علمِ عَروض سبق ۴


علم عروض میں اب تلک ہم نے ذیل میں درج چار چیزوں کو جانا:

1۔ بحر 

2۔ ارکان/ افاعیل/ تفاعیل

3۔ تقطیع

4۔ مرکب (ایک سے زائد ا رکان سے بنی) و مفرد (ایک رکن سے بنی) بحریں۔ 

یاد دہانی کے بعد یہ بتاؤں کہ فی الوقت ہمارا کام اول، دوم اور سوم کی مشق کرنا ہے تو آئیں آج بھی پہلے کی طرح ایک نیا آہنگ دیکھتے ہیں۔ اور ساتھ ہی اسکے بحر، ارکان اور تقطیع کو بھی سمجھتے ہیں۔


میر تقی میرؔ :

مدت ہوئی الفت گئی برسوں ہوئے طاقت گئی
دل مضطرب ایسا نہ تھا کیا جانیے اب کیا ہوا

یہ بھی ایک بہت ہی خوب آہنگ ہےچناچہ اہلِ ذوق جانتے ہیں۔
یہ آب تک کے بتائے گئے سبھی آہنگوں سے مختلف ہے اور اسکا وزن مُستَفعِلُن آٹھ مرتبہ ہے۔ یعنی چار مُستَفعِلُن پہلے مصرعے میں اور چار دوسرے میں گویا اس کی صورت ایسے ہوگی:

مُستَفعِلُن مُستَفعِلُن مُستَفعِلُن مُستَفعِلُن
مُستَفعِلُن مُستَفعِلُن مُستَفعِلُن مُستَفعِلُن

اب چار مُستَفعِلُن پڑھیں پھر شعر کا ایک مصرع دہرائیں اور اسی طرح دوسرا پڑھیں تو واضح ہو جائے گا۔
اب آٹھ ارکان کا ایک شعر میں ہونا کیا ثابت کر تا ہے؟؟ جی درست سمجھے۔ کہ یہ بحر ایک ”مثمن“ بحر ہے جس میں آٹھ ارکان ہوتے ہیں۔ 
ایک ہی رکن کی بار بار تکرار کا مطلب کیا ہوا؟ کہ یہ سالم بحر ہے۔ یعنی یہ مثمن سالم ہے۔ اب بحر کا نام بھی جان لیتے ہیں۔ یہ بحر ،”بحرِ رجز“ ہے اور پورا نام ہوا ”بحرِ رجز مثمن سالم“

اب شعر کی تقطیع کرتے ہیں:

مدت ہوئی الفت گئی برسوں ہوئے طاقت گئی

مد دت ہُ ای  1؎ ۔۔۔ مستفعلن
ال فت  گ ای ۔۔۔ مستفعلن
برسو  ہُ اے  ۔۔۔ مستفعلن
طا قت گ ای ۔۔۔ مستفعلن

1؎       ہ ای سے مراد ہُ ئی  ہے۔  ایسا الفاظ جیسے گئے، آئے، جائے، ڈھائے وغیرہ ان کو  ”ای“ یا ”اے“ کے وزن پر رکھا جاتا ہے۔  اسی لیے گئی کو” گ ای “ لکھا ہے۔
مدت میں دال پر تشدید کی وجہ سے دال کو دو مرتبہ گنا گیا۔ یعنی ”مد“ اور ”دت“

دل مضطرب ایسا نہ تھا کیا جانیے اب کیا ہوا
دل مضطرب۔۔۔ مستفعلن
ایسا نہ تھا ۔۔۔ مستفعلن
کیا جانیے۔۔۔ مستفعلن
اب کیا ہوا ۔۔۔مستفعلن

یہ بھی پڑھیں:   آگہی کا خلا اور خدا

آہنگ کو تو آپ نے یقیناً خوب سمجھ لیا ہوگا۔ انشاء کی مشہورِ زمانہ غزل اسی آہنگ میں ہے پہلے شعر کو خود تقطیع کریں:
کل چودھویں کی رات تھی، شب بھر رہا چرچا ترا
کچھ نہ کہا یہ چاند ہے، کچھ نے کہا چہرا ترا

تقطیع کرتے ہوئے دھیان میں رکھیں کہ دو چشمی ھ کا وزن، اور نون غنہ کا وزن شمار نہیں کیا جاتا۔
مزمل شیخ بسملؔ

یہ بھی پڑھیں:   مولانا صاحب اور غمِ روزگار

(93 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

3 تبصرے

  1. RIZWAN says:

    PRINT OPTION Q NHI HAI

    • مزمل شیخ بسمل says:

      پرنٹ آپشن موجود ہے۔
      جس مضمون کو پرنٹ کرنا ہو اس پر جا کر ctrl+p دبائیں۔
      اس کے بعد simplify page کو مارک کریں۔ پرنٹ آجائے گا۔

  2. RIZWAN says:

    thanks muzamail dear......its not easy reading from screen......thanks once again

تبصرہ کریں