علم میراث - دوسرا سبق

تمام اسباق کا لنک

جب کوئی انسان اس دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے تو جس جائداد ، نقدی ، زیورات اور اشیاء کا وہ مالک تھا وہ سب "ترکہ" بن جاتا ہے ، البتہ حقوق میں سے بعض ترکے میں شامل ہوتے ہیں اور بعض شامل نہیں ہوتے ، جن کی تفصیل کتبِ فقہ میں دیکھی جاسکتی ہے۔

ترکے کے چار مصارف ہیں:

(1) تجہیز و تکفین (2) قرضے کی ادائیگی (3) وصیت کا نفاذ (4) میراث کا اجراء

مختصر وضاحت:

 (1) میت کے مال میں سے سب سے پہلے مرحوم کی تکفین و تدفین کے اخراجات پورے کیے جائیں۔

(2) پھر جو ترکہ بچ جائے اس سے مرحوم کے تمام قرضے ادا کیے جائیں۔

(3) پھر جو ترکہ بچ جائے اس کے ایک تہائی سے مرحوم کی وصیتوں کو پورا کیا جائے۔

(4) وصیت کو پورا کرلینے کے بعد اب جو "ترکہ" ہے وہ مرحوم کے وارثین میں حسبِ تشریحِ قرآن و سنت تقسیم کیا جائے گا۔

اب ان چاروں کو تفصیل سے سمجھتے ہیں:

(1) تجہیز و تکفین:

میت کو نہلانے ، کفنانے سے لے کر دفن کرنے تک کے تمام مراحل میں جتنے اخرجات ہوں گے وہ سب اسی کے مال میں سے ہوں گے ، مگر یہ سارے کام سیدھے سادے طریقے سے سنت اور شریعت کے موافق اور مرحوم کی حیثیت کے مطابق کرنے چاہییں۔

چند دیگر مسائل:

٭٭ تجہیز و تکفین میں اگر فضول خرچی کی گئی تو جو خرچ فضول ہوا ہے وہ خرچہ کرنے والے سے وصول کیا جائے گا نہ کہ ترکے سے ، کیونکہ یہ ترکہ قرض خواہوں کا یا پھر وارثوں کا حق ہے۔

٭٭ اگر کوئی شخص یہ اخراجات اپنے ذمہ لینا چاہے تو وارثین کی اجازت سے لے سکتا ہے اور وارثین اسے قبول نہ کرنے کا بھی پورا حق رکھتے ہیں۔

٭٭ اگر کسی درندے نے بعد میں قبر اکھیڑ کر کفن پھاڑ کر ضائع کردیا یا کسی کفن چور نے کفن چوری کرلیا تو دوبارہ تکفین و تدفین کا خرچہ بھی ترکے سے لیا جائے گا۔

٭٭ اگر کسی عورت کا انتقال ہوا اور اس کا شوہر موجود ہے تو مرحومہ کے کفن کا خرچہ اس پر واجب ہے ، ترکے میں سے نہ لیا جائے۔

٭٭ اگر کسی ایسے مفلس کا انتقال ہوا جس کے پاس کچھ تھا ہی نہیں کہ اس سے تجہیز و تکفین کی جائے تو وارثوں سے ان کے حصوں کے بقدر چندہ جمع کرکے یہ خرچہ کیا جائے گا ، یعنی اگر مال ہوتا اور وراثت تقسیم ہوتی تو جو زیادہ حصوں کا وارث بنتا وہ اس صورت میں زیادہ چندہ دے گا ، جو کم حصوں کا وارث بنتا وہ کم دے گا۔

٭٭ اگر مفلس مرحوم کا کوئی رشتہ دار ہی نہ ہو یا سب کے سب مفلس ہوں تو اگر اسلامی حکومت ہے تو بیت المال سے خرچہ کیا جائے گا اور اگر بیت المال نہ ہو جیسے آج کل بیت المال نہیں ہیں تو محلہ یا شہر کے ان لوگوں پر یہ خرچہ واجب ہوگا جن کو اس میت کے حال کی اطلاع ملی ، اگر خود خرچہ نہ کرسکیں تو ان پر واجب ہے کہ دوسرے مسلمانوں سے چندہ مانگ کر یہ خرچہ کریں ، پھر ضروری خرچے کے بعد جو بچ جائے شرعا اسے واپس کرنا واجب ہے۔

(2) قرضوں کی ادائیگی:

جس طرح عام زندگی میں بدن کا لباس قرضے پر مقدم ہے ، اسی طرح مرنے کے بعد بھی کسی قرض خواہ کو یہ حق نہیں ہے کہ میت کی تجہیز و تکفین سے پہلے اپنے قرض کا مطالبہ کرے۔

