عشق باقی رہا نہ ہم لوگو !

پھر ہوئی آنکھ اُن کی نم لوگو!
یعنی کچھ اور بھی ہیں غم لوگو!

کس سے شکوہ کریں عداوت کا
ہم پہ اپنوں کے ہیں کرم لوگو!

درد اتنے کیے رقم لوگو!
اب تو اُٹھتا نہیں قلم لوگو!

آپ لوگوں سے غم بیاں کر کے
اور بڑھنے لگا ہے غم لوگو!

کبھی ہم بھی تھے محترم لوگو!
میری کھاتے تھے وہ قسم لوگو!

سچ کہا تھا جہان فانی ہے
عشق باقی رہا نہ ہم لوگو!

یہ بھی پڑھیں:   غزل بر زمینِ سودا از: یاس یگانہ

قصہ اب بھی نہ ہو ختم لوگو!
بات کرتے ہو کیسی تم لوگو!

کس نے پائی ہے عشق میں منزل
ایسا ہوتا بہت ہے کم لوگو!

کبھی وارثؔ بھی اُن کے دل میں تھے
جیسے کعبے میں تھے صنم لوگو!

فراز وارثؔ

(47 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں