علمِ عَروض سبق ۱


“علمِ عروض کا مختصر ترین تعارف”

علم عَروض وہ علم ہے جس میں کسی شعر کا وزن معلوم کیا جاتا ہے یا کسی شعر کو وزن میں رکھنے میں رہنمائی لی جاتی ہے۔ مثلاً میں اگر شعر کہنا چاہوں تو مجھ پر فرض ہے کے میں دو مصرعوں کو کسی وزن کی قید میں رکھوں جس سے معلوم ہو سکے کہ در حقیقت یہ شعر ہی ہے کوئی نثر نہیں۔ 


اگر آپ نے شاعری کو کبھی ترنم میں پڑھنے کی کوشش کی ہو تو ضرور یہ بات بھی محسوس کی ہوگی کہ کوئی شعر کسی آہنگ میں ہوتا ہے اور دوسرا کسی دوسری آہنگ میں، آہنگوں کا فرق یعنی وزن کا فرق ہوتا ہے کہ ایک شعر کسی وزن کا ہے تو دوسرا کسی دوسرے وزن کا ۔ 
ان الگ الگ اوزان کو علم عروض میں ”بحر “ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جتنے بھی اشعار کہے جاتے ہیں کسی نہ کسی بحر میں ضرور ہوتے ہیں۔ اگر کوئی شعر بحر میں نہیں ہے تو وہ شعر نہیں رہتا بلکہ وہ ایک عام سا جملہ بن جاتا ہے۔ 
چناچہ غالب فرماتے ہیں:

جنوں کی دست گیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانی
گریباں چاک کا حق ہو گیا ہے میری گردن پر

چونکہ یہ ایک شعر ہے تو یقیناً علم عروض کی ایک بحر یا ایک آہنگ میں ہے۔ یہ ایک بہت ہی مقبول اور مستعمل وزن ہے۔ علمِ عروض میں وزن کو بتانے کے لئے ہمارے پاس چند الفاظ ہوا کرتے ہیں جنہیں ہم بحر کے ارکان یا افاعیل کہتے ہیں۔ اوپر والا شعر ”بحرِ ہزج“ میں ہے جس کا وزن:

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن

یعنی مُفَاعِیلُن کو چار بار روانی سے پڑھیں یا اوپر دیے گئے غالب کے شعر کا ایک مصرع پڑھیں دونوں کا وزن یا آہنگ ایک ہی ہے۔ 
اسی طرح علمِ عروض میں الگ الگ بحریں اور انکے الگ الگ اوزان ہوتے ہیں جنہیں ہم رفتہ رفتہ سمجھیں گے۔۔

(111 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

7 تبصرے

  1. میں نے یہ سبق پڑھ لیا ہے۔ اور ارادہ یہ ہے کہ سارے پڑھوں گا۔

  2. بھائی بلاگ پر خوش آمدید۔ آپ نے سبق پڑھا ہے۔ اور آگے بھی پڑھیں گے۔ کوئی خامی یا کمی بیشی نظر آئے تو ضرور مطلع فرمائیں۔ 🙂

  3. بسمل صاحب، یہ سبق تو پڑھا، سہل اور شگفتہ انداز میں بنیاد سمجھا دی آپ نے۔ شکریہ 🙂

  4. Khalil says:

    جزاک اللہ بسمل بھائی۔ بہت اچھا سلسلہ ہے۔

  5. میں نے بھی آج پہلا سبق پڑھا اور انشاءاللہ سب پڑھوں گا اور آپ نے سبق بھی اس انداز سے پیش کیا کہ کسی استاد کی ضرورت ہوتی ہی نہیں پڑی. لیکن استاد محترم تو پھر استاد ہی ہوتے ہیں..

  6. ahmed sahir says:

    اللہ اپکو بہترین جزائے خیر عطا فرمائے اک مدت سے میں انٹرنیٹ پر علم عروض کی تلاش میں تھا

تبصرہ کریں