علم میراث - تیسرا سبق

تمام اسباق کا لنک

گزشتہ دو اسباق کا خلاصہ:

پہلا سبق:
علم میراث کو احادیث مبارکہ میں نصف علم قرار دیا گیا ہے اور اسے سیکھنے سکھانے کی ترغیب دی گئی ہے۔دوسرا سبق:
ترکے کے بالترتیب چار مصارف ہیں: (1)تجہیز و تکفین (2)قرضے کی ادائیگی (3)وصیت کا نفاذ (4)میراث کی تقسیم۔ وصیت ثلث میں نافذ ہوتی ہے ، وارثوں کی آٹھ قسمیں ہیں جن میں سے فی زمانہ تین پائے جاتے ہیں:
(1)ذوی الفروض: جن کے حصے قرآن ، حدیث اور اجماع سے ثابت ہیں۔
(2)عصبات: جو ذوی الفروض سے بچنے والے تمام مال کے وارث ہوتے ہیں۔
(3)ذوی الارحام: جو ذوی الفروض اور عصبات میں سے نہ ہوں ، دور کے رشتے دار ہوں۔وارثوں کے حصوں کی تفصیل تو ہم ان شاء اللہ آئندہ اسباق میں پڑھیں گے ، اس سبق میں یہ بتایا جائے گا کہ ذوی الفروض ، عصبات اور ذوی الارحام سے کون کون سے رشتہ دار مراد ہیں اور ان کے اجمالی احکام کو ذکر کیا جائے گا۔

ذوی الفروض

ذوی الفروض یعنی وہ وارثین جن کے حصے قرآن و سنت میں متعین کرکے بتائے گئے ہیں کل 13ہیں:
ماں ، باپ ، خاوند ، بیوی ، دادا ، دادی ، نانی ، سگی بہن ، سوتیلی بہن ، ماں شریک بہن ، ماں شریک بھائی ، بیٹی ، پوتی
(آسانی کے لیے یوں بھی کہہ سکتے ہیں چار مرد اور نو عورتیں ہیں)

ذوی الفروض کا اجمالی حکم

ماں کو کبھی چھٹا حصہ ملتا ہے، کبھی تہائی۔
باپ کو چھٹا حصہ ملتا ہے۔ (یہ عصبہ بھی ہے)
خاوند کو کبھی نصف اور کبھی چوتھائی۔
بیوہ کو کبھی چوتھائی اور کبھی آٹھواں حصہ ملتا ہے۔
دادا،دادی اور نانی کو چھٹا حصہ ملتا ہے۔
سگی اور سوتیلی بہنوں کو کبھی نصف اور کبھی دو تہائی ملتا ہے۔
ماں شریک بھائی بہنوں کو کبھی چھٹا اور کبھی تہائی ملتا ہے۔
بیٹی اور پوتی کو کبھی نصف اور کبھی دو تہائی ملتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   حقیقت کیا ہے ؟

ان میں سے پانچ یعنی ماں ، باپ ، خاوند ، بیوہ اور بیٹی کبھی محروم نہیں ہوتے ، باقی کبھی محروم بھی ہوجاتے ہیں جیسے تمام بھائی بہن اس وقت محروم رہیں گے جب مرحوم کا بیٹا ، پوتا ، باپ یا دادا موجود ہو۔

عصبات

یعنی جو ذوی الفروض نہ ہونے کی صورت میں تمام مال کے وارث ہوتے ہیں اور ذوی الفروض کی موجودگی میں ان کے حصوں کی تقسیم کی بعد بقیہ تمام مال کے حق دار ہوتے ہیں ، یہ کل 14 ہیں:

میت کے فروع: (1) بیٹا ، (2) پوتا ، (3) پڑپوتا ، نیچے تک۔

میت کے اصول: (4) باپ ، (5) دادا ، (6) پردادا، اوپر تک۔

میت کے باپ کے فروع: (7) بھائی ، (8) بھتیجا ، (9) بھائی کا پوتا ، (10) بھائی کا پڑپوتا ، نیچے تک۔

میت کے دادا کے فروع: (11) چچااور تایا، (12) چچا اور تایا کا بیٹا، (13) چچا اور تایا کا پوتا، (14) چچا اور تایا کا پڑپوتا، نیچے تک۔

عصبات کا اجمالی حکم:

