علمِ عَروض سبق ۹

گزشتہ اسباق میں ہم نے اجزائے ارکان، افاعیل، چند بحور اور تھوڑا بہت زحافات کو دیکھا ہے۔ اس سبق میں جس موضوع پر ہم بات کرنے والے ہیں وہ ارکان کی ساخت پر ہے۔ یعنی ہم دیکھیں گے کہ مختلف ارکان کس طرح وجود میں آرہے ہیں اور اسی لحاظ سے پھر زحافات کے اطلاق کو بھی سمجھا جائے گا۔ اس سلسلے کا اب یہ وہ مرحلہ آگیا ہے جہاں آپ کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آپ علمِ عروض اور اسکے پس و پیش کو مکمل اور باضابطہ سیکھنا چاہتے ہیں یا پھر اٹکل بچو سے کام چلانا چاہتے ہیں۔ اگر آپ سیکھنا چاہتے ہیں تو ان اسباق کو بغور پڑھیں اور کسی بھی اشکال کی صورت میں تبصرہ خانے کا استعمال سیکھنے اور سکھانے کا بہترین ذریعہ ہے۔

جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ علمِ عروض کے بنیادی ارکان کی تعداد دس ہے۔ ان ارکان میں وقت اور محل اور اجزائے رکن کی مناسبت سے مختلف زحافات استعمال ہوتے ہیں۔ ہم ارکان اور اجزائے ارکان پر قدرے دقیق نظر ڈالتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔ 
دس بنیادی ارکان اس طرح ہیں:

۱) مفاعیلن
۲) فاعلاتن
۳) مستفعلن
۴) فعولن
۵) فاعلن
۶) متفاعلن
۷) مفاعلتن
۸) مفعولاتُ
۹) فاعِ لاتن
۱۰) مس تفعِ لن

یہ وہ بنیادی ارکان ہیں جن سے علمِ عروض کی تمام بحور مطلق وجود میں آتی ہیں۔ لیکن ایک قدم اور پیچھے چلیں تو علمِ عروض میں یہ جاننا چاہئے کہ جیسے ان ارکان سے مل کر بحریں وجود میں آتی ہیں اسی طرح کچھ اجزاء ہیں جن سے مل کر یہ تمام ارکان وجود میں آتے ہیں۔ یہ اجزائے ارکان اقسام کے اعتبار سے تین ہیں جو کہ اس طرح ہیں:

۱) سبب
سبب وہ لفظ یا لفظ کا حصہ ہے جو دو حروف پر مبنی ہو، یعنی ہر دوحرفی لفظ سبب کہلائے گا۔ 
اب سبب کی مزید دو اقسام ہیں۔
  • سبب خفیف
  • سبب ثقیل
سبب خفیف وہ سبب ہے جس میں دو حروف ہوں، اس میں پہلا متحرک اور دوسرا ساکن ہوتا ہے، اردو میں سبب خفیف کی مثالیں عام ہیں جیسے: تُم، ہَم، اب، جب، دو، دس، بس وغیرہ۔

سبب ثقیل وہ سبب ہے جس میں دو حروف ہوں، اس میں پہلا اور دوسرا دونوں متحرک ہوتے ہیں۔ اردو یا فارسی میں سبب ثقیل کی مثالی لفظی حیثیت میں نہیں ملتی، لیکن مرکبات میں مل سکتی ہیں۔ جیسے: فنِ شاعری میں ف اور نون دونوں متحرک ہیں۔ یا مہِ نخشب میں میم اور ہا متحرک ہیں۔ 

۲) وتد
وتد وہ لفظ یا لفظ کا حصہ ہے جو تین حروف پر مبنی ہو۔ یعنی ہر سہہ حرفی لفظ وتد کہلائے گا۔ 
اب وتد کی مزید تین اقسام ہیں۔
  • وتدِ مجموع
  • وتدِ مفروق
  • وتدِ موقوف
وتدِ مجموع وہ وتد ہے جس میں تین حروف ہوں، پہلا اور دوسرا متحرک اور تیسرا ساکن ہوتا ہے۔  اردو میں وتدِ مجموع کی مثالیں عام ہیں۔ جیسے: خَبَر، گُزَر، وَفَا، جَفَا، سَزَا وغیرہ۔

