علمِ عروض سبق ۱۱



گزشتہ اسباق میں اب تک ہم نے مختلف بحروں کے اوزان، ارکانِ بحر، اجزائے ارکان اور دائروں سے بحریں نکالنے کے طریقے کو دیکھا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ ان چیزوں کو وقتاً فوقتاً دہراتے رہیں تاکہ جو چیزیں ہم اب تک سیکھ چکے ہیں وہ آپ کے ذہن سے نکل نہ جائیں۔ میری کوشش یہی ہوتی ہے کہ بات کو آسان سے آسان طریقہ اختیار کرکے آپ تک پہنچادوں۔ ورنہ عروضیوں کا تو مشغلہ ہی یہی ہے کہ انکا قاری خاص ہوتا ہے اور وہ خاص قاری بھی بے چارہ عروضیوں کی دقیق اصطلاحات میں پھنس کر پڑھنا بند کردیتا ہے کیونکہ ان دقیق اصطلاحات کو سمجھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ اللہ پناہ میں رکھے اور بچائے ان عروضیوں سے۔ شکر کریں کہ یہاں نہ میں عروضی ہوں نہ آپ۔


اب وہ مرحلہ آرہا ہے جس کا آپ کو شدت سے انتظار تھا اور جس کی بنیاد پر عروض کا مکمل نظام اس کی پیچیدگیاں اور سب سے بڑھ کر اس کے "نظامِ تسمیہ" کی باریکیاں (جسے اکثر حضرات دور ہی سے خیر باد کردیتے ہیں) قائم ہیں۔ جی بالکل درست سمجھے آپ۔ آج سے ہم ارکانِ عروض کے حوالے سے زحافات کی بحث کی طرف آگے بڑھیں گے۔ گو کہ میری پوری کوشش ہوگی کہ سہل سے سہل تر انداز میں بات ہو لیکن بہر حال یہ علمِ عروض ہے تو مشکلات تو بہرحال پیش آئیں گی۔ مشورہ یہ ہے کہ صبر کا دامن تھام کر رکھیں۔ ایک مرتبہ پڑھنے پر کچھ نہ سمجھ میں آئے تو دوبارہ پڑھیں، تیسری بار پڑھیں۔ پھر بھی کسی مسئلے کی صورت میں تبصرہ خانہ آپ کے لیے کھلا ہے اس کو استعمال میں لائیں۔ یہاں اب چونکہ زحافات کا مرحلہ آن پہنچا ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ کام ایک دن یا ایک ہفتے میں نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے آپ کو باقاعدگی سے بار بار پڑھنا اور سمجھنا پڑے گا۔ ساتھ ہی میرے ذہن میں یہ بات بھی ہے کہ بنیادی اصطلاحات کے حوالے سے جو جو پریشانیاں آگے آنے والی ہیں انہیں ابھی اسی سبق میں سلجھا دیا جائے، تاکہ کہیں کوئی تشنگی یا کوئی کمی باقی نہ رہے۔ میں اردو عروض میں وہ باتیں بھی اپنے قارئین سے کرلینا چاہتا ہوں جنہیں اردو عروض صدیوں پہلے بھلا چکا ہے۔ عروضی کتابوں میں انکا کوئی ذکر دور دور تک نہیں ملتا اور اس لیے نہیں ملتا کہ اردو میں ان اجازتوں اور ان باتوں کی حیثیت لگے بندھے رواجی اوزان کی تکرار نے معدوم کردی ہے۔



یہ بھی پڑھیں:   ابلاغ، نقد و نظر اور الہام

متفرق اصطلاحاتِ علم عروض


۱۔ صدر و ابتدا، عروض و ضرب اور حشوین


شعر کے پہلے مصرع میں جو پہلا رکن واقع ہوگا اسے"صدر" کہا جائے گا۔ اور پہلے ہی مصرع کے آخری رکن کو "عروض" کہا جائے گا۔

اسی طرح شعر کے دوسرے مصرع کے پہلے رکن کو "ابتدا" کہا جاتا ہے۔ اور دوسرے ہی مصرع کے آخری رکن کو "ضربکہا جاتا ہے۔
ابتدا کا دوسرا نام مطلع اور ضرب کا دوسرا نام عجز بھی ہے۔
صدر و ابتدا اور عروض و ضرب کے علاوہ مصرع کے جو بھی درمیانی ارکان ہیں ان میں ہر ایک کو حشو کہا جاتا ہے۔
جب بحر آٹھ ارکان کی ہوگی تو حشو کی تعداد ہر مصرع میں دو ہوگی۔ یعنی پورے شعر میں چار حشو ہونگے اور باقی چار صدر و ابتدا اور عروض و ضرب۔ اگر مکمل بحر چار ارکان کی ہوگی تو اس میں کوئی حشو نہیں ہوگا۔ کیونکہ اس کا پہلا رکن صدر دوسرا عروض، تیسرا ابتدا اور چوتھا ضرب بن جائے گا۔ اور اگر مکمل بحر محض دو ارکان کی ہوگی یعنی ایک مصرع ایک رکن کا تو اس میں بھی حشو نہیں ہوگا۔ بلکہ اس میں صدر بھی عروض میں تحلیل ہوجائے گا اور ابتدا ضرب میں تحلیل ہوجائے گا۔ یعنی ایک ہی رکن ایک وقت میں صدر اور عروض یا دوسرا رکن ایک ہی وقت میں ابتدا یا ضرب ہوجائے گا۔

۲۔ مثمن


وہ شعر ہے جس کے دونوں مصرعوں کے ارکان کی مکمل تعداد کل ملا کر آٹھ ہو۔ یعنی پہلے مصرع میں چارارکان، دوسرے میں بھی چار ارکان۔ ارکان چاہے سارے اصلی ہوں یا یا سارے متاثر ہوں، یا کچھ اصلی اور کچھ متاثر، بحر سالم ہو یا مزاحف، ہر حال میں ایک شعر میں آٹھ ارکان والی بحر مثمن کہلائے گی۔

۳۔ مسدس


وہ شعر ہے جس کے دونوں مصرعوں کے ارکان کی مکمل تعداد کل ملا کر چھ ہو۔ یعنی پہلے مصرع میں تین ارکان، دوسرے میں بھی تین ارکان۔

۴۔ مربع


وہ شعر ہے جس کے دونوں مصرعوں کے ارکان کی مکمل تعداد کل ملا کر چار ہو۔ یعنی پہلے مصرع میں دو ارکان، دوسرے میں بھی دو ارکان۔

۵۔ مثلث


وہ شعر ہے جس کے دونوں مصرعوں کے ارکان کی مکمل تعداد کل ملا کر تین ہو۔ مصرع ڈیڑھ رکنی ہوگا۔

۶۔ مثنّٰی


وہ شعر جس کا ایک مصرع ایک رکن کا ہو۔ پورے شعر میں دو ارکان ہوں۔


۷۔ موحّد


بعض عروضیوں نے ایک رکن ایک بحر پر بھی فرض کیا ہے۔ یعنی پوری بحر میں صرف ایک ہی رکن ہوگا۔ وہی مصرعِ اول اور مصرعِ دوم میں پورا ہوگا۔


۸۔ مضاعف


وہ بحر جس کے ارکان کی تعداد دوگنی کردی گئی ہو۔ جیسے مثمن میں آٹھ ارکان ہوتے ہیں تو مثمن مضاعف میں سولہ ارکان ہونگے۔ اسی طرح مسدس میں چھ ارکان ہیں تو مسدس مضاعف میں بارہ ہونگے۔ عام طور پر ہر بحر کو دوگنا کرنے کی اجازت ہے۔ سوائے ایسی بحر کے جو دائرے کی اصلی شکل اور اصلی شمارِ ارکان میں ہو۔ جیسا کہ متقارب سالم، ہزج سالم اور دوسری بحریں جن میں فکِّ بحر کے بعد کوئی تبدیلی نہ ہوئی ہو۔


۹۔ تام


ایسا شعر جس کی بحر کے ہر مصرع کے ارکان اسی حالت اور اسی تعداد میں ہو جیسے دائرے سے انفکاک کیے گئے تھے۔ یعنی اسکے ارکان کی حالت اور ارکان کی تعداد میں کوئی فرق نہ آیا ہو۔


۱۰۔ وافی


ایسا شعر جس میں بحر کے ارکان کی تعداد دائرے کے مطابق ہو اور ارکان خواہ سالم ہوں یا ان میں تغیر کردیا گیا ہو۔


۱۱۔ مجزو


ایسا وافی شعر جس کے ہر مصرع سے ایک رکن حذف کرلیا گیا ہو۔


۱۲۔ مشطور


ایسا شعر جس میں سے آدھا شعر نکال کر باقی آدھے کو ایک شعر کے برابر استعمال کریں۔ مشطور شعر اصل کے مقابلے میں ایک مصرع کے برابر ہوتا ہے۔


۱۳۔ منہوک


ایسا شعر جس کی بحر کے اصل ارکان یعنی وافی سے دو تہائی ارکان علیحدہ کر کے استعمال کیا گیا ہو۔ یہ صورت مسدس بحر میں ہی ممکن ہے جس سے منہوک مثنّٰی رہ جائے گی۔


۱۴۔ معقّد


وہ شعر ہے جس کا پہلا مصرع اور دوسرا مصرع جدا نہیں ہوسکتے۔ مکمل شعر ایک سطر ہوگی اور پہلے مصرع کا عروض دوسرے مصرع کے ابتدا سے مل گیا ہوگا۔۔


۱۵۔ مُصرّع


وہ شعر ہے جس کے دونوں مصرعے ہم وزن و ہم قافیہ ہوں۔ جیسے غزل میں مطلع۔


۱۶۔ صحیح


جن عروض و ضرب میں کوئی تغیر نہ آیا ہو اور وہ بمطابقِ دائرہ صحیح حالت میں ہوں وہ صحیح عروض یا ضرب ہیں۔