  • ان میں سے جو پہلے نمبر کا موجود ہوگا وہ ذوی الفروض سے بچنے والے تمام مال کا اکیلا وارث ہوگا ، بعد کے سب محروم ہوں گے۔
  • ہر نمبر کے عصبہ کے تحت اگر ایک ہی ہے تو وہ سارا مال لے گا اور اگر زیادہ ہیں ، مثلا تین بھائی ہیں تو ذوی الفروض کو دینے کے بعد جو مال بچ جائے اس کے تین حصے کیے جائیں گے اور ان تینوں کو برابر سرابر دیا جائے گا۔
  • عصبہ صرف مرد ہوتے ہیں ، البتہ بیٹے کے ساتھ بیٹی ہو تو وہ بھی عصبہ بن جائے گی ، اسی طرح پوتا پوتی کو عصبہ بنادیتا ہے ، پڑپوتا پڑپوتی کو ، بھائی بہن کو ، بھتیجا بھتیجی کو۔
  • جب کوئی مرد اپنی بہن کو عصبہ بناتا ہے تو سارا مال بھائیوں اور بہنوں میں اس طرح تقسیم کیا جاتا ہے کہ ہر بھائی کو دو بہنوں کے برابر ملتا ہے۔ مثلا مرحوم کا صرف ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے تو کل مال کے تین حصے کیے جائیں گے ، دو حصے بیٹے کے اور ایک حصہ بیٹی کا۔
یہ بھی پڑھیں:   غلامی، لونڈیاں اور اسلام

٭٭ تفصیل آئندہ اسباق میں آئے گی ان شاء اللہ۔

ذوی الارحام

اگر ذوی الفروض اور عصبات میں سے کوئی نہ ہو تو پھر میراث میت کے ان رشتہ داروں کو دی جاتی ہے جو ان دونوں کے علاوہ ہوں، انھیں ذوی الارحام کہتے ہیں ، ان کی میراث کے بارے میں دور صحابہ سے اختلاف چلا آرہا ہے ، فقہِ حنفی کے مطابق ذوی الفروض اور عصبات کی غیر موجودگی میں ذوی الارحام وارث بنتے ہیں ، ان کی چار قسمیں ہیں:

  1. میت کے فروع ، جیسے: نواسے اور نواسیاں وغیرہ
  2. میت کے اصول، جیسے: نانا، باپ کا نانا، ماں کا دادا اور نانا، ماں کی دادی وغیرہ
  3. باپ کے فروع، جیسے: بھانجے ، بھانجیاں، بھتیجیاں وغیرہ۔
  4. دادا ، دادی کے فروع، جیسے: پھوپھیاں، خالائیں، ماموں وغیرہ اور ان سب کی اولادیں۔

ذوی الارحام کا اجمالی حکم

عصبات کی طرح ان میں بھی ترتیب ملحوظ ہے، یعنی پہلی قسم کے ہوتے ہوئے بقیہ تینوں قسمیں محروم رہیں گی اور اگر پہلی قسم نہ ہو تو دوسری قسم وارث ، باقی دونوں محروم اور اگر دوسری قسم بھی نہ ہو تو تیسری قسم وارث اور چوتھی محروم اور اگر پہلی تینوں قسمیں نہ ہوں تب چوتھی قسم وارث ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:   گرمی دانے اور گھریلو ٹوٹکے

کام

(الف) درج ذیل مسائل کا شرعی حل بتائیے:

  1.  ایک شخص کا انتقال ہوگیا ، اس کے وارثین میں چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں اور کوئی وارث نہیں ہے۔
  2.  مرحوم کا کوئی وارث نہیں سوائے اس کے باپ کے۔
  3.  مرحوم کا صرف ایک ہی وارث ہے ، اس کی ماں۔
  4.  مرحوم کے صرف چار رشتہ دار موجود ہیں: باپ ، چچا ، چچا کا بیٹا اور دادا
  5.  مرحوم کے دو رشتے دار ہیں چچا اور پھوپھی
  6.  مرحوم کا صرف ایک ہی وارث ہے ، اس کی خالہ
  7.  مرحوم کے دو وارث ہیں ، ماموں اور ممانی
  8.  مرحوم کے تین لواحقین موجود ہیں ، بیٹا ، دادی اور خالہ
  9.  مرحوم کے تمام ترکے کی مالیت ایک لاکھ روپے ہے اور وارثین میں پانچ بیٹے اور دس بیٹیاں ہیں
  10.  ایک شخص کا انتقال ہوگیا ، اس نے اپنے ایک خالو کے لیے ایک لاکھ روپے کی وصیت کی تھی ، وارثین میں 6 خالائیں ہیں اور کوئی وارث نہیں ، جب کہ اس کے تمام ترکے کی کل مالیت 9 لاکھ روپے ہے۔

(ب) اس پورے سبق کا خلاصہ اپنے الفاظ اور الگ انداز میں پیش کیجیے۔

(311 مرتبہ دیکھا گیا)

محمد اسامہ سرسری

محمد اسامہ سرسری مستند عالِمِ دین اور فقہِ اسلامی کے متخصص ہیں۔ اسامہ صاحب دینی تعلیمات کے ساتھ ادبی اور فنی سرگرمیوں کا بھی فعال حصہ ہیں۔ انتہائی محنتی اور معاون طبیعت رکھتے ہیں اور متعدد کتب کے مصنف بھی ہیں ، کتاب "آؤ شاعری سیکھیں" ان کی اب تک کی شہ کار تصنیف ہے جسے اندرون و بیرون ملک ہر جگہ خوب پذیرائی ملی ہے۔ سوشل نیٹ ورک پر سینکڑوں لوگوں کو ادب اور شاعری کی فنیات آسان انداز میں سبقاً سبقاً سکھاتے ہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں