علمِ عَروض سبق ۵



اب تک ہم نے چار سالم ”مفرد “ بحریں پڑھیں، انکا آہنگ سمجھا، ارکا ن کو بھی دیکھا اور تقطیع بھی کر لی۔ 
مفرد سے آپ کو پتا ہونا چاہئے کہ ایسی بحر مراد ہے جو صرف ایک ہی رکن سے بنی ہو۔ 
اور ایسی بحروں کے نام بھی عرض کر چکا ہوں۔ یاد دہانی کے لئے پھر لکھ دیتا ہوں۔ 
1۔ ہزج (مفاعیلن)
2۔ متقارب (فعولن)
3۔ متدارک (فاعلن)
4۔ رجز (مستفعلن)
5۔ رمل (فاعلاتن)
6۔ کامل (متفاعلن)
7۔ وافر (مفاعلتن)


یہ ساری بحریں مفرد ہیں اور ایک ہی رکن کی تکرار سے بنتی ہیں۔ 
یہاں ہم نے اب تک جو بحریں پڑھیں وہ ہزج، متقارب، متدارک اور رجز تھیں۔ یہ چار بحریں علم عروض میں نہایت مستعمل ہیں ۔ 
اب ہم آج بھی ہر مرتبہ کی طرح ایک نیا آہنگ دیکھتے ہیں
اقبالؔ کا ایک انتہا ئی خوبصورت شعر :

کبھی اے حقیقتِ منتظر، نظر آ لباسِ مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں 

اس شعر کا آہنگ یہ ہے:
مُتَفاعِلُن مُتَفاعِلُن مُتَفاعِلُن مُتَفاعِلُن 
مُتَفاعِلُن مُتَفاعِلُن مُتَفاعِلُن مُتَفاعِلُن 

تقطیع کرنے سے پہلے آج کچھ نئی باتیں بتادوں:

اکثر تقطیع میں ہم حروف علت یعنی ”الف “،”واؤ “اور ”ی“ کو جو لفظ کے آخر میں ہو شمار نہیں کرتے۔ اس کا تعلق آہنگ سے ہے ۔ یہ بات تو آپ جانتے ہی ہیں ھ اور نون غنہ کبھی شمار نہیں کیا جاتا۔ تو تقطیع میں اس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ مگر الف، واؤ اور ی جولفظ کے آخر میں ہو انکا شمار کبھی ہوتا بھی اور کبھی نہیں بھی ہوتا۔ اسی طرح ”آ“ کو ہم عام طور پر دو الف کے برابر مانتے ہیں مگر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ”آ“ سے پہل والا حرف حرف صحیح (یعنی الف واؤ اور ی کے علاوہ) ہو تو ہم ان دو الف میں سے ایک کو گرا کر دوسرے والے الف کو اپنے سے پہلے والے حرف میں میں ملا کر یکجان کر دیتے ہیں۔ مثلاً ”نکل آ“ کی پوری تقطیع تو ”نکل اا“ ہےمگر کبھی ضرورت کے تحت ”نِکَلا“ بھی تقطیع کرتے ہیں۔ جب آپ تقطیع کی مشق کرتے رہیں گے تو یہ باتیں انوکھی نہیں لگے گی۔ 

اب شعر کی تقطیع دیکھیں:

کبِ اے حقی۔۔۔ متفاعلن
قتِ من تظر۔۔۔ متفاعلن
۱؎ نظر ا لبا۔۔۔ متفاعلن
سِ مجا زمے۔۔۔ متفاعلن

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہ ہزا رُ سج۔۔۔ متفاعلن 
دِ تڑپ رہے۔۔۔ متفاعلن
ہ مری جبی۔۔۔ متفاعلن
نِ نیاز مے۔۔۔ متفاعلن

۱؎ ”نظر آ “ کو ”نظر اا “تقطیع کرتے تو مصرع ہرگز وزن میں نہ آتا۔ مگر ہم نے نَظَرَا پڑھا تو وزن اور آہنگ دونوں درست رہے۔ 


ارکان اور تقطیع کو تو ہم نے سمجھ لیا۔ اب ہم آتے ہیں بحر کے نام پر جو آپ کو پتا ہی ہونا چاہئے کہ یہ بحر سب سے پہلی بات مثمن ہے۔ کیونکہ اس میں ایک شعر میں آٹھ ارکان ہیں۔ 
سارے ارکان بنا کسی تبدیلی کے واقع ہوئے ہیں اس لئے سالم بحر ہے۔ نام اس کا بحرِ کامل ہے تو کل ملا کر بحر کا نام ہوا :
”بحرِ کامل مثمن سالم“

اب کسی سوال، کسی تردد یا اعتراض کی صورت میں آپ آزادی سے تبصرہ کرسکتے ہیں۔ 
مزید ایک شعر بھی تقطیع کریں:

نہ وہ عشق میں رہِیں گرمیاں، نہ وہ حسن میں رہِیں‌ شوخیاں
نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی، نہ وہ خَم ہے زلفِ ایاز میں 

خیال رکھیں کہ کہیں ی گرے گی اور کہیں شمار ہوگی۔ تقطیع کریں تاکہ پتا چلے کہ آپ کو کتنا سمجھ آچکا ہے۔ 
مزمل شیخ بسملؔ

(78 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

3 تبصرے

  1. Sarah Khan says:

    ایک سوال یہ ہے کہ کیا لفظ ”میں ” کی تقطیع کرتے ہوئے ”ی” گرایا جاسکتا ہے؟
    کیا ذیل کے مصرعے کی تقطیع درست ہے؟
    محفل میں سب پوچھا کیے مجھ سے میرا جو حال دل
    = محفل م سب پوچا کیے مج سے مرا جو حال دل
    =مستفعلن مستفعلن مستفعلن مستفعلن

    رہنمائی فرمائیں

  2. Sarah Khan says:

    ایک سوال یہ ہے کہ کیا لفظ ”میں ” کی تقطیع کرتے ہوئے ”ی” گرایا جاسکتا ہے؟
    کیا ذیل کے مصرعے کی تقطیع درست ہے؟
    محفل میں سب پوچھا کیے مجھ سے میرا جو حال دل
    = محفل م سب پوچا کیے مج سے مرا جو حال دل
    =مستفعلن مستفعلن مستفعلن مستفعلن

    رہنمائی فرمائیں

  3. جی بالکل کیا جاسکتا ہے۔
    اس کے علاوہ مصرع میں "میرا" کو یہاں مرا ہی لکھا جانا چاہیے کیونکہ اسے مرا ہی باندھا گیا ہے۔ املائی طور پر بھی جہاں مرا باندھا گیا ہے وہا مرا اور جہاں میرا باندھا گیا ہو وہاں میرا لکھیں۔ اسی پر قیاس کرکے تیرا اور ترا ہیں۔

تبصرہ کریں