۱۷۔ منتقص


جن عروض و ضرب میں کوئی تغیر یا تبدیلی آگئی ہو اور وہ بمطابق دائرہ نہ باقی رہے ہوں، منتقص عروض و ضرب ہیں۔


۱۸۔ فصل
وہ عروض جسے اپنی ضرورت کے مطابق منتقص یا صحیح رکھا جائے اور وہ ضرورت پر پورا اتر رہا ہو تو عروض کی اس عارضی صورت کو فصل کہتے ہیں۔


۱۹۔ غایت


غایت کی تعریف بھی فصل والی ہے۔ لیکن فصل عروض ہوتا ہے اور غایت ضرب ہے۔


۲۰۔ بنا


کسی بھی شعر کی بحر کو شعر کی" بنا" بھی کہا جاتا ہے۔


۲۱۔ سالم


ایسی بحر جس کے تمام ارکان اصلی اور بغیر کسی تغیر و تبدیلی کے ویسے ہی بحر میں موجود ہوں جیسے دائرے میں تھے۔


۲۲۔ اصول


ایسے ارکان جو بغیر کسی تبدیلی کے دائرے والی حالت میں ہوں۔ سالم اور اصول میں فرق یہ ہے کہ سالم مکمل بحر کا نام ہوتا ہے اور اصول انفرادی طور پر ارکان کو کہتے ہیں۔


۲۳۔ فروع


فروع فرع کی جمع ہے۔ فروع وہ ارکان ہیں جو متغیر ہوں اور اپنی اصلی حالت میں نہ ہوں۔ یعنی اصول میں کسی بھی قسم کی تبدیلی ہوگی تو فرع وجود میں آئے گی۔


۲۴۔ زحاف


کسی بھی قسم کا تغیر جو رکن میں واقع ہوا ہو چاہے ایک بار، چاہے ایک سے زائد بار یہ تغیر زحاف کہلاتا ہے۔


۲۵۔ مزاحف


وہ رکن جس پر زحاف لگنے سے تغیر آگیا ہو اسے مزاحف کہتے ہیں۔


اب تک کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ ہم آپ پر زیادہ بوجھ نہیں بنیں گے۔ بقیہ بات ان شا اللہ زحافات کے بارے میں اگلے سبق میں کرتے ہیں۔


مزمل شیخ

یہ بھی پڑھیں:   علمِ عروض سبق ۱۰

(298 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

7 تبصرے

  1. ماشاءاللہ بہت مفید معلومات پر مشتمل ہے یہ سبق۔
    مزمل بھائی جزاکم اللہ خیرا۔

  2. آن جناب کے حکم پر بندے نے سرسری سی متن خوانی کی ہے جو کہ پیش خدمت ہے۔

    املائی لحاظ سے اغلاط درجِ ذیل ہیں:
    دو لفظوں کو ملا کر لکھا گیا ہے جیسے: "انکا" ، "ہونگے" ، "اسکے"
    لفظ "بے چارا" درست "بے چارہ" ہے۔
    "سمجھ آئے" ، سمجھ آنا کے بجائے درست محاورہ "سمجھ میں آنا" ہے۔
    "مصرعے" یہ جمع ہے ، مفرد کے لیے متغیرہ صورت میں بھی صرف "مصرع" لکھا جاتا ہے۔ البتہ "مصرعہ" بھی مفرد کے لیے مستعمل ہے ، بعض لوگ اس کی متغیرہ صورت کے طور پر "مصرعے" مفرد متغیر کے لیے لکھتے ہیں ، مگر کتب املا میں اسے غلطی ہی قرار دیا گیا ہے ، واللہ اعلم۔ (تفصیل تو آپ ہی بہتر بتا سکتے ہیں)
    یہ لفظ آپ کی تحریر میں گیارہ بار استعمال ہوا ہے ، سب کو "مصرع" کردیا جائے تو بہت مناسب رہے گا۔
    لفظ "علحدہ" آپ نے لکھا ہے ، اس کی درست املا یا تو "علیحدہ" ہے یا "علی حدہ" ہے یا پھر "علاحدہ" ہے جو آج کل زیادہ مستعمل ہے۔
    مثمن مسدس مربع وغیرہ کی تعریفوں میں آپ نے لکھا ہے: "دونوں مصرعوں کی مکمل تعداد" ان تمام جگہوں پر یوں ہونا چاہیے: "دونوں مصرعوں کے ارکان کی مکمل تعداد"۔
    آخری سطر میں "انشااللہ" لکھا ہے ، اسے ہمیشہ "ان شاء اللہ" ہی لکھنا چاہیے۔

  3. بہت شکریہ آپ کی اتنی محنت سے پروف ریڈنگ کا۔ تدوین کردی گئی ہے۔
    جزاک اللہ خیراً

  4. Mureed Baqir says:

    جناب یهاں اسباق ختم هو گۓ هو گۓ هیں تو کسی نے بتایا کیوں نهیں که بس چھٹیاں کریں ... موج کریں .. 🙁

  5. السلام علیکم
    مزمل بھائی! ان تمام اسباق کا ایک مخصوص لنک درکار ہے۔

تبصرہ کریں