طوطا اور مینا

یہ کہانی بچپن میں کئی دفعہ میری والدہ نے سنائی ہے کہ کسی گاؤں میں ایک غریب خاندان رہتا تھا۔ کھانے کو کچھ بھی نہ تھا۔ کئی کئی دن فاقوں میں گزر جاتے تھے۔ ایک دن اس شخص نے اپنے بیوی بچوں کو لیا اور کسی ویران جنگل میں چل دیا۔ وہاں پہنچ کر ایک بڑے درخت کے نیچے ڈیرہ ڈال لیا۔

اس شخص نے وہاں پہنچ کر اپنے بچوں کو مختلف کام بتانے شروع کر دیے۔ بچوں نے نہایت جوش و خروش سے بھاگ بھاگ کر اطاعت کی۔ کسی کو صفائی کا کہا تو کسی کو لکڑیاں جمع کرنے کا۔ کسی کو پانی لانے کا کہا تو کسی کو چولہا بنانے کا۔ غرض ہر کوئی لگن سے اپنے کام میں جت گیا۔ دونوں میاں بیوی درخت کے نیچے بیٹھے بچوں کو کام کرتا دیکھ کر خوش ہو رہے تھے۔

اسی درخت کے اوپر ایک طوطا اور مینا بھی رہتے تھے۔ انہوں نے اس آدمی سے پوچھا کہ تمہارے پاس پکانے کو کچھ نہیں لیکن تیاری بڑے زور و شور سے کر رہے ہو۔ بتاؤ تو سہی کہ پکاؤ گے کیا؟ اس آدمی نے ان کو جواب دیا کہ تم دونوں کو زبح کرکے پکاؤں گا۔ اس پر طوطا اور مینا ڈر گئے۔ انہوں نے اس آدمی کو بتایا کہ اس درخت کے نیچے ایک خزانہ دفن ہے۔ کھدائی کرکے وہ نکال لو لیکن ہمیں زبح نہ کرو۔ اس آدمی نے کھدائی شروع کروا دی۔ جلد ہی انہیں خزانہ مل گیا۔ وہ بہت خوش ہوئے۔ اللہ کا شکر ادا کیا۔ طوطا اور مینا کا بھی شکریہ ادا کیا اور خوشی خوشی گھر کو چل دیے۔ لوگوں نے خوشحالی کا راز پوچھا تو انہوں نے سارا واقعہ سنا دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   ثقافت و امن اور زندہ قوم

اسی گاؤں میں ایک اور غریب خاندان بھی رہتا تھا۔ اس نے یہ سارا واقعہ سنا تو وہ بھی غربت سے نجات کے لیے یہی ترکیب آزمانے نکل کھڑے ہوئے۔ اسی درخت کے نیچے جا کر ڈیرہ لگایا۔ ان میاں بیوی نے بھی اپنے بچوں کو صفائی ، لکڑیاں جمع کرنے وغیرہ کا حکم دیا۔ جس کو بچوں نے کمال ڈھٹائی سے ٹال دیا اور سنی ان سنی کر دی۔ والدین جس کام کا کہتے بچے ٹال مٹول سے کام لیتے۔ طوطا اور مینا نے ان سے بھی پوچھا کہ تم لوگ یہاں کیوں آئے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم تمہیں زبح کرکے کھانے آئے ہیں۔ طوطا اور مینا ہنسنے لگے اور ان سے کہا کہ کھانے والے چلے گئے ہیں۔ اب یہ تمہارے بس کی بات نہیں ہے۔ تمہارے انداز و اطوار سے ہی یہی لگ رہا ہے کہ تم اور تمہارے بچے کام کیے بغیر پھل حاصل کرنا چاہتے ہیں جو کہ ممکن نہیں ہے۔ آخرکار اس خاندان کو مایوسی کے عالم میں خالی ہاتھ لوٹنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں:   مدیر با الجبر

یہ کہانی تو فرضی ہے لیکن اس میں ملنے والا سبق بالکل حقیقی ہے۔ جو لوگ کسی بھی مقصد کے حصول کے لیے منظم انداز میں جدوجہد کرتے ہیں۔ وہ بالآخر اس منزل کو پا ہی لیتے ہیں۔ قطع نظر اس سے کہ منزل یا مقصد کوئی بھی ہو۔ اچھا ہو یا برا۔ چھوٹا ہو یا بڑا۔ اگر آپ اپنی زندگی میں کوئی نصب العین طے کر لیں اور بظاہر اگر کامیابی کے چانس نظر نہ آتے ہوں تب بھی اخلاص و یقین کی قوت کے ساتھ جدوجہد شروع کر دیں تو یہ ناممکن ہے کہ وہ مقصد حاصل نہ ہو۔ یہی اللہ کی سنت ہے۔ انسان جس چیز کے لیے جدوجہد کرتا ہے وہ اس چیز کے حصول کے راستے اس پر کھول دیتا ہے۔ اور اگر کوئی فرد یا قوم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر محض آرزوؤں اور خواہشوں سے ہی نتائج کی طالب ہو تو پھر ایسی امیدیں کبھی پوری نہیں ہوتی۔

یہ بھی پڑھیں:   نماز میں بھگدڑ

(157 مرتبہ دیکھا گیا)

یاسر غنی

یاسر غنی

یاسر غنی صاحب سائنس کے شعبے نباتیات میں ماسٹرز ہیں۔ فی الحال ایک کالج کے پرنسپل ہیں اشاعت و بلاغت میں سر گرم ہونے کے ساتھ مطالعے کو اپنا مشغلہ رکھتے ہیں۔ اور لوکل اخبارات میں "نشانِ منزل" کے عنوان سے کالم بھی لکھتے رہتے ہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

1 تبصرہ

  1. Mudassir pasha says:

    Nice Sir well done keep it up

تبصرہ کریں