وتدِ مفروق وہ وتد ہے جس میں تین حروف ہوں، پہلا اور آخری متحرک اور درمیانی حرف ساکن ہو۔ ایسی کوئی مثال اردو میں میری نظر میں نہیں ہے، کیونکہ اردو میں لفظ متحرک پر ختم نہیں ہوتا اس لیے یہاں بھی مرکبات کا سہارا لیتے ہیں۔ جیسے: دورِ اخیر میں دال متحرک، واؤ ساکن اور ر متحرک ہے۔ یا حالِ تباہ میں ح متحرک، الف درمیانی ساکن اور لام متحرک ہے تو یہ وتدِ مفروق ہوگا۔

وتدِ موقوف وہ وتد ہے جس میں تین حروف ہوں، پہلا متحرک، دوسرا اور تیسرا ساکن ہو۔ اردو میں وتدِ موقوف کی بہت مثالیں ہیں۔ جیسے: عار، پار، دور، حال، سال وغیرہ۔

۳) فاصلہ
وہ لفظ یا لفظ کا حصہ جس میں چار یا پانچ حروف ہوں اور صرف آخری حرف ساکن ہو فاصلہ کہلاتا ہے۔ 
فاصلہ کی مزید دو اقسام ہیں۔
  • فاصلۂ صغرٰی
  • فاصلۂ کبرٰی
فاصلۂ صغرٰی وہ فاصلہ جس میں چار حروف ہوں، شروع کے تین حروف متحرک ہوں اور آخری ساکن ہو۔ اردو میں فاصلۂ صغرٰی بہترین مثال جو میرے نزدیک ہے وہ لفظ "غَلَطی" ہے۔ اس کے علاوہ عربی کے الفاظ جیسے: برکت، حرکت وغیرہ فاصلۂ صغرٰی ہیں۔ اسے آپ ایک سبب ثقیل اور ایک سبب خفیف کا اجتماع بھی کہہ سکتے ہیں۔ 

فاصلۂ کبرٰی وہ فاصلہ جس میں پانچ حروف ہوں، شروع کے چار متحرک ہوں اور آخری ساکن ہو۔ اردو میں فاصلۂ کبرٰی کی مثالیں لفظی حیثیت میں نہیں ملتی، لیکن عربی میں اس کی مثالیں عام ہیں، یا اردو اور فارسی کے مرکبات میں ایسی مثالیں مل سکتی ہیں۔ اسے آپ ایک سبب ثقیل اور ایک وتدِ مجموع کا اجتماع بھی کہہ سکتے ہیں۔ 

آج کے لیے یہاں تک اکتفا کرتے ہیں۔ اگلے سبق میں ہم ارکان پر ان اجزائے ارکان کی کارفرمائی کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ 
تب تک آپ کے لیے بہتر ہے کہ اجزائے ارکان میں سے سب کی چند مثالیں اکھٹی کریں اور انکی نشاندہی کریں کہ ہجا کی کونسی مثال اجزائے ارکان میں سے کیا بن رہی ہے۔ 

والسلام۔

مزمل شیخ بسملؔ

(114 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

3 تبصرے

  1. Mureed Baqir says:

    استاد محترم جناب " فاصله کا آخری حرف متحرک هوتا هے یا ساکن اپنی عبارت دوباره چیک کر لیں تا که نۓ بندے کو تو جدھر موڑ دیں وه ادھر هی چلا جاۓ گا ...
    اکثر بندے صرف کاپی کرنے په زور لگاتے هیں اور اپنا ذهن استعمال نهیں کرتے ... 🙁

  2. جی اب دیکھیے۔ تدوین کردی ہے۔
    بہت شکریہ۔
    آتے رہیے۔

  3. Mureed Baqir says:

    جی بهت شکریه ... سلامتی هو
    الله پاک علم و عمل میں برکت فرماۓ ...

تبصرہ کریں