یہ بھی پڑھیں:   شعر میں جمالیاتی پہلو - ایک شعر پر تبصرہ

تجہیز و تکفین کے بعد جو مال بچا ہے وہ قرض خواہون میں تقسیم کیا جائے گا ، چاہے قرضے ادا کرنے میں سارا مال ختم ہوجائے۔

چند دیگر مسائل:

٭٭ علم میراث میں جو یہ کہا جاتا ہے کہ وصیت سے پہلے مرحوم کے قرضے ادا کیے جائیں تو ان قرضوں سے مراد حقوق العباد ہیں ، باقی میت کی نمازوں ، روزوں کا فدیہ ، واجب الادا زکوٰۃ ، حج ، کفارے ، منتیں ، ان سب کا تعلق وصیت کے ساتھ ہے ، اگر مرحوم نے ان کی وصیت کی ہو تو ثلث سے ادا کرنا ضروری ہے اور بقیہ دو ثلث سے بالغ وارثوں کی رضامندی سے ان کے حصوں کے بقدر ادا کیا جاسکتا ہے اور اگر وصیت نہ کی ہو تو وارثوں پر میت کی طرف سے ان چیزوں کا ادا کرنا ضروری نہیں ہے ، البتہ اگر بالغ وارثین اپنی خوشی سے ادا کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں ، اس سے جہاں مرحوم کے لیے قبر میں آسانی والا معاملہ ہوجانے کی امید ہے  وہاں ان وارثوں کے لیے بھی ذخیرۂ آخرت ہوگا۔

٭٭ اگر ایک سے زیادہ قرض خواہ ہوں اور ترکہ قرضے سے کم ہو تو سب کو ان کے حصے کے بقدر ادا کیا جائے گا ، مثلا سب کا قرضہ کل ملا کر دس ہزار روپے ہے اور میت کی تجہیز و تکفین کے بعد صرف پانچ ہزار روپے بچے ہیں تو ہر قرض خواہ کو اس کے قرضے میں سے نصف ادا کیا جائے گا۔

(وضاحت: قرض کے احکام میں "مرض الموت" کی بہت اہمیت ہے ، یعنی جس بیماری میں مرحوم کا انتقال ہوا اس میں کسی کے لیے اس نے قرضے کا اقرار کیا ہے تو اس کے احکام الگ ہیں ، جن کی تفصیل ان شاء اللہ پھر کبھی الگ سے پیش کی جائے گی۔)

 (3) وصیت:

ابتدائے اسلام میں وصیت فرض تھی ، یعنی ہر شخص پر لازم تھا کہ وہ مرنے سے پہلے پہلے اپنے والدین اور دیگر رشتہ داروں کے لیے اپنے مال میں سے کچھ حصے مقرر کردے ، مگر بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا اور قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں وارثوں کے حصے تفصیل کے ساتھ بیان فرمادیے گئے ، تاہم ایک تہائی میں سے وصیت کا اختیار اب بھی باقی ہے ، ایک تہائی سے زیادہ وصیت کرنا مناسب نہیں ہے ، اگر کسی نے کردی ہو تو وارثوں پر صرف تہائی میں سے وصیت پوری کرنا ضروری ہے ، اس سے زیادہ میں اگر بالغ وارثین چاہیں تو اپنے حصے کے بقدر وصیت کو نافذ کرسکتے ہیں۔

چند دیگر مسائل:

٭٭ مرنے والے نے کسی کا قرض معاف کردیا یا کوئی خاص چیز کسی کے لیے مقرر کردی یا اس طرح کی کوئی بات کہی: "میرے مرنے کے بعد مسجد بنوا دینا" ، "میرے مرنے کے بعد کنوان کھدوا دینا" ، "مدرسہ یا خانقاہ میں میں اتنی رقم دے دینا" ، "فقراء و مساکین میں کھانا یا کپڑے تقسیم کردینا" ، "میری قضا نمازوں اور روزوں کا فدیہ دے دینا" ، "میری زکوۃ ادا کردینا" ، "میری طرف سے حج کروادینا" تو یہ اور اس جیسی سب صورتیں وصیت کہلاتی ہیں جسے ایک تہائی ترکے میں سے نافذ کرنا وارثوں کی ذمہ داری ہے۔

٭٭ ایسی وصیت کرنا گناہ ہے جس سے وارثوں کو تکلیف پہنچے جیسے ایک تہائی سے زیادہ وصیت کرنا یا نقصان پہنچانے کی غرض سے ایک تہائی کی وصیت یا کسی قرضے کا اقرار یا کسی قیمتی چیز کو سستے داموں فروخت کردینا ۔

یہ بھی پڑھیں:   عقائد اور پاکستانی ریاست کے حدودکار

٭٭ وصیت کرنے والے کو بعد میں اپنی وصیت سے رجوع کرنے کا بھی حق  ہے ، چاہے زبان سے کہہ دے کہ میں اس وصیت سے رجوع کرتا ہوں یا عملا کرے جیسے ایک زمین کسی کو وصیت میں دی پھر اس پر اپنا مکان بنالیا تو اسے رجوع سمجھا جائے گا۔

٭٭ وصیت کرنے والا یہ بھی کرسکتا ہے کہ تجہیز و تکفین ، قرضوں کی ادائیگی اور وصیت کے نفاذ میں سے کچھ یا سب کسی کے ذمے لگا دے ، اب اگر وہ شخص اس ذمہ داری کو قبول کرلے تو وہ "وصی" بن جائے ، اب اس کی موت کے بعد سونپے گئے تمام کام پوری دیانت داری سے کرنا اس کے لیے ضروری ہے ، البتہ اگر مرحوم کے انتقال سے پہلے پہلے وصی اگر چاہے تو ان ذمہ داریوں کو قبول کرنے سے انکار کرسکتا ہے ، لیکن موت کے بعد نہیں ، اب ان تمام ذمہ داریوں کو پورا کرنا ضروری ہے اور اگر ان مصروفیات میں وصی کا اپنا معاش متاثر ہو رہا ہو تو بقدر ضرورت اپنے اخراجات اور ضروریات کے لیے وصیت کرنے والے کے مال میں سے لے لینا بھی جائز ہے۔

٭٭وصیت کے لیے درج ذیل شرائط کا پایا جانا ضروری ہے:

  • وصیت کرنے والا پاگل ، نابالغ یا غلام نہ ہو۔
  • مال اتنا کم نہ ہو کہ قرضوں کی ادائیگی کے بعد وصیت کے لیے کچھ نہ بچے ، ورنہ وصیت باطل اور بے کار ہوجائے گی۔
  • جس کے لیے وصیت کی گئی ہے وہ بوقت وصیت بھی زندہ ہو اور وصیت کرنے والے کی موت کے وقت بھی زندہ ہو۔
  • جس کے لیے وصیت کی ہے وہ لینے اور قبول کرنے کے قابل ہو ، لہذا اگر کہا کہ میرے مال میں سے اتنی رقم فلاں مسجد کو دے دینا تو یہ وصیت معتبر نہیں ہوگی ، البتہ اگر وصی سے کہہ دے کہ آپ میرے مرنے کے بعد اتنی رقم فلاں مسجد پر خرچ کردینا تو یہ ٹھیک ہے۔
  • جس چیز کی وصیت کی ہے وہ قابل تملیک شے ہو ، لہذا اگر وصیت کی کہ مجھے زید پر ہتکِ عزت کا مقدمہ کرنے کا جو حق حاصل ہے وہ میرے مرنے کے بعد عمر کو دے دیا جائے تو یہ وصیت غیر معتبر ہے یا اگر یوں کہا کہ چھ مہینے بعد میری بکریوں کے جتنے بچے پیدا ہوں گے وہ فلاں شخص کو دے دینا تب بھی وصیت غیر معتبر ہے۔
  • جس کے لیے وصیت کی ہے وہ وصیت کرنے والے کی وفات کے وقت اس کا وارث نہ ہو۔ اور اگر وارث ہے تو وصیت معتبر نہیں ہوگی ، الا کہ یہ بقیہ تمام وارثین بالغ ہوں اور بخوشی اجازت دے دیں یا اس کے علاوہ کوئی اور وارث ہی نہ ہو۔
  • وصیت ایک تہائی مال کے اندر اندر کی جائے ، اگر زیادہ کی وصیت کی تو وصیت بے کار ہے الا یہ کہ بالغ وارثین اپنی خوشی سے اسے اپنے حصے کے بقدر نافذ کردیں۔

 (4)  تقسیم وراثت:

تجہیز و تکفین ، ادئے قرض اور وصیت نافذ کر لینے کے بعد جو کچھ ترکہ بچ جائے تو اسے شریعت کے اصولوں کے مطابق میت کے وارثوں میں تقسیم کیا جائے گا اور اگر کچھ نہ بچے تو کسی کو کچھ نہیں ملے۔

وارثوں کی آٹھ قسمیں:

یہ بھی پڑھیں:   73 فرقے اور رسو لﷺ : ایک دوسرا رخ

میت کے مال کے حقداروں کی بالترتیب آٹھ قسمیں ہیں: (1)ذوی الفروض (2)عصبات (3)مولی العتاقۃ (4)ذوی الارحام (5)مولی الموالاۃ (6)مقرلہ بالنسب علی الغیر (7)موصٰی لہ بجمیع المال (8)بیت المال

تفصیل:

1)  ذوی الفروض: قرآن اور حدیث نے جن وارثوں کے حصے متعین کیے ہیں ان کو ذوی الفروض کہتے ہیں ، جیسے ایک بیٹی کا نصف ، ایک سے زیادہ بیٹیوں کا دو تہائی ، والدین میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ، شوہر کا نصف یا چوتھائی ، بیوہ کا چوتھائی یا آٹھواں حصہ۔

2)  عصبۂ نسبی: ذوی الفروض سے جو مال بچ جائے وہ عصبات میں سے سب سے قریبی کو ملتا ہے ، وہ نہ ہو تو اس کے بعد والے کو ، جس کی ترتیب یہ ہے: بیٹا ، پوتا ، پڑپوتا ، باپ ، دادا ، پردادا ، بھائی ، بھتیجا ، بھائی کا پوتا ، بھائی کا پڑپوتا ، چچا ، چچازاد بھائی ، چچا کا پوتا ، چچا کا پڑپوتا ، یعنی بیٹے کی موجودگی میں کوئی اور عصبہ نہیں بنے گا ، اگر بیٹا نہ ہو تو پوتا ہی عصبہ ہوگا ، اگر وہ بھی نہ ہو تو پڑپوتا ، اگر نرینہ اولاد میں سے کوئی نہ ہو تو باپ ہی عصبہ ہوگا ، ورنہ دادا ، علی ھٰذا القیاس۔

اور اگر عصبہ نہ ہو تو بقیہ مال بھی زوجین کے علاوہ ذوی الفروض کو ان کے حصوں کے بقدر دے دیا جائے گا (علم میراث کی اصطلاح میں اسے "رد" کہتے ہیں۔)

3)  ذوی الارحام: اگر ذوی الفروض اور عصبہ دونوں نہ ہوں تو پھر ترکہ ذوی الارحام کے درمیان تقسیم ہوتا ہے ، ذوی الارحام میت کے وہ رشتہ دار ہوتے ہیں جن کا حصہ شریعت میں مقرر نہیں ہوتا ، جیسے پھوپھی ، خالہ وغیرہ۔

4،5،6)  اگر ذوی الفروض ، عصبات اور ذوی الارحام میں سے کوئی نہ ہو تو تین وارث اور ہیں ، مگر وہ آج کل ناپید ہیں ، ان کے صرف ناموں پر اکتفا کیا جاتا ہے: (1) مولی العتاقۃ ، (2)مولی الموالاۃ ، (3)مقر لہ بالنسب علی الغیر، ان تینوں کو "عصباتِ سببیہ" کہتے ہیں۔

7) گزشتہ چھ اقسام کے نہ ہونے کی صورت میں ترکے کا سارا مال اسے دیا جائے گا جس کے حق میں مرحوم نے اپنے تمام مال کی وصیت کر رکھی تھی ، اسے "موصٰی لہ بجمیع المال" کہتے ہیں۔

8) اگر مذکورہ بالا سات اقسام میں سے کوئی بھی نہ ہو تو ترکے کا تمام مال بیت المال میں دینا واجب ہے ، مگر آج کل چونکہ بیت المال نہیں ہے اس لیے فقراء و مساکین میں اس مال کو تقسیم کردیا جائے اور اگر میت کا کوئی ایسا رشتہ دار ہو جو شرعی لحاظ سے وارث نہیں ، مگر غریب اور نادار ہے جیسے رضاعی رشتے دار یا سوتیلی اولاد تو انھیں دے دینا زیادہ بہتر ہے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

حوالہ جات: سراجی ، رد المحتار ، ، اردو فتاوی ، مفید الوارثین۔

پہلا سبق

تمام اسباق

(262 مرتبہ دیکھا گیا)

محمد اسامہ سرسری

محمد اسامہ سرسری مستند عالِمِ دین اور فقہِ اسلامی کے متخصص ہیں۔ اسامہ صاحب دینی تعلیمات کے ساتھ ادبی اور فنی سرگرمیوں کا بھی فعال حصہ ہیں۔ انتہائی محنتی اور معاون طبیعت رکھتے ہیں اور متعدد کتب کے مصنف بھی ہیں ، کتاب "آؤ شاعری سیکھیں" ان کی اب تک کی شہ کار تصنیف ہے جسے اندرون و بیرون ملک ہر جگہ خوب پذیرائی ملی ہے۔ سوشل نیٹ ورک پر سینکڑوں لوگوں کو ادب اور شاعری کی فنیات آسان انداز میں سبقاً سبقاً سکھاتے ہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

4 تبصرے

  1. السلام علیکم۔۔
    بہت معلوماتی ہے ماشااللہ۔۔ سبق 1 کا لنک مجھے بھیج سکتے ہیں پلیززز

  1. December 5, 2015

    […] دوسرا سبق […]

تبصرہ کریں