے مگر سالک اس طالب علم سے ایک قدم آگے بڑھتا ہے اور حاصل شدہ علم کو عمل کا قالب پہنانے کے طریق کھوجتا ہے. طالب علم اپنے سوالات کے جوابات چاہتا ہے. جب کے سالک صرف جوابات کے علم تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ اپنی زندگی میں اس علم کے عملی اطلاق کی چاہ رکھتا ہے. یہ فرق پڑھنے میں چاہے کیسا ہی باریک محسوس کیوں نہ ہو مگر اس کی گہرائی دو مختلف رویوں کو جنم دیتی ہے۔

اس سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا کہ ایک سچا طالب علم ہی ایک صحیح سالک بننے کا امکان رکھتا ہے. مگر یہ بھی ایک بدیہی حقیقت ہے کہ بیشمار طالب علم کبھی سالک بننے کی جسارت نہیں کرپاتے. ان کی ساری جستجو زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرنے تک محدود رہتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ انسان زبان حال سے اس شعر کی عملی تفسیر بن جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   انسان اور نظریۂ حیات

گفتار کا غازی یہ تو بنا
کردار کا غازی بن نہ سکا

مشاہدہ یہی ہے کہ نشہ صرف افیم یا چرس کا ہی نہیں ہوتا بلکہ دولت، طاقت، شہرت سمیت دیگر عوامل کا بھی ہوا کرتا ہے. ایسے ہی ایک نشہ علم کا بھی ہے جو انسان کو برباد کر چھوڑتا ہے. جس طرح دولت یا شہرت اپنی اصل میں کوئی معیوب شے نہیں ہیں مگر ان کا ذہن پر سوار ہوجانا انہیں معیوب بنا دیتا ہے۔ اسی طرح طالب علم بھی اگر سالک نہ بنے یا یوں کہ لیجیئے کہ علم بھی اگر عمل سے بغل گیر نہ ہو تو اپنے ثمرات کھو بیٹھتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں 'لطافت بے کثافت جلوہ گر ہو نہیں سکتی۔  وہ علم جو عمل سے خالی ہو محض معلومات بن کر رہ جاتا ہے. ایسا علم بارگاہ الٰہی میں توقیر کے بجائے قابل گرفت قرار پاتا ہے۔

اسی طرح کتابیں پڑھنا ایک بہترین خوبی ہے مگر مطالعہ کی لت لگا کر اس پر عملی تفکر نہ کرنا سراسر حماقت ہے. شائد اسی ضمن میں البرٹ آئین اسٹائن نے کہا تھا

یہ بھی پڑھیں:   8 اکتوبر 2005 - ہولناک یادیں

جو شخص بہت زیادہ مطالعہ کرتا ہے مگر تفکر کم کرتا ہے، وہ آخر کار ایک سست اور کاہل سوچنے والا بن کر رہ جاتا ہے۔

مومن اپنی زندگی کو کلاس روم نہیں بناتا بلکہ روحانی، سماجی، نفسیاتی، معاشرتی تمام تر پہلوؤں سے عملی میدان میں قدم رکھتا ہے. آپ کو کتنے ہی ایسے دانشور مل جائیں گے جن کی تحریریں پڑھ کر لگتا ہے کہ شائد سارے جہاں کے غریبوں کا درد ان ہی کے سینے میں موجزن ہے مگر ذرا نزدیک سے جاکر ان کی عملی زندگی کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ وہ کسی ایسی سنجیدہ کوشش یا تحریک سے وابستہ نہیں ہیں جو ان غریبوں کی بہبود کیلئے کام کررہی ہو. آپ کو ایسے زہین محقق بکثرت دستیاب ہوں گے جو  تصوف یا روحانیت کی دقیق اصطلاحوں پر تحقیقات پیش کرتے ہیں. مگر ذرا پاس جاکر دیکھیئے تو حیرت ہوگی کہ وہ مطالعہ قران، قیام الیل، تہجد یا اعتکاف جیسی ثابت شدہ روحانی ریاضتوں سے کوسوں دور ہیں. غرض یہ ایسے طالب علم ہیں جن کی ترجیحات روحانی ارتقاء یا معاشرتی اصلاح نہیں بلکہ علمی موشگافیاں ہیں. یہ سالک نہیں ہیں اور نہ ہی بننا چاہتے ہیں. یہ تو اپنے علم پر ایسے نازاں اور مطمئن ہیں کہ دیکھنے والو کو فرشتوں کا گمان ہوتا ہے۔ مگر جیسا کہ شاعر کہتا ہے

یہ بھی پڑھیں:   علمی اختلاف، اعلی اخلاق اور متجددین

فرشتوں سے بہتر ہے انسان بننا
مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ

احقرکی گزارش ہے کہ سالک کی متصوفانہ تعریف میں نہ الجھا جائے بلکہ اس پیغام کو سمجھنے کی سعی کی جائے جو راقم کا مدعا ہے۔

(147 مرتبہ دیکھا گیا)

عظیم الرحمن عثمانی

عظیم الرحمان عثمانی اپنے مزاج کے حوالے سے اپنی مثال آپ ہیں۔ بڑے بڑے موضوعات کو دو جمع دو چار کرکے سمجھانے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کی تحریروں سے فیضیاب ہوتے رہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں