عورت - ظالم بھی مظلوم بھی (چوتھی قسط)

اکثر خواتین اپنا رعب وہاں جماتی ہیں جہاں انہیں شرافت کا سامنا ہوتا ہے۔

شوھر، بھائی، باپ اگر شریف اور نرم مزاج کے مالک ہیں تو عورت ہٹ دھرمی پر اتر آتی ہے۔ کیونکہ وہ یہ گمان کرتی ہے کہ میں انہیں دبا لونگی۔ عورت کے اس عمل کے سنگین نتائج کیا ہیں ان سے وہ بے خبر ہوتی ہے۔

اللہ نے مرد کا مقام عورت سے بلند کر دیا (الرِّجَالُ قوّامونَ علی النّساء) کہ کر۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ مرد حضرات اس آیت کو مثال بنا کر خود کو حاکم سمجھ بیٹھتے ہیں۔
"ان سے میری عرض ہے کہ جناب قوّامون فرمایا اللہ نے۔ نا کہ ظالمون۔

عورت کمزور ہے اس میں کوئی شک نہیں۔ ہر روپ میں عورت کا مقام الگ حیثیت رکھتا ہے۔ مگر مرتبہ مرد کا اونچا ہے۔ اس بات سے اتفاق رکھنا انتہائی ضروری ہے۔

میاں بیوی کا تعلق ایسا ہے جیسے باغ و مالی کا۔ باغ نا ہو تو مالی کسی کام کا نہیں اور مالی نا ہو تو باغ۔

ازدواجی تعلق میں دو چیزیں ہیں جن سے زندگی خوشگوار گزر سکتی ہے۔
ایک ہے ضابطہ اور دوسرا رابطہ۔
اسلام نے جو بیوی پر شوھر کے
حقوق رکھے وہ ضابطہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   دعا سیریز 4: (مختصر درود و سلام)

مثلاََ بیوی پر شوھر کے کپڑے دھونا اسکا کھانا پکانا وغیرہ یہ سب واجب نہیں۔
لیکن اگر صرف اس ضابطے پر بیوی عمل کر بیٹھی تو پھر گھر ہی بیٹھی رہ جائے گی۔

اور رابطہ یہ ہے کہ دکھ سکھ، اونچ نیچ، غم خوشی، ہر حال میں بیوی ساتھ رہے۔

صرف رابطہ بھی کافی نہیں اور صرف ظابطہ بھی...دونوں پر دونوں کا عمل ضروری ہے۔

بے جا شاپنگ کی فرمائش، فضول خرچی، باہر گھومنے کا شوق، وغیرہ۔ یہ ایسے اعمال ہیں جو آہستہ آہستہ آگے جا کر تعلق میں زہر کی مانند اثر کرتے ہیں۔

مرد چاہے بھائی ہو یا باپ یا شوہر، کبھی نہیں چاہتا کے گھریلو معاملات بگڑیں۔ بعض اوقات یہ بگڑاؤ عورت کی جانب سے پیدا ہوتا ہے۔ اور جب ناچاقیاں بڑھتی ہیں تو سارہ گند مرد پر آگرتا ہے، جسے وہ برداشت نا کرتے ہوئے کوئی غلط فیصلہ کر بیٹھتا ہے۔

عورت گھر ہو تو باپ اور بھائی اور شادی کے بعد شوھر یا بچے۔ اسکے علاوہ عورت ذات کا دنیا میں کچھ بھی نہیں۔ اگر عورت انہیں رشتوں کو سنوار لے تو عورت کو دنیا کی کسی چیز کی ضروت ہی نا پڑے۔

یہ بھی پڑھیں:   سائنس اور مذہب کا تصادم

شادی سے پہلے اور شادی کے بعد کے تمام رشتے عورت کے لئے ایک الجھن نما ہیں۔ جنہیں ایک مخصوص طریقے سے سلجھانا ہے۔ اگر سلجھا دیے تو دنیا جنت لگے اور اگر کوتاہی کر بیٹھی تو جھنم۔
اور یہی کچھ معاملہ مرد کے ساتھ بھی ہے۔

مختصر یہ کہ مرد عورت کے بغیر نامکمل اور عورت مرد کے بغیر۔

مرد و عورت ایک دوسرے کے لباس کی مانند ہیں۔ ایک دوسرے پر حقوق کے ساتھ ساتھ فرائض بھی ہیں…حقوق و فرائض دونوں کی رعایت کرتے ہوئے سفرِ حیات بخوشی مکمل ہو سکتا ہے۔

ایک بات میں نے اکثر محسوس کی ہے کہ عورت اندر سے جس قدر بھی ٹوٹ جائے مگر ضبط کی ڈور ایسے تھامے رکھتی ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ آنکھ میں آنسو آ بھی جائیں تو اندر اتار لیتی ہے۔ کوئی ان آنسوؤں کو دیکھ لے تو ”تھکن ہے“…”نیند پوری نہیں ہوئی“ جیسی باتیں کر کے خود کو خوش ثابت کر لیتی ہے۔
مگر یہ عورت پھر بھی ایک ایسی نگاہ کی منتظر رہتی ہے جو یہ جان لیں کہ آنکھیں ”تھکن“ سے لال ہیں یا ”ضبط“ سے۔

یہ بھی پڑھیں:   عورت - ظالم بھی مظلوم بھی

یہ موضوع میں نے ابھی تک فیسبک پر نہیں دیکھا تو اس پر قلم اٹھا کر صرف اپنے اساتذہ کو متوجّہ کرنا مقصد ہے۔ جو حالات و واقعات نظر سے گزرے یا جو سنے وہی ذکر کر دیے۔

تفصیل کے لئے امیدیں اساتذہ سے لگا بیٹھا ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کے یہ اہم موضوع ہے۔ اور خاندانوں کی بنیاد اس موضوع پر ہے۔

چار قسطوں میں خلاصے کا بھی خلاصہ ذکر کر دیا ہے۔ جس میں کئی غلطیاں بھی ہونگی جو کسی صاحبِ نظر کی نظر سے گزرے تو آگاہ فرمادے۔ شکر گذار رہونگا۔

اللہ سے دعا ہے کہ اللہ یہ چھوٹی سی کاوش قبول فرمائے۔ اور تمام رشتوں کو سمجھنے کی پھر ان پر بخوشی عمل پیرائی کی توفیق بخشے۔

ختم شد

محمد عرفان السَّعید

(73 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں