عورت – ظالم بھی مظلوم بھی (تیسری قسط)

مظلومیت کی اتنی قسمیں اور بے شمار مثالیں دستیاب ہیں کہ اگر سب کی سب بیان کرنے چلے تو قسط وار سلسلہ طویل سے طویل تر ہوتا چلا جائے گا۔

ابھی دو اقساط ہی زیرِقلم آئیں تھی کہ ایک صاحبِ فراست نے بڑی عجیب مثال کے زریعے مجھے ایک مسئلے کی طرف راغب کیا…
ان کا کہنا ہے کہ بات مختصر کی جائے تو ”اثر“ رکھتی ہے وگرنہ ”خسر“ رکھتی ہے۔ اور انہوں نے ایک بڑے مہذب لفظ سے مثال بھی دی جسے یہاں زکر کرنا نا مناسب ہے۔
اس لیے بات مختصر کر کے بجائے آٹھ کے چار قسطوں پر تکمیل کرینگے۔

گزشتہ دو اقساط میں جتنا ہو سکا اختصار کرتے ہوئے اور انتہائی آسان و سادہ الفاظ استعمال میں لاتے ہوئے آپ تک باتیں پہنچائی۔

مظلومیت پر اکتفا کرتے ہوئے نظر دوڑائی ظلم کی طرف تو دور دور تک ظالم عورت نا ملی۔ ما سوا "انڈین" ڈراموں کے۔

پھر چند قابل دوستوں سے پوچھ تاچھ پر کچھ معلومات ملیں۔
کسی نے ساس بتایا تو کسی نے بہو۔ ہر ایک نے اپنا نظریہ بیان کیا۔

میرا نظریہ یہ ہے کہ کوئی بھی مظلوم ایک حد تک ظلم سہتا ہے۔
ظلم سہہ سہہ کر وہ ظالم کے ہر رویے سے باخبر ہوتا چلا جاتا ہے۔ اور پھر اس دن کا انتظار بڑی شدت سے کرتا ہے کہ کب اُسے کوئی عہدہ ملے اور وہ گُر آزمائے جو اس پر ایک عرصہ آزمائے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:   ٹھگ بھائیوں سے گزارش

چند ناکام ہوتے ہیں تو چند کامیاب !!
کوئی مظلومیت میں ہی مر جاتا ہے اور کوئی ظالم بن کر۔
جو مر گئے ان کے متعلق لکھنا گڑھے مردے اکھاڑنے کے برابر ہے۔

میری نظر سے نا ساس ظالم نا بہو۔ نا دیورانی نا جیٹھانی۔

میں نے ایسی ساسیں بھی دیکھی جو خود بھوکی سوئی اور بہو کو سیراب سلایا۔
اس میں کوئی شک نہیں کے ساس اور بہو بدنام لفظ کے ساتھ ساتھ بدنام رشتہ بھی ہے۔
کہیں جز سے کل مراد لینا بہتر ہوتا ہے اور کہیں یہ قانون نہیں بھی چلتا۔
اور یہاں بھی جز سے کل مراد لینا میرے خیال سے ٹھیک نہیں۔ قاعدہ کلیہ یہ نہیں۔

ظالم عورتوں میں چند وہ ہیں جن کی شادی انکی مرضی سے نہ ہوئی، کچھ وہ ہیں کہ جن کے شوھر دوسری جگہ منہ مارتے پھرتے ہیں۔ کچھ بھوک کی وجہ سے تو کچھ پیار و محبت کی پیاس سہتے سہتے ظالم کا روپ دھار بیٹھیں۔
ہر ایک کی الگ الگ تفصیل ہے۔ جسے بیان کرنے سے محسوس کرنا زیادہ بہتر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عورت - ظالم بھی مظلوم بھی (چوتھی قسط)

شادی مرضی سے نا ہونا کوئی آفت نہیں۔ یہ معاملہ زیادہ عورت کے ہاتھ میں ہے نا کہ مرد کے۔ اگر ہو بھی گئی شادی مرضی کے بغیر تو آپ اپنی مرضی بدل سکتی ہیں کچھ عرصہ آپ دل کو سائڈ پر رکھیں دماغ سے کام لیں تو یقیناََ آپکی مرضی رخ بدلے گی۔

بھوک کی وجہ سے مزاج سخت کر لینا بے وجہ ہے اور نقصان بھی عورت کا اپنا ہے۔ برداشت کا مادّہ پیدا کریں اور ساتھ ہی رب سے بھلائی کی امید برقرار رکھیں تاکہ زندگی عذاب ہونے کے بجائے ثواب ہوجائے۔

رہی پیار و محبت کی بات تو یہ قلبی معاملہ ہے۔ انسان کے بس میں نہیں۔ وہ خواتین جو پیار سے خود کو محروم سمجھتی ہیں انکے لیے ایک بہترین فارمولا یہ ہے کہ وہ زبردستی شوھر، بھائی، باپ، وغیرہ کے پیار کو نا جگائیں۔
بلکہ اپنی سیرت اور اپنی ذات میں اس قدر پیار اور نکھار پیدا کریں کے پیار و محبت دوڑ کر آپکے در پر حاضری دے۔

یہ بھی پڑھیں:   لوح محفوظ کے پروف ریڈرز

ایک بار حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے فرمایا۔

(لا تضربو اماء اللہ)
اللہ کی بندیوں کو مارا نا کرو۔

صحابہ تو پھر حضور کے دیوانے تھے۔ مارنا تو دور ڈانٹنا بھی چھوڑا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ عورتیں شیر ہوگئیں۔
پھر حضرت عمر نے آکر شکایت کی یارسول اللہ آپ نے مارنے سے روکا تو ہماری عورتوں نے مزاج ہی بدل ڈالا۔ پھر اللہ کے نبی نے فرمایا کہ تادیباََ تھوڑا بہت مار سکتے ہو۔

بے وجہ نا انصافی یا غلط برتاؤ عورت کرے یا مرد نقصان اگلی نسلوں کا ہوتا ہے۔ اور پھر نسل در نسل سلسلہ چل پڑتا ہے۔

جاری ہے

تحریر: محمد عرفان السعید

(52 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں