علم میراث - پہلا سبق

تمام اسباق کا لنک

علم میراث کے فضائل اور اہمیت

آیاتِ قرآنیہ:

(1) {لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا (7) وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُمْ مِنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُوفًا} [النساء: 7، 8]

ترجمہ: "مردوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور قریب ترین رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور قریب ترین رشتہ داروں نے چھوڑا ہو ، چاہے وہ تھوڑا ہو یا زیادہ ، یہ حصہ مقرر ہے۔"

تشریح: جاہلیت کے زمانے میں عورتوں کو میراث میں کوئی حصہ نہیں دیا جاتا تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بعض ایسے واقعات پیش آئے ۔ ۔ ۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں واضح کردیا گیا کہ عورتوں کو میراث سے محروم نہیں رکھا جاسکتا۔ (از آسان ترجمہ قرآن)

(2) {فَرِيْضَةً مِّنَ اللهِ إِنَّ اللهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا} [النساء: 11]

ترجمہ: "یہ تو اللہ کے مقرر کیے ہوئے حصے ہیں ، یقین رکھو کہ اللہ علم کا بھی مالک ہے ، حکمت کا بھی مالک۔"

تشریح: یہ تنبیہ اس بنا پر فرمائی گئی ہے کہ کوئی شخص یہ سوچ سکتا تھا کہ فلاں وارث کو زیادہ حصہ ملتا تو اچھا ہوتا ، یا فلاں کو کم ملنا مناسب تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمادیا کہ تمھیں مصلحت کا ٹھیک ٹھیک علم نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کا جو حصہ مقرر فرمادیا ہے ، وہی مناسب ہے۔ (از آسان ترجمہ قرآن)

ارشاداتِ نبویہ: (صلی اللہ علیہ وسلم)

(1) عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہ (صلى الله عليه وسلم) "يَا أَبَا هُرَيْرَةَ تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَعَلِّمُوهَا فَإِنَّهُ نِصْفُ الْعِلْمِ وَهُوَ يُنْسٰی وَهُوَ أَوَّلُ شَىْءٍ يُنْزَعُ مِنْ أُمَّتِى"
(ابن ماجه ، کتاب الفرائض ، باب الحث علی تعلیم الفرائض ، الرقم: ۲۷۱۹)

ترجمہ: "اے ابوہریرہ! تم میراث سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ کہ یہ آدھا علم ہے ، یہ بھلا دیا جائے گا اور میری امت سے یہی (علم) سب سے پہلے نکال دیا جائے گا۔"

یہ بھی پڑھیں:   مبالغہ آرائی کی حد بندی

(2) قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ قَالَ لِى رَسُولُ اللہ (صلى الله عليه وسلم): "تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ ، تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ ، تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ ، فَإِنِّى امْرُؤٌ مَقْبُوضٌ ، وَالْعِلْمُ سَيُنْتَقَصُ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ حَتَّى يَخْتَلِفَ اثْنَانِ فِى فَرِيضَةٍ لاَ يَجِدَانِ أَحَداً يَفْصِلُ بَيْنَهُمَا۔"
(سنن الدارمی ، کتاب المقدمة ، باب الاقتداء بالعلماء ، الرقم: ۲۲۷)

ترجمہ: "حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "تم علم سیکھو اور لوگوں کو بھی علم سکھاؤ ، تم علم میراث سیکھو اور لوگوں کو بھی یہ علم سیکھاؤ ، تم قرآن سیکھو اور لوگوں کو بھی قرآن سکھاؤ ، کیونکہ میں وفات پانے والا ہوں اور بلاشبہ عنقریب علم گھٹا دیا جائے گا اور فتنے ظاہر ہوں گے ، یہاں تک کہ دو آدمی حصۂ میراث کے بارے میں باہم اختلاف کریں گے اور کوئی ایسا شخص نہیں پائیں گے جو ان کے درمیان فیصلہ کرسکے۔"

(3) (قَالَ رَسُولُ اللہ صلى الله عليه وسلم:) "وَأَعْلَمُهَا بِالْفَرَائِضِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ"
(مسند أحمد ، مسند انس بن مالك ، ۱۳۲۴۲)

ترجمہ: "میری امت میں علم میراث کے سب سے زیادہ ماہر زید بن ثابت (رضی اللہ عنہ) ہیں۔"

(4) قَالَ رَسُولُ اللهِ (صلى الله عليه وسلم): "اقْسِمُوا الْمَالَ بَيْنَ أَهْلِ الْفَرَائِضِ عَلٰی كِتَابِ اللہ"
(صحیح مسلم ، کتاب الفرائض ، باب ألحقوا الفرائض ۔ ۔ ۔ الرقم:۴۲۲۸)

ترجمہ: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:مال کو حصے داروں کے درمیان کتاب اللہ کے مطابق تقسیم کرو۔"

(5) وَإِنَّ مَثَلَ العَالِم الذي لا يعْلَمُ الفرائضَ كَمَثَلِ البُرْنُسِ لا رأسَ لهُ
(جامع الأصول من أحاديث الرسول ، کتاب الطیرة ۔ ۔ ۔ الرقم: ۵۸۲۹)

ترجمہ: (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:) "وہ عالم جو فرائض (میراث) نہ جانتا ہو وہ اس ٹوپی کی طرح ہے جس کے لیے کوئی سر نہ ہو"

یہ بھی پڑھیں:   درد ختم کرنے والی دوائیں اور ان کے اثرات

(6) قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیه وسلم: "مَنْ قَطَعَ مِیْرَاثًا فَرَضَهُ اللهُ قَطَعَ اللهُ بَهٖ مِیْرَاثًا مِّنَ الْجَنَّةِ۔"
(شعب الإیمان للبیهقی ، السادس والخمسون من شعب الإیمان ، الرقم:۷۷۳۳)

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "جس شخص نے کسی ایسی میراث کو روکے رکھا جو اللہ نے مقرر کی ہے ، اللہ تعالیٰ جنت میں اس کے حصے کو روک دیں گے۔"

اقوالِ صحابہ: (رضی اللہ عنہم اجمعین)

(1) قَالَ اَبُوْ مُوْسٰی (رَضِیَ اللهُ عَنْہُ): "مَنْ عَلِمَ الْقُرْاٰنَ وَلَمْ یَعْلَمِ الْفَرَائِضَ فَإِنَّ مَثَلُهٗ مَثَلُ الرَّأْسِ لَا وَجْهَ لَهٗ"
(سنن الدارمی ، کتاب الفرائض ، باب فی تعلیم الفرائض ، الرقم: ۲۸۵۴)

ترجمہ: حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "جس شخص نے قرآن کریم سیکھا ، مگر علم علم میراث حاصل نہ کیا ، اس کی مثال ایسے سر کی سی ہے جس کا چہرہ نہ ہو۔"

(2) قَالَ عُمَرُ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ : تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ فَإِنَّهَا مِنْ دِينِكُمْ.
(سنن البیهقی ، کتاب الفرائض ، باب الحث علی تعلیم الفرائض ، الرقم:۱۲۵۳۹)

ترجمہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "علم میراث سیکھو ، یہ تمھارے دین ہی کا ایک حصہ ہے۔"

(3) كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلٰی أَبِیْ مُوْسٰی الْأَشْعَرِیِّ: "إِذَا لَهَوْتُمْ فَالْهُوا بِالرَّمْىِ وَإِذَا تَحَدَّثْتُمْ فَتَحَدَّثُوا بِالْفَرَائِضِ۔"
(المستدرك علی الصحیحین للحاكم ، کتاب الفرائض ، الرقم:۸۰۷۱)

ترجمہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو خط میں لکھا: "جب تم کھیلنا چاہو تو تیر اندازی سے شغل کر لیا کرو اور جب باتیں کرنا چاہو تو علم میراث کی باتیں کیا کرو۔"

(4) قال عقبة بن عامر: "تعلموا قبل الظانين" ، يعني الذين يتكلمون بالظن۔
(صحیح البخاری ، کتاب الفرائض ، باب تعلیم الفرائض ، قبل الرقم: ۶۳۴۵)

ترجمہ: حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "علم حاصل کرلو ، اس سے پہلے کہ لوگ اپنے اندازے سے مسائل بتانے لگ جائیں"

اقوالِ سلف: (رحمہ اللہ تعالیٰ)

علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: والثالث إما اختياري وهو الوصية أو اضطراري وهو الميراث وسمي فرائض لأن الله تعالى قسمه بنفسه وأوضحه وضوح النهار بشمسه ولذا سماه صلى الله عليه وسلم نصف العلم لثبوته بالنص لا غير . وأما غيره فبالنص تارة وبالقياس أخرى وقيل لتعلقه بالموت وغيره بالحياة أو بالضروري وغيره بالاختياري۔
(رد المحتار ، کتاب الفرائض)

یہ بھی پڑھیں:   اسلام میں اشیا اور امور کی حلت و حرمت کے اصول

ترجمہ: اور تیسری قسم (یعنی وہ حق جو میت کے ذمہ ہوتا ہے) یا تو اختیاری ہوتا ہے اور یہ وصیت ہے یا پھر اضطراری ہوتا ہے ، اور یہ میراث ہے ، میراث کا نام "فرائض" (حصے) اس لیے رکھا کہ اللہ تعالیٰ نے خود (قرآن کریم میں) میراث کی تقسیم کو بیان فرمایا ہے اور ان حصوں کو ایسے واضح انداز میں ذکر فرمایا ہے جیسے سورج کی وجہ سے دن روشن ہوتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس علم کو "نصف علم" قرار دیا ہے کیونکہ یہ علم نص (قرآن و سنت) ہی سے ثابت ہوتا ہے ، جبکہ دیگر احکام کچھ نص سے ثابت ہوتے ہیں اور کچھ قیاس سے ، نیز اسے نصف علم کہنے کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ اس کا تعلق موت کے ساتھ ہے اور دیگر علوم کا تعلق حیات کے ساتھ ، ایک تیسری وجہ یہ بھی ذکر کی گئی ہے کہ علم میراث کے ذریعے ملنے والے حصوں کا تعلق انسانی اختیار سے ہٹ کر ہے ، جبکہ دیگر نفقات میں انسان کو قبول کرنے نہ کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔

دوسرا سبق

تمام اسباق

(345 مرتبہ دیکھا گیا)

محمد اسامہ سرسری

محمد اسامہ سرسری مستند عالِمِ دین اور فقہِ اسلامی کے متخصص ہیں۔ اسامہ صاحب دینی تعلیمات کے ساتھ ادبی اور فنی سرگرمیوں کا بھی فعال حصہ ہیں۔ انتہائی محنتی اور معاون طبیعت رکھتے ہیں اور متعدد کتب کے مصنف بھی ہیں ، کتاب "آؤ شاعری سیکھیں" ان کی اب تک کی شہ کار تصنیف ہے جسے اندرون و بیرون ملک ہر جگہ خوب پذیرائی ملی ہے۔ سوشل نیٹ ورک پر سینکڑوں لوگوں کو ادب اور شاعری کی فنیات آسان انداز میں سبقاً سبقاً سکھاتے ہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

1 تبصرہ

  1. December 5, 2015

    […] پہلا سبق […]

تبصرہ کریں